کے پی ایمپکٹ چیلنج پروگرام قبائلی نوجوانوں کی قسمت بدل سکتا ہے.

خالدہ نیاز

،،کے پی ایمپکٹ چیلنج پروگرام حکومت نے خصوصی طورپر ان نوجوانوں کے لئے شروع کیا ہے جو کاروبارکرنا چاہتے ہیں یا ان کے پاس کوئی آئیڈیا موجود ہوتاہم سرمایہ نہ ہو، اس پروگرام کے ذریعے 2 لاکھ سے لےکر20 لاکھ تک روپے کا گرانٹ فراہم کیا جاتا ہے،،

ان خیالات کا اظہار کے پی ایمپکٹ چیلنج پروگرام سے استفادہ کرنے والی پشاور کی صحافی صدف خان نے ٹی این این کے پروگرام منزل پہ لور کے پینل ڈسکشن میں کیا۔ پینل ڈسکشن میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والا تاجر اور سماجی کارکن نورحسن وزیربھی شریک تھے۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ کے دوران کے پی ایمپیکٹ چیلنج پروگرام قبائلی اضلاع میں بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو باقی اضلاع میں پچھلے دو سال سے شروع ہے۔ کے پی ایمپیکٹ چیلنج پروگرام میں صوبائی حکومت ان بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو 2 سے 20 لاکھ روپے تک کا گرانٹ دے گی جن کے پاس نئے کاروبار کے لئے آئیڈیاز موجود ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں صدف خان کا کہنا تھا کہ یہ ایک کامیاب پروگرام ہے کیونکہ ملک کے دوسرے علاقون کی نسبت خیبرپختونخوا میں پہلے کاروبارکی طرف نوجوانوں کی توجہ نہیں تھی لیکن اب نوجوان بھی اس پروگرام کے ذریعے اپنا کاروبارکررہے ہیں۔ انہوں نے کہا،، پہلے یہ ہوتا تھا کہ تعلیم یافتہ نوجوان نوکریوں کے پیچھے پھرتے تھے یاپھر انکے والد کا جو کاروبار ہوتا تھا اس میں ان کا ہاتھ بٹاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے اب نوجوان اپنے آئیڈیاز کی بنیاد پراپنا کاروبار چلارہے ہیں، اس پروگرام کے تحت قریبا 200 لوگ اپنا کاروبار چلا رہے ہیں،،

یہ پروگرام قبائلی اضلاع کے لئے کتنا ضروری ہے؟ اس حوالے سے نور حسن کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں بدامنی کا جو دور تھا اس کی ایک وجہ غربت بھی ہے، ایک اچھے اور جرائم سے پاک معاشرے کے لئے ضروری ہے کہ وہاں غربت کا خاتمہ کیا جائے تو یہ پروگرام قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کی قسمت بدل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا،، قبائلی اضلاع میں اس سے پہلے بھی کچھ پروگرام متعارف کروائے گئے تھے لیکن انکا طریقہ کاربہت مشکل تھا اگراس پروگرام میں نوجوانوں کے لئے آسانیاں پیدا کی گئی تو اسکے ایسے نتائج سامنے آسکتے ہیں جس سے دنیا حیران رہ جائیں گی کیونکہ ہمارے لوگوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے صرف احساس کمتری کا شکارہیں،،

حکومت کن آئیڈیاز کو ترجیح دیتی ہے؟ اس حوالے سے صدف خان کا کہنا تھا جو آئیڈیاز نئے اور مختلف ہو تو انکو گرانٹ ملنے کا چانس زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک انہوں نے دیکھا ہے تو زیادہ توجہ خوراک سے متعلق کاروبار کو ملتی ہے، اس کے علاوہ ایسی خواتین کو بھی ترجیح دی جاتی ہے جنہوں نے کاروبار شروع کررکھا ہولیکن ان کے پاس سرمایہ نہ ہو اور وہ پہاڑی علاقوں میں مقیم ہو۔

صدف خان نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا،، زیادہ ترلوگ یہ گلہ کرتے ہیں کہ انکی آئیڈیاز کو مالی امداد کے لئے منتخب نہیں کیا گیا لیکن میں یہ بات کہنا چاہوں گی کہ کے پی ایمپکٹ چیلنج پروگرام میں سفارش بالکل نہں چلتی، یہ آپکے آئیڈیا پہ منحصرہے کہ آپ کا آئیڈیا کتنا اچھا ہے، آپ نے تربیت میں کس طرح حصہ لیا ہے اور آپ کا آئیڈیا کتنا قابل عمل اور منفرد ہے،،

