قبائلی اضلاع میں ٹیلنٹ زیادہ، گراونڈز کم

عثمان خان

،،میں خود مہمند ضلع سے تعلق رکھتی ہوں پر رہتی پشاور میں ہوں، جہاں تک مجھے پتہ ہے قبائلی اضلاع کے لوگوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے تاہم وہ سہولیات سے دور رہے ہیں، اب جب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ قبائلی اضلاع میں سب ڈویژن کی سطح پر کھیل کے میدان بنائے جائیں گے تو یہ ایک اچھی کاوش ہے،،

ان خیالات کا اظہار لان ٹینس میں خیبرپختونخوا کی نمبر ون کھلاڑی اورین جاسیہ نے ٹی این این کے پروگرام منزل پہ لور کے پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔ پینل ڈسکشن میں قبائلی ضلع خیبرسے تعلق رکھنے والا سپورٹس صحافی حفیظ اللہ، سابقہ ایف آر بنوں سے تعلق رکھنے والا فٹبال کا کھلاڑی نوید خان، کراٹے کھیلنے والا ضلع خیبرکا کھلاڑی جابر آفریدی اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والا تائیکوانڈو کا کھلاڑی محمد فاروق بھی شامل تھا۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے رواں سال کی بجٹ میں قبائلی اضلاع کے لئے 11 ارب روپے مختص کئے ہیں، اس بجٹ سے دوسری ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ 25 قبائلی سب ڈویژن میں کھیل کے میدان بھی بنائے جائیں گے۔

صحافی حفیظ اللہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ حکومت یہ اقدام بہت اچھا ہے کیونکہ قبائلی عوام نے ایف سی آر کی وجہ سے بہت سی محرومیاں دیکھی ہے اب جبکہ قبائلی اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہوچکا ہے تو اگرچہ سابقہ فاٹا کے لئے بجٹ کم بھی رکھا گیا ہے لیکن کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔

انہوں نے کہا،، اب حکومت نے یہ جو سپورٹس گراونڈز اور کمپلکس کے لئے جو فنڈ مختص کیا ہے تو اس سے ہم خوش ہیں کیونکہ آنے والی نسل اور کھلاڑیوں کے لئے اس سے گراونڈز بنے ہونگے،،

ایک سوال کے جواب میں فٹبال پلیئر نوید کا کہنا تھا کہ چند قبائلی علاقوں میں پہلے سے کھیل کے میدان موجود ہیں لیکن کچھ پسماندہ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں کھیل کے میدان یا سٹیڈیئم موجود نہیں ہے تو اس اقدام سے ان کھلاڑیوں کو بھی میدان مل جائیں گے جن میں ٹیلنٹ تو ہے لیکن انکے پاس گراونڈز اور سٹیڈیئم نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا،، اگر میں اپنے علاقے سابقہ ایف آر بنوں کی بات کروں تو وہاں پر کھلاڑیوں کے لئے گراونڈ موجود نہیں ہے، ابھی تک کھلاڑی پتھروں میں کھیلنے پرمجبور ہیں، جب یہ گراونڈز بن جائیں گے تو یہ کھلاڑی بہت آگے آجائیں گے،،

اس حوالے سے تائیکوانڈو کے کھلاڑی محمد فاروق نے کہا کہ وہ بھی حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہیں، حکومت 6 کروڑ کے علاوہ 4 کروڑ اور بھی کھیلوں کے میدان کے لئے دے گی تو اگریہ واقعی میں کھیل کے میدانوں پرلگائے تو یقیننا اس سے قبائلی اضلاع کے کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچے گا۔

جابر آفریدی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں گراونڈز بننے سے کھلاڑیوں کو بہت فائدہ پہنچے گا، گراونڈز بننے سے قبائلی اضلاع میں کھیلوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور اگر بات کی جائے ٹیلنٹ کی تو وہ سب سے سامنے ہے کہ سہولیات نہ ہونے کے باوجود قبائلی کھلاڑیوں نے اپنا لوہا منوایا ہے۔

حفیظ نے کہا کہ اگر ایک طرف دیکھا جائے تو یہ رقم بہت کم ہے جس سے سپورٹس گراونڈ کا دیوار بھی نہیں بن سکتا تاہم حکومتی اراکین کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ آنے والے وقتوں میں اور بھی بڑھے گا اور اس کو مختلف اضلاع میں تقسیم کیا جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت نے کہا ہے کہ اس سے لنڈی کوتل، باڑہ، مہمند اور باقی جگہوں میں گراونڈز بنائے جائیں گے لیکن لگتا نہیں ہے اس بجٹ سے یہ تمام کھیل کے میدان بن جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں اورین جاسیہ نے کہا کہ وہ ملکی سطح پر کھیلنے کے علاوہ باہر کے ممالک میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کرچکی ہے اور ٹرافیاں جیت چکی ہے۔ انہوں نے کہا قبائلی لڑکیاں گیمز نہیں کھیلتی تاہم انکو بھی چاہئے کہ وہ کھیل کے میدان میں بھی آئیں۔

محمد فاروق نے کہا کہ قبائلی اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد وہاں کے سپورٹس ایسوسی ایشن میں واضح تبدیلی نہیں آئی پہلے جیسے سپورٹس ایسوسی ایشنز کی میٹنگز ہوتی تھی اب بھی ویسے ہی انداز میں کام جاری ہے تاہم اب ہم نے کوشش شروع کی ہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ انٹرنیشنل کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلیں۔

اورین جاسیہ نے کہا،، میں 2018 میں مہمند ضلع گئی تھی تو وہاں میں نے دیکھا کہ کھیل کے حوالے سے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے لیکن وہاں پر جو ٹیلنٹ میں نے دیکھا وہ میں بیان نہیں کرسکتی، گلیوں میں کھیلنے والوں میں بھی بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، میں وزیرستان بھی گئی وہاں بھی ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں تاہم سہولیات کی بہت کمی ہے،،

نوید خان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں یونس خان سٹیڈیئم تو موجود ہے تاہم رزمک اور شوال جو بڑے علاقے ہیں وہاں بھی کھیل کی سہولیات نہیں ہیں، جانی خیل اور بکاخیل میں بھی کھیل کے میدان نہیں ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں کھیل کی سہولیات کے حوالے سے محمد فاروق کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں بھی کھیلوں کے گراونڈز کی کمی ہے، وانا میں فٹبال کا گراونڈ موجود ہے جہاں کھیلوں کی سرگرمیاں ہوتی ہے تاہم پھربھی اگر گراونڈ کی تعداد زیادہ ہوجائیں تو اس سے کھلاڑیوں کو فائدہ ملے گا۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button