،،انضمام کے بعد ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر متعلقہ اضلاع کو منتقل کرنا بہت ضروری ہے،،

ناہید جہانگیر

،،ضلع خیبرکا ڈپٹی کمشنر جوکہ پہلے پولیٹیکل ایجنٹ ہوا کرتا تھا وہ پشاور میں بیٹھا ہوتا تھا، اسی طرح باقی قبائلی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز بھی دوسرے علاقوں میں ہوتے تھے اب انکو حکومت کی طرف سے حکم ملا ہے کہ اپنے اپنے اضلاع میں دفاترکھولیں تو یہ ایک اچھا اقدام ہے،،

ان خیالات کا اظہارضلع مہمند کے بارکونسل کے صدر گل رحمان ایڈوکیٹ نے ٹی این این کے پروگرام بدلون کے پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔ پینل ڈسکشن میں تنظیم اہل سنت و الجماعت کے خیبرضلع کے ارکان مجیب اللہ شنواری اور شفیق شنواری بھی موجود تھے۔

گل رحمان ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر اپنے اپنے علاقوں کو منتقل ہونے سے لوگوں کو بہت سے فوائد مل جائیں گے، ایک تو یہ ہوگا کہ پہلے لوگ دور جاتے تھے تو انکا کرایہ زیادہ لگتا تھا اب انکا کرایہ کم لگے گا اس کے علاوہ لوگوں کو جلد انصاف بھی ملے گا۔

انہوں نے کہا،، ہمارے جو بارکونسل ہیں وہ ہرقبائلی ضلع میں اپنے لئے جگہیں ڈھونڈ رہی ہے اور وہاں کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، بارکمپلکس کی اگر بات کروں تو فی الحال مہمند اور باجوڑ کا عملہ اپنے متعلقہ علاقوں کو منتقل ہوچکا ہے جس میں سیشن جج، سینئرسول جج اور باقی عملہ شامل ہیں، انہوں نے اپنا کام بھی شروع کردیا ہے اگرچہ مشکلات ہے لیکن پھربھی ہم کوشاں ہیں کہ لوگوں کے مشکلات میں کمی لائیں،،

اس حوالے سے مجیب اللہ شنواری کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے حالات اب ملک کے باقی اضلاع سے بھی بہتر ہیں تویہ ضروری تھا کہ ڈپٹی کمشنرز اور باقی متعلقہ اداروں کے دفاتر اپنے علاقوں کو منتقل ہو۔ انہوں نے کہا،، انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کے لئےعدالتی نظام کو وہاں ہونا بہت ضروری ہے، آج بھی میں ایک کیس کے سلسلے میں جوڈیشل کمپلکس حیات آباد آیا تھا، وہاں میں نے دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ تعداد میں آئے تھے اور انکو بہت مشکلات درپیش تھے، اب دفاتر اور عدالتیں منتقل ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں کمی آجائیں گی،،

شفیق شنواری نے بھی حکومت کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ اگرچہ چند لوگ قبائلی اضلاع کے انضمام کے مخالف تھے تاہم زیادہ ترلوگ اس کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس نئے نظام کو اپنانا چاہتے ہیں تاہم قبائلی اضلاع میں نہ تو عدالتیں ہیں اور نہ ہی باقی ادارے جسکی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، لہذا حکومت کو چاہیئے کہ عدالتوں سمیت باقی ادارے بھی قبائلی اضلاع منتقل کئے جائیں۔

ایک سوال کے جواب میں مجیب اللہ شنواری نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں فیصلے جرگوں کے ذریعے کئے جاتے تھے، اب عدالتیں وہاں منتقل ہورہی ہے تو جرگوں کے حامی لوگ ضرور اس کی مخالفت کریں گے کیونکہ وہ لوگ شروع سے قبائلی اضلاع کے انضمام کی مخالفت کرتے آرہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ،، جرگوں سے لوگ اس لئے تھک گئے ہیں کہ جرگوں میں فیصلے ہونے کے بجائے لوگوں سے پیسے بٹورے جاتے تھے، جرگوں میں لوگوں کے مسائل حل نہیں کئے جاتے تھے،،

ڈپٹی کمشنرکی ذمہ داریوں اور اختیارات کے حوالے سے گل رحمان ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کے ضلع میں بہت سے فرائض ہوتے ہیں جیساکہ ڈومیسائل وغیرہ فراہم کرنا، دوسرے محکموں پرچیک اینڈ بیلنس رکھنا، ضلع میں جتنے مسائل ہونگے اس حوالے سے صوبائی حکومت کو اگاہ کرنا البتہ پہلے جرگوں میں انکا جو کردار ہوتا تھا اب عدالتی نظام آنے کے بعد انکا وہ کردارختم ہوگیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں جوڈیشل کمپلکس گرلز ڈگری کالج میں منتقل کیا گیا ہے اس حوالے سے مجیب اللہ شنواری کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمپلکس کے لئے الگ عمارت بنانی چاہیئے تھی کیونکہ کالج بھی تو وہاں کی اولین ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جرگہ مخلص ہوتو عدالتی نظام کی مدد کرسکتا ہے،، مثال کے طور پر دو فریقین کے درمیان کوئی تنازعہ ہے اور جرگہ کے ذریعے انکا تنازعہ حل ہوجائے پھر وہ وہی راضی نامہ عدالت لے کرجایا جائے تو اس سے عدالت کو بھی فیصلہ کرنے میں اسانی ہوگی، لیکن ضرورت اس بات کی ہے جرگہ مخلص ہو، دیوانی جو مقدمات ہیں وہ عدالتوں میں پچاس 50 سال تک چلتے ہیں اگر جرگہ کے ذریعے راضی نامہ ہو اور پھر وہ راضی نامے عدالت میں لے جائیں جائے تو اس سے مقدمات کے فیصلے جلد ہوسکتے ہیں،،

انہوں نے یہ بھی کہ ماضی میں قبائلی روسم ورواج کے تحت خواتین کے ساتھ ناانصافی نہیں کی گئی البتہ اب مردوں کی طرح خواتین کو بھی حق حاصل ہوگیا ہے کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے۔

اس حوالے سے گل رحمن ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ عدالتی نظام قبائلی اضلاع کو منتقل ہونے سے اب وہاں کی خواتین بھی اپنے حق کے لئے آواز اٹھا سکتی ہے، جائیداد میں حصے کے لئے عدالت سے رجوع کرسکتی ہے، اس کے علاوہ طلاق کے لئے بھی عدالت جاسکتی ہے اگرچہ ہمارے پختون معاشرے میں عام طور پر طلاق کی اجازت نہیں دی جاتی۔

انہوں نے کہا،، ہمارے ہاں اپنا ایک نظام موجود ہے جہاں گھریلو مسائل حجروں اور گھروں میں حل کئے جاتے ہیں تو میرا نہیں خیال کہ خواتین ایک فیصد بھی عدالتوں کا رخ کریں گی تاہم جو بھی اپنا مسئلہ عدالت لے کر آئے گی تو انکی ہم بھر پور مدد کریں گے،،

آخرمیں انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کے دفاترمتعلقہ اضلاع کو منتقل ہونے سے لوگوں کی مشکلات میں کمی آئے گی، لوگوں کو اپنی دہلیزپرڈومیسائل اور باقی دستاویزات ملنا شروع ہوجائیں گے، وقت کی بچت ہوگی اور اس کےعلاوہ انتظامی حکام جو اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے تھے اس میں بھی کمی واقع ہوجائے گی۔

Show More
Back to top button