نیٹیو امریکنز اور قبائلی عوام میں کچھ کچھ مماثلت نظر آئی (آخری حصہ)

خالدہ نیاز

لائیو پروگرام اور ایڈیٹوریل میٹنگ

اس دن میں نے لائیو پروگرام سنا، ریڈیو پروگرام تو تقریباَ اپنا ہی لگا، وہی کسی ایک عنوان پہ گفتگو اور دوران گفتگو سامعین کی جانب سے لائیو کالز اور ساتھ ساتھ موسیقی کا سلسلہ بھی البتہ انکے زیر استعمال آلات ہمارے مقابلے میں ظاہر ہی ہے کہ جدید ہیں۔

لائیو پروگرام کے بعد اپنے مینٹور اور باقی سٹاف کے ساتھ ایڈیٹوریل میٹنگ میں بیٹھی، سب نے اپنے اپنے آئیڈیاز بتائے، ان پہ بات ہوئی کہ اس میں کن کن لوگوں کو کال پہ لیا جا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ، 45 منٹس کی اس میٹنگ میں اگلے ہفتے کے لئے موضوعات کے انتخاب کے بعد ہر ایک کو اپنا اپنا کام حوالے کیا گیا اور یوں انتہائی خوشگوار ماحول میں ایڈیٹوریل میٹنگ کا اختتام ہوا۔

امریکہ میں سب ایک دوسرے کو عزت دیتے ہیں چاہے آپ عورت ہوں یا مرد آپکو ایک ہی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، بندے کو بھی وہیں کام کرنے میں مزہ آتا ہے جہاں اسکی عزت کی جاتی ہے۔

میٹنگ کے بعد مجھے ادارے کی پروگرام ہوسٹ اور نیوز کاسٹرتارا گیٹ ووڈ پیبلو سنٹرلے گئی، جہاں میں نے نیٹیو امریکنز کے حوالے سے بہت کچھ دیکھا، یہ ایک میوزیم ہے جہاں نیٹیو امریکنز کی بہت سی قدیم اشیاء رکھی گئی ہیں جن میں چند ایسی چیزیں بھی دیکھیں جو ہمارے ہاں بھی پرانے وقتوں میں ہوا کرتی تھیں جیسے ڈھول، چکی اور گوبر وغیرہ۔

درایں اثناء تارا نیٹیو امریکنز کے بارے میں بھی بتاتی رہے، کسطرح انہوں نے اپنی روایات کو زندہ رکھا ہوا ہے، انکے ڈانس کون کون سے ہیں اور کب کب کئے جاتے ہیں، یہ بھی بتایا کہ نیٹیو امریکنز کو کسطرح اپنے حقوق سے دور رکھا گیا ہے۔

نیٹیو امریکنز اور پاکستان کے قبائلی اضلاع میں کچھ کچھ مماثلت نظر آئی اور وہ یوں کہ قبائلی اضلاع کے لوگ بھی اپنے بنیادی حقوق سے عرصہ دراز تک دور رکھے گئے اور نیٹیو امریکنز بھی، اس کے علاوہ قبائلی عوام نے بھی اپنی ثقافت کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ خیر فاٹا اصلاحات کے بعد اب کچھ امید بندھتی نظر آرہی ہے کہ انہیں بھی بنیادی حقوق مل ہی جائیں گے۔

امریکہ میں گھر جیسا ماحول

خیر تیسرا دن بھی نیٹو امریکہ کالنگ میں ہی گزرا تاہم اس دن ہماری ایک اور ایکٹیویٹی بھی تھی، شام چھ بجے ہمیں تیار ہوکے لابی میں پہنچنا اور وہاں سے میزبانوں کے ہاں رات کے کھانے پرجانا تھا۔

آمنہ عامر اور یسری جانے کہاں اور کن کی مہماں تھیں مجھے اور شفاء یوسفزئی کوتو روڈی ہیوجز کے ہاں جانا تھا جہاں ایک تو گھر جیسا ماحول ملا دوسرا کھانا بہت مزے کا تھا۔

روڈی ہیوجز کی بیوی بہت پرخلوص اور محبت کرنے والی خاتون تھیں، ان کے ہاتھ کی سوئیاں نوش کیں اور ساتھ ساتھ گپ شپ بھی لگی، مجھے ان سے ملکر بہت اچھا لگا۔

