قبائلی اضلاع کے سرکاری سکولوں کی ابتر حالت کا ذمہ دار کون؟

ناہید جہانگیر

قبائلی اضلاع میں بدامنی، فوجی آپریشنز اور نقل مکانی کی وجہ سے جہاں دوسرے شعبوں کو نقصان پہنچا ہے وہی تعلیم اور سکول بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اگرچہ ٹی ڈی پیز کے واپس جانے کے بعد قبائلی اضلاع میں آبادکاری کا سلسلہ جاری ہےتاہم پھربھی وہاں تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے۔

قبائلی اضلاع میں سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے دوسرے اضلاع میں قائم ادارے انڈیپنڈینٹ مانیٹرنگ یونٹ کا دائرہ اختیار قبائلی اضلاع تک بھی بڑھا دیاہے۔ آئی ایم یو نے قبائلی اضلاع کے سرکاری سکولوں کے حوالے سے اپنا پہلا رپورٹ جاری کیا ہے جس کے مطابق قبائلی اضلاع میں سرکاری سکولوں کی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔

قبائلی اضلاع کے سرکاری سکولوں کی خراب حالت اور اس کے ذمہ دار عناصر کے بارے میں شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پرائیویٹ سکول کے استاد خیرزمان اور ٹرائبل یوتھ موومنٹ کی رکن گل رخ آفریدی نے ٹی این این کے پروگرام منزل پہ لور کے پینل ڈسکشن میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

خیر زمان نے اس حوالے سے کہا کہ اگر وہ اپنے علاقے کی بات کریں تو سب سے پہلے تو انکے اپنے علاقے میں نہ توپرائمری سکول ہے اور نہ ہی مڈل سکول ہے اور بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا،، باقی جو سکول شمالی وزیرستان میں ہیں وہاں پر زیادہ تر سکولوں کی چاردیواری نہیں ہے، باقی سہولیات بھی نہیں ہے کئی سکولوں میں، اساتذہ کی کمی ہے اور تو اور ہمیں تو یہ بھی رپورٹس ملی ہیں کہ بعض اساتذہ تنخواہیں لے رہے ہیں پر وہ دوبئی اور باقی ممالک میں رہائش پذیر ہیں اور ڈیوٹیاں نہیں کرتے،،

انہوں نے کہا کہ اگر صرف شمالی وزیرستان کی بات کریں تو بدقسمتی سے وہاں سرکاری سکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے، چاہے گرمی ہو یا سردی طالبعلم کھلے اسمان کے نیچے بغیر چھت کے بیٹھے ہوتے ہیں، نہ ہی سکولوں میں فرنیچر ہے اور نہ ہی پینے کے پانی کا کوئی بندوبست ہے اور نہ ہی طلباء کو دوسری سہولیات میسرہے۔

گل رخ آفریدی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وہ قبائلی اضلاع میں سرکاری سکولوں کو دی جانے والی سہولیات سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ وہ خود قبائلی اضلاع کے سکولوں کا دورہ کرچکی ہے جہاں انہوں نے دیکھا ہے کہ سکولوں میں بچوں کے لیے کوئی سہولت نہیں ہے۔

گل رخ آفریدی کا کہنا تھا،، تیراہ اور باقی دور افتادہ علاقوں کی بات چھوڑیں اگر خیبرکے قریبی علاقوں کی بات کی جائے تو وہاں بھی سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو سہولیات میسرنہیں ہے، میں بچوں کے والدین سے خود ملی ہوں جو چاہتے ہیں کہ وہ اپنی بچیوں کو بھی تعلیم دلوا سکیں مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ قبائلی اضلاع کے سرکاری سکول تو تباہ حال پڑے ہیں تو وہ کہاں جائیں اور پڑھیں؟،،

قبائلی اضلاع کے سرکاری سکولوں میں کن سہولیات کا فقدان ہے؟ اس سوال کے جواب میں گل رخ آفریدی کا کہنا تھا کہ سکولوں میں واش رومز نہیں ہے، پینے کا پانی نہیں ہے، بچے خیموں میں پڑھنے پرمجبور ہیں، سکولوں میں بجلی نہیں ہے اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سکولوں میں اساتذہ نہیں ہے اور اگر اساتذہ ہو بھی تو 10 بجے بچوں کو چھٹی دے دیتے ہیں، بدقسمتی سے خراب حالات کی وجہ سے ہمارا تعلیمی معیار 50 سال پیچھے چلاگیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں خیرزمان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں انگریز کے دور سے لے کر آج تک تعلیمی نظام تباہ ہے اور رہی سہی کثر بدامنی نے پوری کردی ہے، جو سکول فعال تھے قبائلی اضلاع میں وہ بھی غیر فعال ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا،، قبائلی اضلاع کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن بدقسمتی سے وہ سہولیات انکو میسر نہیں ہے جو انکو ملنے چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ قبائلی اضلاع میں میڈیکل کالجز بن جائے کہ ہماری بہنیں بھی ڈاکٹرز اور انجنیئرز بن جائے اور وہ اپنے لوگوں کی خدمت کرسکیں، ہم نے قبائلی اضلاع میں اصلاحات کو بھی اس لیے خوش آمدید کہا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوط ہوسکیں انکو وہ سہولیات مل سکیں جس سے ہم محروم رہے،،

انہوں نے کہا قبائلی اضلاع میں اب جو حکومت نے ویکنسیز کا اعلان کیا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر قابل اور مقامی لوگوں کو بھرتی کریں کیونکہ قبائلی اضلاع میں بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہے۔ انہوں نے کہا خود انہوں نے بھی ڈبل ماسٹر کیا ہے اور چاہتے ہیں کہ اپنے علاقے کی خدمت کریں لیکن وہاں پر انکو ایک سازگار اور سہولیات سے آراستہ ماحول چاہیئے کہ طلباء اچھے طریقے سے پڑھ سکیں کیونکہ جہاں چھت نہ ہو وہاں پڑھائی نہیں ہوسکتی۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button