عدالتی نظام کی توسیع، مردوں کے ساتھ ساتھ قبائلی خواتین بھی خوش

افتخار خان

خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع میں عدالتی نظام کیلئے 907 آسامیوں کا اعلان کیا ہے پہلے مرحلے میں پشاور ہائیکورٹ جن میں پانچ خواتین سمیت 28 جج صاحبان تعینات بھی کرچکی ہے۔

25 فروری کو ان تعیناتیوں کے بعد عدالتی نظام کی فعالیت کیلئے پشاور ہائیکورٹ نے 27 فروری کو خیبر اور کرم کے دو کیسز کی سماعت سے انکار کرتے ہوئے انہیں متعلقہ ضلعی سیشن ججز کو منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

عدالتوں کی فعالیت پر قبائلی عوام کی اکثریت نے خوشی کا اظہار کیا جن کا کہنا ہے کہ قبل ازیں وہاں ایک غیرانسانی قانون ایف سی آر لاگو تھا جس کے تحت انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ سارے محکمے فرد واحد کے پاس تھے لیکن اب محکمے الگ الگ ہوجانے کے بعد انہیں حصولِ انصاف میں آسانی رہے گی۔

قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے رہائشی عامر رضا کہتے ہیں گزشتہ 15سالوں سے ان کے علاقے میں ایک اراضی تنازعہ چلا  آرہا ہے مقامی جرگہ پیسوں کے لالچ میں جس کا فیصلہ نہیں کر رہا تھا۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں عامر رضا کا کہنا تھا کہ اب کیس ایک عدالت لے کر گئے ہیں اور امید ہے کہ جلد کوئی فیصلہ آجائے گا۔

"تیراہ میں بااپ دادا کی امین پر تنازعہ چل رہا ہے، چند برسوں سے جرگہ نے ہمارے بےشمار دنبے نوش کیے تاہم کوئی فیصلہ نہیں کیا بس تاریخوں پہ تاریخیں دیتا رہا۔”

عامر رضا کے مطابق اب عدالت میں کیس جمع کررکھا ہے مخالف فریق کو نوٹس بھی ملا ہے اور انہیں پختہ یقین ہے کہ چار پانچ تاریخوں میں کیس کا فیصلہ ہوجائے گا۔

شمالی وزیرستان میں ایک فلاحی تنظیم چلانے والے بشیر نے بھی عامر رضا کی تائید اور جرگہ کی شفافیت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جرگہ زیادہ پیسوں یا طاقت کے ساتھ اثرورسوخ رکھنے والوں کے حق میں ہی فیصلہ کرتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جرگہ پر جو کوئی عنایات و نوازشات کرتا یا اس کا کوئی اور بس چلتا، جرگہ اسی کی طرف مائل ہوتا اور فیصلہ حقائق یا شواہد کی بنیاد پر نہ کرتا۔

بشیر نے الزام عائد کیا کہ جرگہ کے بعض مشران بکتے بھی تھے اور ایسے حالات میں غریب لوگ بہت متاثر ہوتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پرانے ایف سی آر نظام سے نوجوان زیادہ متاثر تھے، "نوکریاں آتیں تو بااثر لوگوں کی مرضی ہوتی کسی کو مروت میں دی تو کسی کو پیسوں کے عوض تاہم ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ ہوتی لیکن اب ایسے حالات میں نوجوانوں کیلئے عدالت کے دروازے کھلے ہیں۔

مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی عدالتی نظام کی بہت خوشی ہے۔

اس حوالے سے اورکزئی کی رہائشی اور حقوق نسواں کیلئے کام کرنے والی نوشین جمال کا کہنا تھا کہ عدالتی نظام سے خصوصی طور پر خواتین زیادہ مستفید ہوں گی کیونکہ قبائلی علاقوں میں مردوں کی نسبت خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں جن کے بیشتر مسائل جرگہ کے سامنے بھی پیش نہیں کیے جاسکتے۔

نوشین کے مطابق نئے نظام کے ثمرات سامنے آنے میں وقت ضرور لگے گا اس کے باوجود حالات میں بہتری کی توقع ہے خصوصاَ خواتین کیلئے۔

