اک خواب جو امریکہ میں پورا ہوا (پہلا حصہ)

خالدہ نیازسے
سرزمینِ امریکہ پر پہلا قدم
یہ 19 فروری 2019 کی شام تھی جب میں نے امریکی سرزمین پر اپنا پہلا قدم رکھا۔ ڈیلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر واشنگٹن ڈی سی کی یخ بستہ ہواؤں نے ہمارا استقبال کیا، انہی ہواؤں نے سردی میں اور بھی جان ڈال دی تھی، اک تو 21 گھنٹے کی فلائٹ، نیند سے برا حال، تھکاوٹ ایسی کہ لفظوں میں بیان نہ ہو اور اوپر سے یہ سرد و بےرحم ہوائیں، رہی سہی کسر ایک بھاری بھر کم بیگ خوب پوری کر رہا تھا۔
ایئرپورٹ سے باہر ایک ڈرائیور ہمارا منتظر تھا جس کے ساتھ پاکستان کی نئی حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے بات چیت جاری رہی جو میں چپ چاپ سنتی اور باہر کے مناظر دیکھتی رہی۔ واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد کی راستوں کا گمان ہوتا تھا بہت مطابقت ہے اسلام آباد اور ڈی سی کی سڑکوں میں۔
خیرقریبا 50 منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم ایٹن ہوٹل پہنچے، اگلے پانچ روز یہیں ہمیں قیام کرنا تھا، سب کو اپنا اپنا کمرہ ملا اور جاتے ساتھ ہی ہر کوئی دراز ہوا۔ پہلا کام گھر والوں سے رابطے کا تھا جس سے فراغت پاتے ہی دوسرا کام نیند کی آغوش میں جاکر عالم رویا کی سیر شروع کرکے کیا جس کا حال یاد ہوتا تو ضرور بتاتی۔
سفر طویل پر میں اکیلی نہیں تھی
اس طویل سفرمیں، میں اکیلی نہیں تھی بلکہ 9 دیگر خواتین صحافی بھی میری ہمسفر تھیں تاہم ہمیں تین گروپس میں تقسیم کیا گیا تھا۔ میرے حصے میں شفا یوسفزئی، آمنہ عامر اور یسریٰ مظہر کا ساتھ آیا۔ باقی گروپس بھی مختلف فلائٹس سے امریکہ پہنچ گئے تھے۔ اپنے گروپ کو میں پہلا نمبر ہی دوں گی، دوسرے گروپ میں صوفیا، اقرا اور ماریہ جبکہ تیسرے گروپ میں فاخرہ نجیب، فاطمہ نازش اور رمیزا شامل تھیں۔
یہاں اگرمیں صوفیا کا ذکر نہ کروں تو ناانصافی ہوگی کیونکہ صوفیا نے پورے پروگرام کے دوران مجھے جتنا سپورٹ کیا شاید ہی کبھی کسی نے کسی کو کیا ہو، امریکہ جانے سے پہلے فارم میں کوئی مسئلہ ہوا تو صوفیا نے مدد کی، کسی بات کی سمجھ نہ آئی تو بھی صوفیا، یہاں تک کہ امریکہ میں بھی وہ سب کو ساتھ لیکر سب کا بہت خیال رکھ رہی تھی جب بھی اس سے کچھ بھی پوچھا انہوں نہایت اچھے طریقے سے گائیڈ کیا۔ باقی ساتھی خواتین بھی بہت اچھی تھیں سب ایک دوسرے کا خیال رکھتی تھیں، خاص طور پر شفا یوسفزئی کی رہنمائی ہم سب کے بہت کام آئی کیونکہ انگلینڈ میں رہ چکی ہیں تو انہیں باہر کے ملکوں کا خاصہ تجربہ ہے۔
اگلی صبح جیسے ہی میری آنکھ کھلی تو کھلی کی کھلی ہی رہ گئیں کیونکہ جس نظارے کو دیکھنے کے لئے میں نے اتنے برسوں انتظار کیا تھا وہ نظارا میری آنکھوں کے سامنے تھا وہ کیا تھا بھلا وہ نظارا تھا برف باری کا۔ مجھے بچپن سے ہی بہت شوق تھا کہ میں برفباری اپنی آنکھوں سے دیکھوں لیکن کبھی دیکھ نہ پائی تھی اور اس دن میرا یہ خواب بھی پورا ہوگیا۔
کمرے کے شیشے سے باہر کا منظر صاف نظر آرہا تھا، برفباری کا سلسلہ جاری تھا اور باہر لوگ آجا رہے تھے۔
برفباری سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہم بھی باہر نکلے، لیکن اس سے قبل ہلکی موسیقی کے ساتھ ناشتہ کیا۔ باہر جاکر پہلے تو خوب تصویریں اور ویڈیوز بنائیں اور پھر سب نے کہا کہ کیوں نہ آج ڈی سی کو دریافت کریں تو اسی شوق میں ٹرین کے کارڈز بنوائے، یہاں بھی شفاء یوسفزئی ہی ہمارے کام آئیں، ٹرین میں سفر کے بعد شاپنگ مالز کی سیر شروع کی۔
شاپنگ مالز میں گھومتے اور چیزوں کو دیکھتے ہوئے وقت کا پتہ ہی نہ چلا کہ اتنے میں ہمیں اطلاع ملی کہ آج تو ہمیں باقی ممبرز کے ساتھ وائس آف امریکا بھی جانا ہے۔ (جاری ہے)

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button