،گرانٹ دینے کے لیے سمیڈا اپنی شرائط میں قدرے نرمی لائے،

 

عثمان خان

ضلع کرم میں متاثرین کے نقصانات کے ازالے اور انکے کاروبارکو فروغ دینے کے لیے سمیڈا اور باقی اداروں نے سروے کیا تھا لیکن کسی کو خاطر خواہ امداد نہیں دیا گیا، لوگ حکومتی امداد کے منتظرہیں،

ان خیالات کا اظہار ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے صحافی دلدار حسین نے ٹی این این کے پروگرام منزل پہ لور کے پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔ اس ڈسکشن میں قبائلی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی لبنیٰ حئی اور ضلع خیبر کے تاجر عبد الاحمد اور داود خان آفریدی بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ سمیڈا نے قبائلی اضلاع کے متاثرہونے والے تاجروں اور کاروباری افراد سے اپریل 2019 میں فارم جمع کئے ہیں جس کی جانچ پڑتال جاری ہے، سمیڈا اس منصوبے کے تحت متاثرہ تاجروں کو 55 کروڑ روپے تک تقسیم کریں گی۔

اس حوالے سے لبنیٰ حئی کا کہنا تھا کہ اگر قبائلی خواتین کی بات کی جائے تو انکے بھی چھوٹے موٹے کاروبار متاثر ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ انکے پاس معلومات تک نہیں ہے کہ وہ کہاں جائے اور کس سے مدد لیں۔

انہوں نے کہا ، سمیڈا کی جانب سے امداد دینے کے لیے جو معیار رکھا گیا ہے اس میں جو سامان لیا جائے اس کی رسیدیں دکھانا اور بینک اکاؤنٹس وغیرہ کھولنا یہ قبائلی خواتین کے لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ انکے شناختی کارڈ نہیں ہے، جہاں تک میرے علم میں ہے قبائلی خواتین گھروں میں اپنے لیے دوکان کھولے ہوئی ہیں یا وہ سلائی کڑھائی کا کام کرتی ہیں تو ایک چھوٹے سے سٹور یا سلائی کڑھائی کے لیے وہ کیسے بینک اکاونٹ کھولیں گی،؟ انہوں نے کہا کہ سمیڈا کا طریقہ کار انتہائی مشکل ہے۔

داود خان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سمیڈا نے ان سے اپریل میں فارم پرکرنے کا کہا جسکی آخری تاریخ 2 مئی مقرر کی گئی اور رمضان میں پھر چند لوگوں کو امدادی چیکس بھی دیئے۔

انہوں نے کہا، سمیڈا کے حکام نے رمضان میں باڑہ کا دورہ کیا، پہلے سروے میں 87 لوگوں کے نام بھیجے جس میں 60 لوگوں کو لیٹردیئے گئے ہیں کہ انکو پیسے ملیں گے، سمیڈا کا کہنا ہے کہ جو لوگ انکو ثابت کرسکیں کہ انکے کاروبار ہیں تو انکو 50 فیصد گرانٹ فراہم کریں گے، اب تک جن لوگوں کو لیٹرملے ہیں ان کو کہا گیا ہے کہ انکو 2 سے 13 لاکھ روپے تک کے چیکس دیئے جائیں گے،

قبائلی اضلاع میں بازاروں کو بحال کرنے اور چھوٹے کاروباروں کو فروغ دینے کے لیے کس قسم کے تعاون کی ضرورت ہے اس حوالے سے عبد الاحمد کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو انصاف روزگارسکیم شروع کیا ہے اس سے لوگوں کی بہت سی امیدیں وابستہ ہوگئی ہے البتہ اس کا جو طریقہ کار ہے وہ اگر تھوڑا آسان بنایا جائے تو بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہا، قرضوں کے سکیم میں حکومت نے جو سرکاری افسر کی ضمانت کی شرط رکھی ہے وہ قبائلی عوام کے لیے بہت مشکل ہے اگر حکومت اس کی جگہ ملک یا کسی دوسرے بندے کی ضمانت کی شرط رکھیں تو اس سے قبائلی عوام کو بہت فائدہ ہوگا،

اس حوالے سے لبنیٰ حئی کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ قبائلی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرائیں اور جو کونسلرز منتخب ہو ان کی ضمانت کو پھر شرط رکھا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں داود خان آفریدی کا کہنا تھا کہ سمیڈا نے ابھی تک کسی کو نقد پیسے یا چیکس نہیں دیئے، باڑہ میں دوکانداروں کو صرف لیٹر دیئے گئے ہیں کہ کس کو کتنے روپے کا گرانٹ ملے گا۔

انہوں نے کہا، سمیڈا نے ان دوکانداروں کو کہا ہے کہ پہلے جاکر بینک میں اکاونٹ کھولیں اور اکاونٹ نمبرپھر انکو بھیجیں، اس کے علاوہ پھر جاکر دوکان کے لیے خریداری کریں اور کوٹیشن انکو دکھائیں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلے ایک دوکاندار کو خود 5 لاکھ یا اس سے زیادہ کی خریداری کرنی ہوگی یا دکھانا ہوگا کہ اس کے پاس 5 لاکھ یا اس سے زائد روپے کا سامان موجود ہے جس کے بعد اسکو سمیڈا کی طرف سے پانچ لاکھ روپے دیئے جائیں گے، میں کہتا ہوں کہ جن لوگوں کے لیے پیسے منظور ہوئے ہیں انکو جلد سے جلد مل جائے کہ اپنا کاروبار کرسکیں،

لبنیٰ حئی کا مزید کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں خواتین زراعت کے شعبے سے بھی منسلک رہی ہیں، کھیتوں میں مردوں کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں، سلائی کڑھائی کا کام بھی کرچکی ہیں، مویشی اور مرغیاں بھی پال چکی ہے اور باقی کام بھی کئے ہیں تو جس طرح باقی کاروبار متاثر ہوئے ہیں بدامنی کی وجہ سے خواتین کے کاروبار پربھی اثر پڑا ہے لیکن سمیڈا کا جو طریقہ کارہے اس میں مشکل ہے کہ ان خواتین کو کوئی گرانٹ ملے اسی لئے میں کہتی ہوں کہ انکو خواتین کو گرانٹ دینے کےلیے کچھ ترامیم کرنا ہوگی۔

 

 

 

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button