عنایت اللہ۔۔ جو اپنی طرح کے دیگر اپاہجوں کیلئے ایک مثال بننا چاہتے ہیں

پولیو سے متاثرہ قبائلی ضلع خیبر کے عنایت اللہ بھی کہتے ہیں کہ معذوری کی وجہ سے انہیں قدم قدم  پر مشکلات درپیش ہوتی ہیں اور انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی بہت مشکل ہے۔

افتخار خان

 کھیل کود کا شوق بہت تھا اور جب کبھی اپنے ہم عمر لڑکوں کو کھیلتے کودتے دیکھتا تو دل بہت اداس ہوجاتا لیکن کر میں کچھ بھی نہیں سکتا تھا والدین نے بچپن میں انسداد پولیو کے قطرے نہیں پلائے تھے جس کی وجہ سے دونوں پیروں سے معذور ہوگیا ہوں‘۔

یہ احساسات جمرود کے تیس سالہ رہائشی عنایت اللہ پردیس کے ہیں۔ عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ انکے والدین اپنے کیے پر نادم بہت ہیں لیکن اب پانی سر سے گزر گیا ہے۔

"امی ابو کہتے ہیں کہ  اب اگر حفاظتی قطروں سے ان کے بیٹے کی معذوری ختم ہوسکتی ہے تو وہ ایک قطرے کے پانچ لاکھ روپے تک دینے کو تیار ہیں‘ ، ٹی این این کیساتھ بات چیت کے دوران عنایت اللہ نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔

 عنایت اللہ کے بچپن کے وقت قبائلی علاقوں میں حالات پر امن تھے لیکن اسے انسداد پولیو کے قطرے نہ پلانا اس کے والدین کی کج فہمی تھی۔

دوسری جانب قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے دوران دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں پولیو کیخلاف جاری مہم کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

محکمہ صحت اور انسداد پولیو ادارے کے مطابق قبائلی علاقوں میں 2011 تا 2015 پولیو کے حوالے سے بدترین سال تھے کہ اس دوران وائرس رکنے کی بجائے پھیلتا جارہا تھا  اور اس کا خاتمہ ایک بڑا چیلینچ بن گیا تھا۔

پولیو ٹیموں پر شدت پسندوں کی جانب سے حملے، بدامنی سے متاثرہ علاقوں تک ٹیموں کی رسائی میں مشکلات اور پولیو قطروں سے متعلق عوام میں غلط فہمیاں ان علاقوں میں پولیو وائرس کے پھیلنے کی بڑی اور بنیادی وجوہات تھیں۔

امن کی بحالی کے بعد قبائلی علاقوں میں پولیو وائرس پر بھی کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران صرف تین بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی جن میں سے ایک کا تعلق قبائلی ضلع خیبر سے جبکہ دو کا باجوڑ سے ہے۔

قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن قدرت اللہ پولیو کے وائرس پر کافی حد تک قابو پانے کا سہرا محکمہ انسداد پولیو کے سر باندھتے ہیں ٹی این این کیساتھ گفتگو میں جن کا کہنا تھا کہ باڑہ میں لوگ دور دور پہاڑوں میں آباد ہیں لیکن اس کے باوجود دھوپ ہو کہ بارش پولیو کی ٹیمیں ان بچوں تک پہنچیں ہیں اور اسے اپنا قومی فریضہ سمجھا ہے۔

اسی طرح قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے قبائلی مشر اقبال مومند کہتے ہیں کہ حکومت اور پولیو ٹیموں کے ساتھ ساتھ پولیو کی روک تھام میں مقامی آبادی اور عمائدین یا مشران نے بھی ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔

