صحت انصاف کارڈ: جنگ سے متاٗثرہ قبائلی عوام کے زخموں پر مرہم لگانے کی ایک کوشش

وفاقی حکومت نے گزشتہ ماہ صحت انصاف کارڈ کا دائرہ کار قبائلی اضلاع تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق قبائلی ضلعوں میں صوبے کی طرز پر لوگوں کو صحت انصاف کارڈ مہیا کیا جایئگا جس پر یہ لوگ مختلف سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج و معالجہ کرینگے

صحت انصاف کارڈ خیبر پختونخواہ حکومت نے 2016 میں متعارف کیا تھا جس میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے ڈھائی لاکھ گھرانوں کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ ماہ صحت انصاف کارڈ کا دائرہ کار قبائلی اضلاع تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق قبائلی ضلعوں میں صوبے کی طرز پر لوگوں کو صحت انصاف کارڈ مہیا کیا جایئگا جس پر یہ لوگ مختلف سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں مفت علاج و معالجہ کرینگے۔

قبائلی عوام مفت علاج کی سہولت پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان لدھا تحصیل کے رہائشی  خانزیب محسود کا کہنا ہے کہ قبائلی عوام کو صحت انصاف کارڈ ملنا انکے زخموں پر مرہم لگانے کے مترادف ہے، اسکا فائدہ تب ہوگا جب لوگوں کو مقامی سطح پر علاج کے لئے سہولتیں مہیا کی جائیں۔

خانزیب نے ٹی این این کو بتایا ’ قبائلی علاقوں میں صحت کے مراکز تباہ ہوئے ہیں حکومت کو چاہیے کی صحت انصاف کارڈ کی سہولت دینے سے پہلے صحت مراکز کی بحالی پر توجہ دیں اور علاج کی مفت سہولت انکی دہلیز پر دی جائے‘

اس طرح کے خیالات کرم ضلع کی رہائشی اور ٹرائبل یوتھ مومنٹ کے عہدیدار نائلہ الطاف نے بھی ٹی این این کیساتھ شریک کی، لیکن انکو اندیشہ ہے کہ یہ کارڈ میرٹ پر تقسیم نہیں ہونگے۔ ’ صحت انصاف کارڈ کے لئے معیاری سروے کیا جائے، قبائلی علاقوں میں اسی فیصد لوگ علاج کی طاقت نہیں رکھتے، صحت انصاف کارڈ مستحق افراد کو دیا جائے۔‘

نائلہ الطاف کا کہنا ہے کہ ایسے افراد رضا کارانہ طور پر کارڈ لینے سے انکار کر لیں جو علاج کی طاقت رکھتے ہیں، اور مستحق افراد کو کارڈ دیئے جائیں۔

اورکزئی ضلع کے رہائشی آمیر اورکزئی کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ صحت انصاف کارد قبائلی علاقے کے ہر گھرانے کو دی جائے کیونکہ دہشت گردی خلاف جنگ میں قبائلی علاقوں کے تمام لوگ بری طرح متاٗثر ہوئے تھے۔ اور اب انکا حق ہے کہ انکو سہولت دی جائے۔

امیر اوکزئی کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث قبائلی لوگوں کے روزگار ختم ہوئے انکے ہسپتالیں، تعلیمی ادراے اور گھر بار تباہ ہوئے حکومت نے انکے بحالی کے لئے ایسے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جو قابل تعریف ہوں۔

’ اب آگر حکومت تمام قبائلی عوام کو مفت علاج کی سہولت مہیا کرتی ہے تو انکی مشکلات کا ایک حد تک آزالہ ہوجائیگا۔‘

مسلم لیگ کی حکومت نے بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح  قبائلی اضلاع باجوڑ اور خیبر میں لوگوں کو وزیر اعظم صحت کارڈ کے تحت مفت صحت کی سہولیات مہیا کی تھیں۔

وزیراعظم صحت کارڈ کے بارے میں باجوڑ ہیڈکواٹرہسپتال کے ڈاکٹر رشید خان کا کہنا ہے کہ اس کارڈ سے لوگوں نے کوئی خاص فائدہ اٹھایا کیونکہ یہ کارڈ مخصوص آمراض کے علاج کے لئے تھا اور اسکا دائرہ کار بھی محدود تھا۔

ڈاکٹر رشید کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کارڈ بعض مخصوص بیماریوں جیسے یرقان، امراض قلب اور دیگر خطرناک بیماریوں کے لئے مختص تھا اور دوسرا یہ کہ مریض علاج اپنے پیسوں پر  کرتا تھا اور بعد میں ایک طویل عمل کے بعد انکو یہ پیسے ملتے تھے۔

ڈاکٹر رشید کے مطابق وزیر اعظم کارڈ کی جگہ صحت انصاف کارڈ کافی بہتر اور سودمند ہے۔

Show More
Back to top button