سکولوں میں طالبات سے جھاڑو اساتذہ دلوا رہی ہیں یا حکومت؟

سلمٰی جہانگیر

سکول یونیفارم میں ملبوس جماعت سوم کی آٹھ سالہ طالبہ سارہ کو آج اپنی ٹیچر نے ہاتھ میں جھاڑو دی ہے اور آج اس کی ذمہ داری اپنی کلاس ہی نہیں سکول کے دیگر کمروں کی صفائی بھی ہے۔

سارہ پشاور کے نواحی علاقے ناگمان میں نیامی پرائمری سکول کی طالبہ ہے جہاں ستر طالبات کیلئے صرف پانچ استانیاں ہیں، سکول میں استانیوں کی ڈیوٹی کا چارٹ تو نہیں تاہم ہیڈ مسٹریس کے دفتر میں ایک چارٹ ضرور آویزاں ہے جس میں سکول کی صفائی کی ذمہ دار طالبات کے نام درج ہیں۔

نیامی پرائمری سکول میں صفائی، پانی بھرنے اور اس طرح کے دیگر کاموں کیلئے کلاس فور ملازم نہیں جس کی وجہ سے ٹیچرز طالبات سے یہ کام لے رہی ہیں۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا نے 2010 میں گرلز سکولوں سے خالہ اور بوائز سکولوں سے جمعہ دار کی آسامی ختم کردی تھی اور کہا تھا کہ ان آسامیوں پر موجودہ ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد مزید بھرتیاں نہیں کی جائیں گی نہ ہی نوتعمیرشدہ سکولوں کو یہ ملازمین دیے جائیں گے۔

اس حوالے سے سکول کی شازیہ نامی ٹیچر نے ٹی این این کو بتایا کہ خالہ کی عدم موجودگی کے باعث طالبات سے صفائی کا کام لینا ان کی مجبوری ہے۔

مس شازیہ کے مطابق ڈرتے ہوئے بچیوں سے صفائی کاکام کرواتی ہیں لیکن وہ واش رومز کی صفائی تو نہیں کرسکتیں، پرائمری سکول میں تو چھوٹی چھوٹی بچیاں ہوتی ہیں دوسرے ان کے والدین کی شکایت کا بھی خوف رہتا ہے، بعض مائیں شکایت کرتی ہیں کہ ان کی بیٹیوں کا یونیفارم اک دن بعد ہی میلا ہوجاتا ہے تو بعض کہتی ہیں کہ سکول ہی کچرے کا ڈھیر ہے یہاں صفائی کیوں نہیں ہوتی اور نہ ہی والدین کو کبھی یہ گوارا ہوگا کہ ان کی چھوٹی چھوٹی بیٹیاں پڑھنے لکھنے کی بجائے سکول میں صفائیاں کرتی پھریں۔

دوسری جانب سکول ہٰذا کی ہیڈ مسٹریس فلک ناز نے ٹی این این کو بتایا کہ گزشتہ چند سالوں سے سکول میں خالہ  نہیں جبکہ سکول میں ایسے بہت سارے کام ہیں جو سرف خالہ ہی کرسکتی ہے کیونکہ کلاس رومز تو طالبات صاف کریں کرلیں گی لیکن صحن اور سٹاف روم کی صفائی کون کرے گا۔

فلک ناز کے مطابق یہ بندش محکمہ تعلیم کی جانب سے نہیں بلکہ فنانس ڈپارٹمنٹ کے احکامات ہیں، امسال تو باقادعدہ ہمیں اگاہ کیا گیا کہ پہلے سے موجود ان ملازمین کی موت یا ریٹائرمنٹ کے بعد یہ آسامیاں مستقل طور پر ختم کی جارہی ہیں۔

ٹی این این ذرائع کے مطابق فنانس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ سکولوں کو ملنے والے اضافی فنڈز سے پرنسپل یا ہیڈ ماسٹر یومیہ یا ماہانہ تنخواہ پر خاکروب یا خالہ رکھ سکتے ہیں۔

تاہم فلک ناز کہتی ہیں کہ  پرائمری سکولوں کو 33 جبکہ مڈل سکولوں کو 39 ہزار سالانہ ملتے ہیں جس میں سکول کی مرمت، رنگ و روغن اور اس طرح کے دیگر اخراجات بمشکل تمام پورے ہوتے ہیں ایسے میں وہ  کیسے خاکروب یا خالہ رکھ سکتی ہیں، اس فند سے تو ان کی ماہانہ تنخواہ پوری ہونے سے رہی۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ سکولوں کو ملنے والے اضافی فنڈ سے اتنی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں، اضافی فنڈ سے جیسے تیسے کرکے سکول کی مرمت، چاک، چاٹ اور رنگ و روغن کاکام ہی مکمل کیا جاتا ہے۔

ایسے میں جب سکولوں میں خالہ یا خاکروب نہ ہوں تو ٹیچرز ان کے حصے کاکام بچیوں سے لینے پر مجبور ہی ہوں گی، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس فنڈ میں خاطرخواہ اضافہ کرے تاکہ طالبات کی توجہ صرف اور صرف پڑھائی پر پی مرکوز رہے۔

Show More
Back to top button