واشنگٹن ڈی سے نیو میکسیکو سٹی تک

خالدہ نیاز

امریکہ جانے کا مقصد وہاں یو ایس سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے منعقدہ ایک ٹریننگ میں حصہ لینا تھا جس کیلئے مجھ سمیت دس خواتین صحافیوں کا انتخاب انٹرنیوز نامی ادارے نے کیا تھا۔
پاسپورٹ اور پانی کی بوتل ساتھ رکھیں

وائس آف امریکا کے دفتر پہنچے تو سب سے پہلے ہمارے پاسپورٹ چیک کئے گئے تب ہمیں اندر جانے کی اجازت ملی بدقسمتی سے ہماری ایک دوست پاسپورٹ ساتھ رکھنا بھول گئی تھی جسکی وجہ سے اسے اندر جانے کی اجازت نہیں ملی۔

ایک بات بتاتی چلوں آپ امریکہ جاؤ تو اپنے ساتھ پاسپورٹ ضرور رکھیں کیونکہ کسی بھی جگہ پر آپکو اس کی اشد ضرورت پڑ سکتی ہے اور ہاں اس کے ساتھ ساتھ آپ پانی بھی ساتھ رکھیں کیونکہ پانی کی بوتل نہ ہو آپ کے ساتھ تو پھر آپکو خریدنا پڑے گی۔
وائس آف امریکہ میں میٹنگ کے بعد ہم پھرفارغ تھے لیکن سیدھا ہوٹل گئے اور آرام کیا کیونکہ اگلے دن ہمیں نیشنل پریس کلب ٹریننگ کے لئے پہنچنا تھا۔

اک صبح نیشنل پریس کلب میں

اگلی صُبح ہم نیشنل پریس کلب پہنچ گئے، ایک اور بات باہرکے ملکوں میں اگرآپ کہیں کھو جائیں تو گوگل میپ کی مدد سے آپ متعلقہ جگہ پہنچ سکتے ہیں، ٹریننگ کے دوران پہلے تو سب نے اپنا اپنا تعارف کروایا اس کے بعد باقاعدہ آغاز ہوا اور ہمیں صحافتی اصولوں کے بارے میں بتایا گیا، سٹوری کو کسطرح بیلنس کیا جاتا ہے، سٹوری کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے اور سٹوریز میں کس قسم کے الفاظ کا استعمال کیا جانا چایئے اس حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ڈی سی میں ہماری یہ ٹریننگ دو دنوں پر محیط تھی جس میں ہمارے ٹرینرز نے بہت ہی دوستانہ ماحول میں ہمارے ساتھ بات چیت کی، نہ صرف وہ خود بات کرتے رہے بلکہ ساتھ ساتھ ہم سے بھی سنتے رہے کہ پاکستان میں صحافیوں خاص طور پر خواتین صحافیوں کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہم کیسے کام کر رہی ہے اور کن کن ایشوز کو ہمیں سامنے لانا چایئے؟
دو دن تو ٹریننگ میں گزر گئے ہم دس خواتین صحافیوں نے جس میں حصہ لیا، اس دوران میں نے دیکھا کہ ہماری خواتین مشکلات کے باوجود بہت اچھا کام کررہی ہیں اور کتنا ٹیلنٹ ہے پاکستانی خواتین صحافیوں میں اور کیسے وہ بن سکتی ہے اپنے ملک کی خواتین کی آواز؟

بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا

ٹریننگ کے دوران مجھے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا مثال کے طور پر آن لائن پروٹیکشن کیا ہے، ہم کیسے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں، خبر، تصویر یا ویڈیو کو کیسے آن لائن ویریفائی کرنا ہے، بہترین الفاظ کا انتخاب کتنا ضروری ہے، رپورٹنگ کرتے وقت کن کن باتوں کو مدنظر رکھنا چاہئے اور اگر کوئی حساس خبر ہو تو کیسے کنفرم اور شائع کرنا چاہیے۔
اگلا دن ہمارے پاس فارغ تھا چناچہ کوئی چلا نیویارک، کوئی گیا اپنے رشتہ داروں کے ہاں تو کسی نے کی ڈھیر ساری شاپنگز البتہ میں نے پورا دن گزارا آرام کرتے ہوئے اور سیلفیاں بناتے ہوئے کیونکہ اگلے دن ہمیں علی الصبح پھر سفر پر روانہ ہونا تھا۔

لیکن یہ سفر پاکستان کی جانب نہیں بلکہ ٹریننگ کے اگلے مرحلے کی طرف تھا جہاں ہمیں پھر تین گروپس میں جانا تھا، ہمیں نیومیکسیکو سٹی جانا تھا، دوسرے گروپ نے شکاگو جانا تھا، شکاگو کا موسم ان دنوں میں کافی سرد تھا جبکہ تیسرے گروپ کا اگلا پڑاو سیاٹل تھا۔