’”ماضی میں بعض قوتوں کی جانب سے مقامی آبادی میں انسداد پولیو کے قطروں سے متعلق بڑے غلط نظریات پھیلائے جاتے کہ یہ مغرب کی سازش ہے مقصد جسکا مسلمانوں کی نسل کشی ہے اور یا یہ کہ ان قطروں میں بعض حرام اجزاء شامل کیے گئے ہیں لیکن اب لوگ باشعور ہیں جنہوں نے ان قوتوں کو اس شکل میں جواب دیا ہے کہ اب پولیو ٹیموں کا وہ بڑی خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ہیں۔” اقبال مہمند نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقامی مشران یا عمائدین کاتعاون حاصل نہ ہو تو پولیو کی ٹیمیں اب بھی بچوں کو قطرے نہیں پلا سکتیں۔

محکمہ انسداد پولیو قبائلی اضلاع (ای پی آئی) کے مطابق بدامنی کے دوران پولیو ٹیموں کو نہ صرف مقامی آبادی کی مخالفت کا سامنا تھا بلکہ شدت پسندوں کی جانب سے بھی ان کی زندگیاں خطرے میں تھیں۔

محکمے کے ٹیکنیکل فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں اب تک چالیس کے قریب افراد جاں بحق ہوئے جن میں پولیو ورکرز کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹر ندیم کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیو وائرس پر قابو پانے میں عام پولیو ورکر کا بڑا کردار رہا ہے کیونکہ کیونکہ انہیں دیا جانے والا معاوضہ بھی بہت کم ہوتا ہے لیکن وہ قومی فریضے کے طور پر یہ ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

ٹی این این کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ندیم نے کہا کہ پولیو قطروں سے متعلق گمراہ کن نظریات کے خاتمے میں قبائلی عمائدین، علماٗ کرام، اساتذہ اور اس طرح دیگر بااثر شخسیات نے ایک مثبت کردار ادا کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بدامنی کے دوران پولیو کیسز کے زیادہ تعداد میں سامنے آنے کی وجہ یہ تھی کہ پولیو کی ٹیمیں تمام بچوں تک نہیں پہنچ پاتی تھیں جس کی وجہ سے یہ وائرس پھیلتا جارہا تھا۔

’ 2014 سے قبل قبائلی علاقوں میں ہم سے دو لاکھ کے قریب بچے پولیو کے قطروں سے رہ جاتے تھے لیکن اب بچ جانے والے بچوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔’ ڈاکٹر ندیم نے کہا۔

ڈاکٹر نے واضح کیا کہ پولیو وائرس سے متاثرہ بچہ تمام عمر معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔

پولیو سے متاثرہ قبائلی ضلع خیبر کے عنایت اللہ بھی کہتے ہیں کہ معذوری کی وجہ سے انہیں قدم قدم  پر مشکلات درپیش ہوتی ہیں اور انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی بہت مشکل ہے۔

انہوں نے کہا، ’ ہم عام لوگوں کی طرح زندگی بسر نہیں کرسکتے، ہمیں گاڑی چڑھنے اترنے، دوستوں کیساتھ باہر جانے میں، یاری دوستی نبھانے میں، اٹھک بیٹھک میں اور یہ کے اپنا گھر بسانے کے سلسلے میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے  اور دوسرا یہ کہ ہمارا معاشرہ بھی تو معذوروں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔‘

بقول عنایت اللہ میرے اپاہج ہونے کے بعد والدین کو میری تکالیف کا اندازہ تھا یہی وجہ ہے کہ ٖغربت اور مشکلات کے باوجود مجھے بارہویں جماعت تک تعلیم دلوائی اور اب میں برسرِ روزگار ہوں۔

 عنایت اللہ آج کل محکمہ انسداد پولیو کی جانب سے اپنے علاقے کے لوگوں میں انہی قطروں سے متعلق شعور اجاگر کرتے ہیں جبکہ خود انہیں بھی اس بات کا احساس ہے کہ ان کی معذوری کے خاتمے کا چونکہ کوئی امکان نہیں تو ان کی کامیابی اسی میں ہے کہ یونہی بہتر انداز میں اپنی زندگی آگے لے کر جائیں اور دیگر معذوروں کیلئے ایک نظیر بن جائیں۔

 

Show More
Back to top button