قیادت مخلص ہو تو قبائلی اضلاع کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے!

سی جے شمائلہ آفریدی

دنیا کی مختلف قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ہر قوم کی ترقی و خوشحالی میں اس کے لیڈرز اور علاقائی مشران کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمیشہ وہی اقوام  ترقی کی جانب گامزن ہوتی ہیں جن کے لیڈرز عوام کے مسائل سے آگاہی رکھتے ہوں، حق وباطل میں فرق جانتے ہوں، اپنی ذاتی مفادات کو نہ دیکھتے ہوں، قوم کی ترقی کی تڑپ رکھتے ہوں، اقتدار کے لالچ سے دور رہ کر اپنی قوم کے روشن مستقبل کیلئے وسیع سوچ رکھتے ہوں اور قوم کے مسائل حل کرنے کا جذبہ رکھتے ہوں۔ خوش نصیب ہیں وہ قومیں جن کو ایسے مخلص لیڈرز مل جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے پاکستانی سیاسی قیادت کی بات کی جائے تو پچھلے 73 سالوں کے دوران ملک کو قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد ایسی قیادت نصیب نہ ہو سکی جو وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے الٹا اس بد نصیب قوم کو ہمیشہ ایسی قیادت ملی جو ملک کو ترقی دینا تو دور کی بات عیش و عشرت، کرپشن اور اپنی تجوریاں بھرنے کے سوا کچھ نہ کر سکی۔

اپنے علاقائی مسائل پر توجہ دینے اور ملک کو ترقی دینے کی بجائے اس قوم کے رہنماؤں نے ہمیشہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے نام پر لوٹ مار کرتے رہے اور اسے مزید پسماندگی کی طرف ہی دھکیلتے رہے۔

یہی کچھ حال قیام پاکستان سے لیکر اب تک سابقہ فاٹا اور اس کی عوام کا بھی رہا ہے جن کے نام پر فنڈز جاری ہوتے رہے لیکن شاید ان کا عشر عشیر بھی قبائلی علاقوں کی ترقی و خوشحالی پر کبھی خرچ نہیں ہوا، فنڈز کہاں گئے، اللہ ہی جانے لیکن جو ہم جانتے ہیں وہ یہی کہ اس دور جدید میں بھی نئے اضلاع کے حالات میں تبدیلی کے اثرات دکھائی نیہں دے رہے۔

سابقہ فاٹا میں جتنے بھی گورنرز تعینات رہے ان سب میں قبائل کو ترقی دینے کی اسطاعت موجود تھی، وہ حالات کو تبدیل کرسکتے تھے لیکن گورنرز وہ کام نہ کرسکے جو ان کو کرنا تھے یا وہ کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ علاقائی مشران بھی فاٹا کے بدتر حالات کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔

بڑے افسوس کی بات ہے کہ قبائلی عوام کو وہ تمام بنیادی حقوق نہ مل سکے جو فراہم کرنے کی ضرورت تھی بلکہ ہمیشہ ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا رہا۔ ماضی کی طرح آج بھی قبائلی علاقوں میں امن و امان، صحت، تعلیم، صنعت اور روزگار کی فراہمی بڑے بڑے مسائل ہیں جنہیں حل کرنے میں ماضی کی طرح موجودہ سیاسی قیادت بھی ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

بارہ سال کی مسلسل دہشت گردی اور دھماکوں نے قبائلی عوام کو خاصا متاثر تو کیا ہی لیکن فاٹا کے عوام کو درپیش مشکلات کی اہم وجہ وہ فیصلے ہی ہیں جو ان کی امنگوں کے خلاف ہوتے رہے اور آج بھی ہو رہے ہیں لیکن اس کے باوجود قبائلی عوام نے امید پر ساری زندگی گزاری اور ہیمشہ برداشت کا مظاہرہ کیا ہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔

ادھر حال یہ ہے کہ ہر بار قبائلی علاقہ جات کو ترقی دینے کے منصوبے بنائے گئے لیکن ان منصوبوں پر عمل نہیں کیا جاسکا، قبائلی علاقہ جات کو ہمیشہ تاریکیوں میں رکھا گیا اور ان کے حقوق کو پامال کیا گیا۔

فاٹا کو اب خیبر پختونخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے اس وعدے کے ساتھ کہ فاٹا کی تاریکیاں ختم کی جائیں گی، قبائلی عوام کو وہ تمام سہولیات فراہم کئے جائیں گے جن سے وہ ہمیشہ سے محروم رہے تھے۔

اگر حکومت فاٹا کے عوام کے دلوں کو جیتنا چاہتی ہے تو اسے ان کی ترقی و خوشحالی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ قبائل کے دلوں میں حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے کافی مایوسی پائی جاتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نئے اضلاع میں روزگار، تعلیم اور صحت کے علاوہ تمام شعبوں میں اپنی کارکرگی دکھائے، ماضی کی حکومتوں پر الزام تراشیوں سے گریز کرے، عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرے اور ایک مخلص قیادت کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔

دوسری جانب قبائل کو بھی چاہیے کہ آپسی دشمنیوں کو ختم کرتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، جس قوم کے ارادے پختہ ہوں وہ ترقی کے منازل طے کرتی ہے اور اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

آج کل وہ دور نہیں اور نہ وہ زمانہ ہے کہ دنیا کی کوئی قوم اپنی قیادت کے کرتوتوں سے باخبر نہ ہو وہ  اپنے ہاں ہونے والے ہر صحیح اور غلط کام سے واقف ہوتی ہے اور اپنا حق مانگنے کا شعور رکھتی ہے۔

Show More
Back to top button