"قبائلی خواتین سے متعلق متعدد کیسز ٹربیونل میں پڑے ہیں تو عدالت نظام کے ساتھ اتنا تو ہوجائے گا کہ یہ موجودہ کیسز ترجیحی بنیادوں پر حل ہوجائیں گے۔”

"میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اورکزئی میں ایک شخص نے ذاتی معاملے پر اپنے ایک عزیز کو قتل کیا اور پھر گھر جاکر اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور دونوں پر ناجائز تعلقات کا الزام لگا دیا، تو ایسے حالات میں ملزم کو کوئی پہچنے والا نہیں تھا۔” انہوں نے بتایا۔

نوشین جمال سمجھتی ہیں کہ عدالتی نظام کی توسیع کے ساتھ کم ازکم اس طرح کے واقعات کی پرسش کی جائے گی۔

پشاور ہائیکورٹ نے قبائلی اضلاع میں عدلیہ کی فعالیت کیلئے 28 ججز تعینات کیے ہیں تاہم ان علاقوں میں جوڈیشل کمپلیکس نہ ہونے کی وجہ سے ججز ہر قبائلی ضلع کی بجائے اس کے ساتھ ملحقہ ضلع میں ڈیوٹی سرانجام دے رہےہیں، جیسے خیبر کے جوڈیشل افسران کیلئے پشاور، اورکزئی اور کرم کے ہنگو، شمالی وزیرستان بنوں، جنوبی وزیرستان ٹانک، مہمند چارسدہ جبکہ باجوڑ کے افسران کیلئے دیر اور تیمرگرہ میں بندوبست کیا گیا ہے۔

حکومتی ذرئع کے مطابق قبائلی اضلاع میں جوڈیشل کمپیکس کے باقاعدہ قیام کیلئے جگہوں کا انتخاب کیا جا چکا ہے تاہم ان کے قیام تک یہ عدالتیں بندوبستی علاقوں میں ہی قائم رہیں گی۔

پاراچنار سے تعلق رکھنے والی سکول ٹیچر شازیہ بی بی کہتی ہیں کہ عدالتی نظام کے ساتھ قبائلی خواتین کو انصاف کے حصول کا باقاعدہ ایک ذریعہ میسر آجائے گا تاہم ضروری ہے کہ یہ عدالتین جلد از جلد قبائلی اضلاع میں ہی قائم کی جائیں۔

"عدالتی نظام کی ہمیں خوشی ہے لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ کیس کیلئے ہنگو جاتے ہیں جو بہت مشکل ہے، ہر قبائلی ضلع میں عمارتیں ہیں تو چاہیے یہ تھا کہ جوڈیشل کمپلیکس بننے تک یہ عدالتیں وہیں قائم کی جاتیں۔” شازیہ نے کہا۔

عدالتی نظام سے قبل صدیوں تک قبائلی عوام اپنے مسائل اور تنازعات جرگہ کے ذریعے حل کراتے، بعض لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ قبائل کو اس جرگہ سسٹم سے نکالنے اور عدالتی نظام عام  ہونے میں وقت لگ سکتا ہے، دوسرے ان کے خیال میں قبائلی عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنے کیلئے بھی اقدامات ضروری ہیں۔

قبائلی عوام میں بعض کو یہ خدشات لاحق ہیں کہ عدالتی نظام کے ساتھ ان کا روایتی جرگہ سسٹم ختم ہوجائے گا تاہم قبائلی ضلع اورکزئی کے مشر ملک مثل خان ان خدشات کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ نہ صرف جرگہ سسٹم کو قانونی شکل مل جائے گی بلکہ اس میں استحکام اور شفافیت بھی آجائے گی۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں ملک مثل خان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح قبائلی علاقوں میں بھی ہر تھانے میں ڈی آر سی کے نام سے ایک جرگہ ققائم ہوگا اور کوشش کی جائے گی کہ کیس عدالت میں پیش کیے جانے سے قبل  وہیں حل کیا جاسکے۔

انہوں نے مزید کہا، "ڈی آر سی جرگہ میں نہ صرف ہر علاقے کے قبائلی عمائدین، علمائے کرام اور اساتذہ شامل ہوتے ہیں بلکہ اس میں خواتین اور نوجوانوں کی بھی باقاعدہ نمائندگی ہوتی ہے، دوسرے اس جرگہ کو قانونی حیثیت بھی حاصل ہوتی ہے۔”

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button