،،انضمام کے ثمرات دیکھ لو، خواتین بھی باہر نکل آئی ہیں،،

 

خالدہ نیاز

،،میرا انتخابات میں حصہ لینے کا مقصد یہی ہے کہ قبائلی اضلاع کی خواتین کو سیاسی عمل میں شامل کیا جاسکے اور انکی آواز کو سنا جا سکے کیونکہ انکی آواز کو سننے والا کوئی نہیں ہے،،

ان خیالات کا اظہارپی کے 106 خیبرضلع سے عوامی نیشنل پارٹی کی نامزد امیدوار ناہید آفریدی نے ٹی این این کے پروگرام بدلون کے پینل ڈسکشن میں کیا۔ خیال رہے کہ ناہید آفریدی قبائلی ضلع خیبر سے خیبرپختونخوا اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے والی ضلع کی تاریخ میں پہلی اور واحد خاتون امیدوار ہے۔

ناہید آفریدی کا کہنا تھا کہ میں جب قبائلی اضلاع میں خواتین کے پاس ووٹ مانگنے کے لئے جاتی ہوں تو وہ کہتی ہے کہ پہلے تو ہم سے کسی نے ووٹ نہیں مانگا کیونکہ قبائلی اضلاع میں مرد انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور وہ حجروں میں جاکر مردوں سے ووٹ مانگتے ہیں لہٰذا مرد گھر آکر خواتین کو بتا دیتے کہ فلاں امیدوار کو ووٹ ڈالنا ہے۔

ناہید آفریدی نے مزید کہا،، جب خواتین کو سیاسی عمل سے دور رکھا جائے گا، انکو نمائندگی نہ دی گئی تو اسی طرح انکے مسائل حل ہونے کے بجائے زیادہ ہوتے جائیں گے، میں چاہتی ہوں کہ خواتین کو اس بات پر آمادہ کروں کو وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور وہ بھی اپنی عقل وفکر سے کہ اس طرح وہ بھی اس سیاسی عمل کا حصہ بن جائے اور انکی بھی نمائندگی ہو،،

الیکشن مہم میں مشکلات کے حوالے سے ناہید آفریدی کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں پہلی بار ایک خاتون جب انتخابات میں حصہ لے رہی ہو اور ووٹ مانگ رہی ہو تو مشکلات تو ہونگے کیونکہ لوگ اس بات کو قبول نہیں کرپارہے کہ ایک خاتون کیوں الیکشن میں حصہ لے رہی ہے اور باقاعدہ مہم بھی چلا رہی ہے۔

انہوں نے کہا،، مگر مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ جب بھی میں خواتین کے پاس جاتی ہوں تو وہ بہت خوش ہوتی ہے، وہ کہتی ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ ایک خاتون بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے کیونکہ ایک خاتون کو ہم اپنے مسائل بتا سکتے ہیں اور وہ اسکو حل بھی کرسکتی ہے، مردوں کے پاس نہ ہی ہم جاسکتے ہیں، نہ انکو اپنے مسائل بتا سکتے ہیں اور نہ ہی وہ ہمارے مسائل حل کرسکتا ہے،،

ناہید آفریدی نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ کچھ لوگ انکے انتخابات میں حصہ لینے کو اچھا نہیں سمجھتے تاہم چند ایسے افراد بھی ہے جو انکو حوصلہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہاری طرح ہمارے گھر کی خواتین بھی انتخابات میں حصہ لیں گی اور وہ تبدیلی لانے کی بھی خواہاں ہیں۔

پینل ڈسکشن میں ٹرائبل یوتھ موومنٹ کی رکن اورضلع کرم سے خواتین کی مخصوص نشست کی امیدوار نائلہ الطاف بھی موجود تھی۔ نائلہ الطاف حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف سے منسلک ہے۔

قبائلی اضلاع میں انتخابات اور اس میں حصہ لینے کے حوالے سے نائلہ الطاف کا کہنا تھا کہ میں خود انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہ رہی تھی تاہم مجھے اپنے اردگرد کے لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں نے حوصلہ دیا کہ آپ بھی انتخابات میں حصہ لیں۔