کونسے آئیڈیاز مسترد ہوتے ہیں اور کیوں؟ اس سوال کے جواب میں صدف کا کہنا تھا کہ اس کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہے، سب سے پہلے تو یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے فارم پرکیا ہوتا ہے انکو مارکیٹ میں موجود چیزوں کی قیمتوں کا بھی پتہ نہیں ہوتا، دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی آئیڈیا دیتا ہے تو اس کا کام صرف آئیڈیا دینا نہیں ہوتا بلکہ جس علاقے میں وہ کام کرے گا اس علاقے کے بارے میں معلومات ہو، لوگوں کو اس کاروبار سے کیا فائدہ پہنچے گا اس حوالے سے بھی بتانا ہوتاہے تو اگر وہ یہ بتانے میں ناکام رہے تو ممکن ہے اس کا فارم مسترد ہو۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس کاروبارسے بعد میں آپکو کوئی فائدہ پہنچے گا کہ نہیں۔

انہوں نے کہا ایک شخص ایک وقت میں دو فارم پرکرسکتا ہے جس میں وہ دو آئیڈیاز شیئرکرسکتا ہے۔ صدف خان نے کہا،، میں نے خود دو آئیڈیاز دیئے تھے اور جس منفرد آئیڈیا سے مجھے امید تھی کہ وہ منتخب ہوجائے گا وہ منتخب نہیں ہوا جس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں کچھ مشکلات درپیش تھے جس کا اب مجھے اندازہ ہورہا ہے کہ اگرواقعی یہ آئیڈیا منتخب ہوجاتا تو اب میں اس کو کرنہ پاتی جبکہ میڈیا سے متعلق جو میرا آئیڈیا تھا جس میں میرا تجربہ بھی ہے،،

مارکیٹ چیلنجز کے حوالے سے صدف خان نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب میں نے آئیڈیا دیا تو مجھے مارکیٹ پرائس کا بالکل پتہ نہیں تھا،، میں نے بوتیک کا آئیڈیا دیا تھا تو مجھے کال آئی تھی کہ آپ جو کاروبارکرنا چاہتی ہے اسکی مارکیٹ میں قدر کیا ہے، اس کے علاوہ اگر کل کو آپ یہ کاروبار دوسرے شخص کو فروخت کرنا چاہتی ہے تو آپ اس کو کتنے میں بیچیں گی، کوئی اس میں دلچسپی لے گا بھی کہ نہیں اور یہ کہ جو رقم آپ نے بتائی ہے اس میں آپ شروع کرسکتی ہے کہ نہیں، آپ جو آفس لے گی یا جوکپڑے لاوگی اس کا اندازہ ہے کہ وہ کتنے پیسوں میں ہوجائے گا؟ اگر کوئی اس قسم کے سوالات کا تسلی بخش جواب دے پائے تو اس کا پہلا مرحلہ مکمل ہوجاتا ہے اور ممکن ہے اس کو گرانٹ بھی مل جائے،،

ایک سوال کے جواب میں نور حسن وزیر کا کہنا تھا کہ میرا تعلق تو وانا سے ہے جہاں پہ زیادہ ترلوگ چلغوزے کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور وہ لوگ چلغوزہ کو نکالنے کے لئے ایک بہت مشکل عمل سے گزرتے ہیں کیونکہ انکے پاس وسائل کی کمی ہے اور جو مشینیں ہیں وہ 10، 15 لاکھ سے کم نہیں ملتی، لوگ ان مشینوں کے لئے باہر کے لوگوں پر انحصار کرتے ہیں تو اس وجہ سے لوگ محنت کے باوجود چلغوزہ سے وہ پیسہ نہیں بناپاتے جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں تو اگر ان لوگوں کو مشینیں فراہم کردی جائیں تو اس سے ان لوگوں کو بہت فائدہ پہنچ سکتاہے۔ اس کے علاوہ اس گرانٹ سے وہاں کے لوگ دوکان سے لے کرڈیری فارم تک اپنا کاروبار شروع کرسکتے ہیں۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دوسرے علاقوں کی نسبت قبائلی خواتین سلائی کڑھائی اور زیورات وغیرہ بہت اچھا بنا سکتی ہے لیکن ان کے پاس مشینیں اور باقی سہولیات نہیں ہے اگر انکو سرمایہ اور باقی چیزیں مہیا کی جائے تو وہ نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے خاندان کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے اور خود کمائی کرنے کے قابل ہوسکتی ہے۔

نور حسن وزیر نے یہ بھی کہا کہ قبائلی اضلاع میں بے روزگاری بہت زیادہ ہے اور اس وجہ سے نوجوان باہرملکوں میں مزدوری کے لئے جاتے ہیں تو اگر انکو اپنے علاقے میں کاروبار کے لئے سرمایہ مل جائے تو اس سے انکو بہت فائدہ مل سکتا ہے۔

Show More
Back to top button