نیو میکسیکو، سب سے غریب لیکن ثقافت کے اعتبارسے بہت زرخیز

اگلے دن صبح ہم اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ دو فلائٹس بدلنے کے بعد ہم نیومیکسیکو سٹی پہنچے، ایئرپورٹ پر اترتے ہی ہمیں ایسی روایتی چیزیں دیکھنے کو ملیں جو وہاں کی رہن سہن اور طور طریقوں کی بھرپور عکاسی کر رہی تھیں۔
باہر کا منظر امریکہ اور خصوصی طور پر ڈی سی سے بہت مختلف تھا، امریکہ کا حصہ ہی نہیں لگ رہا تھا۔

بعد میں ڈرائیور سے سفر کے دوران معلوم ہوا کہ یہ امریکہ کی سب سے غریب لیکن ثقافت کے اعتبارسے بہت زرخیز ریاست ہے کیونکہ یہاں کے لوگ قدیم روایات اور ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

ڈی سی کا ایک خوبصورت منظر

نیٹو امریکہ کالنگ

رات ہوٹل میں گزارنے کے بعد اگلی صبح ہم سب کو الگ الگ جگہ پہنچنا تھا، مجھے کوانک براڈکاسٹنگ کارپوریشن جانا تھا جوکہ نیٹیو امریکا کالنگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں نے ایک ہفتہ وہاں تربیت حاصل کرنا تھی، پہلے دن ہم سب کو آرگنائزنگ ادارے گلوبل ٹائز البوقرقی کے ہیڈ اور کوآرڈینیٹر  لے گئے۔

کوانک براڈکاسٹنگ کارپوریشن ایک ایسا ادارہ ہے جہاں ریڈیو پروگرامز کئے جاتے ہیں جو امریکہ کی 70 ریڈیو سٹیشنز سے نشرہوتے ہیں، اس کے علاوہ ادارے کی اپنی ویب سائٹ بھی ہے ریڈیو پروگرامز اور سٹوریز جس پہ اپ لوڈ کیے جاتے ہیں۔ ادارے میں میرے ایک مینٹور بھی تھے نام جن کا آرٹ ہیوجز ہے اور ایگزیکٹیو پروڈیوسر کے طور پرکام کرتے ہیں۔

آرٹ ہیوجز ایک قابل پروڈیوسر ہیں جنہوں نے پہلے تو سب کے ساتھ میرا تعارف کروایا، یہ بتایا کہ وہ کسطرح کام کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مجھ سے بھی سنا کہ میں کیسے کام کررہی ہوں؟ کتنی مشکلات کا سامنا ہے اور یہ ہفتہ کیسے کارآمد بن سکتا ہے میرے لئے؟
یہ ادارہ نیٹو امریکنز کے مسائل پربھی پروگرامز کرتا ہے، نیٹو امریکنز کے مختلف قبیلے ہیں جو اپنی روایات کے مطابق زندگی بسرکرتے ہیں اور جتنا مجھے پتہ چلا وہ یہ کہ یہ لوگ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، انکی اپنی مخصوص روایات اور مخصوص لباس ہے۔

اکیلے ہی جانا
میرا اگلا دن بھی اسی ادارے میں گزرا، لیکن اگلے دن مجھے خود اس ادارے میں پہنچنا تھا، ہمیں ڈیبٹ کارڈز دیے گئے تھے، لفٹ کے ذریعے میں وہاں پہنچی، لفٹ بھی اوبر اور کریم کی طرح ایک ٹیکسی سروس ہے بس کیش کی بجائے آپ کا ڈیبٹ کارڈ چلتا ہے،  اکیلے جانے میں ڈر تو لگ رہا تھا، پرایا ملک، انجان لوگ لیکن پہنچنا تو تھا اور وہ بھی وقت پر کیونکہ امریکہ کے لوگ وقت کے بہت پابند ہیں اور اگر کوئی وقت کی پابندی نہ کرے تو ناراض ہوجاتے ہیں، بدقسمتی سے ہمارے ملک کے لوگ اگر آپکو 10 بجے کا وقت دیں تو وہ 12 بجے پہنچیں گے مجال ہے جو کوئی وقت پر پہنچے، ویسے میرا خیال ہے کہ اچھی عادتیں ہمیں اپنانے اور اس معاملے میں باہر کے لوگوں سے کچھ سیکھنا چاہئے۔
ہم سب کو ہی اکیلے اکیلے پہنچنا تھا جو کہ ہماری خوداعتمادی کے لئے بہت اچھی بات تھی کیونکہ جب تک کوئی انگلی پکڑ پکڑ کر آپکو ہر جگہ لے جائے تب تک آپ میں خود اعتمادی پیدا نہیں ہوتی اور جب آپ کو چھوڑا جائے تو شروع میں ڈر تو لگتا ہے لیکن آہستہ آہستہ آپ اپنے لئے راستے ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں: اک خواب جو امریکہ میں پورا ہوا (پہلا حصہ)

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button