نائلہ الطاف نے کہا،، میں نے ہمیشہ سنا تھا کہ ماں باپ لڑکیوں کو کہتے ہیں کہ یا تو ڈاکٹر بنو اور یا استانی بنو اور باقی جو شعبے ہے اس میں لڑکیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، میری ہمیشہ سے یہی کوشش ہوتی ہے کہ کچھ منفرد کام کروں تو میں پہلا قدم یہ اٹھایا کہ میں بزنس فیلڈ کی طرف آگئی، دوسرا قدم میں نے یہ اٹھایا کہ میں سیاست کی طرف آگئی کہ میں بتا اور دکھا سکوں لوگوں کو کہ صرف مرد ہی لیڈر نہیں بن سکتے بلکہ خواتین بھی لیڈر بن سکتی اور پالیسیاں بنا سکتی ہے،،

ایک سوال کے جواب میں ناہید آفریدی کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں میں خواتین کی موجودگی بہت ضروری ہے اور خواتین جو اسمبلیوں میں بیٹھی ہے وہ خواتین کے حقوق کے لئے بھرپور طریقے سے آواز بھی اٹھا رہی ہے یہ کہنا غلط ہے کہ ریزرو سیٹس پہ جو آتی ہے تو اسکی کوئی اہمیت نہیں ہوتی یا وہ کچھ کرنہیں پاتی۔

خاندان والوں کی جانب سے مخالفت کے حوالے سے ناہید آفریدی کا کہنا تھا کہ انکے دادا اور والد خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ رہ چکے ہیں تو اس وجہ سے انکا خاندان روشن خیال ہے اور انکو خاندان کی جانب سے کوئی مسئلہ نہیں ہے البتہ معاشرے کی طرف سے انکو مسائل درپیش ہے۔ ناہید آفریدی نے کہا کہ،، سوشل میڈیا پہ مجھے تنگ کیا جاتا ہے لوگ کہتے ہیں کی ایک خاتون آئی ہے اور ہمارے قبائلی نظام کو تبدیل کررہی ہے، بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ انضمام کے ثمرات دیکھ لو خواتین باہر نکل آئی ہیں،،

ناہید آفریدی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اب خواتین بھی سیاست میں آگئی ہے حالانکہ یہ تو اچھی بات ہے کہ اب قبائلی خواتین بھی سیاسی لحاظ سے باشعور ہوگئی ہے، میں کہتی ہوں جب آپ خواتین پر پانی لاسکتے ہیں، ایندھن اکٹھا کرسکتے ہیں باقی کام کرواسکتے ہیں تو فیصلہ سازی کا حق کیوں نہیں دے سکتے؟

انہوں نے کہا کہ مرد یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ خواتین لیڈرشپ رول میں آئیں کیونکہ اس سے انکے اختیارات کم ہوجائیں گے لیکن جو بھی ہو ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں نائلہ الطاف نے کہا کہ اس بار وہ پر امید ہے کہ خواتین انتخابات میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں گی اور اپنی مرضی سے اپنا ووٹ ڈالیں گی ناکہ گھر کی سربراہ کی مرضی سے۔

ناہید آفریدی نے کہا وہ خیبرضلع کے علاقہ تیراہ سے تعلق رکھتی ہے اور انہوں نے پشاور میں تعلیم حاصل کی ہے اور رہتی بھی وہیں ہے اگر وہ تیراہ میں ہوتی تو ان کے لئے بہت مشکل ہوتا کہ وہ انتخابات میں حصہ لیتی اور باقاعدہ مہم بھی چلاتیں۔ ،، میں اب جب یہاں پہ مہم چلاتی ہوں تو میرے ساتھ بچے بھی بیٹھے ہوتے ہیں اور خواتین بھی تو شاید ان میں کچھ لوگ آگے جاکر لیڈر بن جائیں کہ انکو حوصلہ ہوگا کہ اسطرح ایک خاتون آئی تھی اور انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

مستقبل میں قبائلی اضلاع میں خواتین انتخابات میں حصہ لیں گی یا نہیں اس حوالے سے نائلہ الطاف کا کہنا تھا کہ خواتین کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا تاہم اگر خواتین ہمت کریں تو وہ تبدیلی لاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی بہت سارے قبائلی علاقے ہیں جو تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہے لیکن ہمت اور حوصلے سے لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں اپنے علاقے کرم کی بات کروں تو پہلے وہاں لوگ لڑکیوں کو تعلیم دینا اچھا نہیں سمجھتے تھے لیکن اب وہ اپنی لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے پشاور تک بھیجتے ہیں جوکہ تبدیلی کی طرف ایک قدم ہے۔

Show More
Back to top button