چوتھے دن ہم ایک ٹی وی چینل گئے، مینٹور کا وہاں یہ دن گزارنے کا حکم تھا جس کی تعمیل ضروری تھی، ایک پروگرام کی ریکارڈنگ ہورہی تھی، سٹوڈیو میں بیک وقت پانچ بڑے بڑے کیمرے لگے ہوئے تھے اور سب کے ساتھ ساتھ ایک کیمرہ مین بھی تھا جن میں خواتین بھی تھیں۔

یونیورسٹی آف نیو میکسیکو میں ڈسکشن

2 بجے وہاں سے فارغ ہوئے تو سیدھا شاپنگ مالز کا رخ کیا اور خوب شاپنگ کی۔ میں نے تو ساری شاپنگ اسی دن کی۔6 بجے یونیورسٹی آف نیو میکسیکو پہنچنا تھا، وہاں پر ہم چاروں کے علاوہ ورکنگ جرنلسٹ اور طالبعلم بھی آئے ہوئے تھے جن کے ساتھ ہم نے ڈسکشن کی، گفتگو کے دوران ہم نے پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مسائل کے بارے میں بتایا اور ان سے بھی جاننے کی کوشش کی تاہم وہ بتانے سے زیادہ سننے میں دلچسپی رکھتے تھے، دو گھنٹے ڈسکشن کے بعد ہم وہاں سے ہوٹل پہنچے اور یوں چوتھا دن بھی گزرگیا۔

اگلے دن میں پھرنیٹیو امریکہ کالنگ گئی لیکن اس دن میں اکیلی نہیں تھی بلکہ پورا گروپ ساتھ تھا، اس دن میرا اور شفا کا لائیو انٹرویو بھی ہوا، میزبان سے باتیں کیں جس سے میں بہت لطف اندوز ہوئی۔

پروگرام کے بعد ہم لوگ پہاڑیوں کی طرف گئے جہاں تصویریں کھنچوانے کے بعد باقی  تو سیر کیلئے نکلیں تاہم میں چل دی ہوٹل کی طرف کیونکہ اگلی صبح ہمیں پاکستان کے لئے نکلنا تھا۔

شکاگو ایسی سردی اور گرم گرم کافی

اگلی صبح البوقرقی ائیرپورٹ سے شکاگو کے اوہارے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے جہاں 7 گھنٹے کا طویل انتظار تھا تو ہماری ایک دوست یسریٰ نے وہاں پر مقیم اپنی کزن کے ساتھ شکاگو کی سیر ک منصوبہ پیش کیا جو بلاا پس و پیش اور اتفاق رائے سے منظور ہوا، سامان کا ٹینشن بھی البوقرقی میں ہی یہ کہہ کر ہمارے سر سے اتار دیا گیا تھا کہ آپکو سامان اسلام آباد میں ہی ملے گا، سو یسریٰ کی کزن کی گاڑی میں سوار  نکل پڑیں شکاگو کی سیرکرنے۔

شکاگو میں جو سردی لگی وہ اس سے پہلے کھبی نہ دیکھی تھی، ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں، ہم نے بلندوبالا عمارتیں دیکھیں جن کے ساتھ خوب تصویریں بنائیں، اس کے بعد وہ ہمیں ایسی جگہ لے گئی جہاں پورے شہرکی عمارتیں ایک گول سے آئینے میں نظر آرہی تھیں جوکہ تصویریں کھچوانے کے لئے بہترین جگہ ہے اور وہاں لوگوں کا ہجوم بھی اس بات کی طرف اشارہ کررہا تھا۔

وہاں گھنٹہ گزارنے کے بعد یسرا کی کزن جو بھی مشہور اور پیاری جگہ دیکھتی گاڑی روک دیتی اور تصویروں کا سلسلہ جاری رہتا اگرچہ میں گاڑی میں ہی بیٹھنے پر اکتفا کرتی کیونکہ اس سردی کو برداشت کرنا کم از کم میرے بس کی بات نہیں تھی۔ ہاں کافی کو خوب انجوائے کیا کیونکہ سردی میں گرم گرم کافی کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

خیر چند گھنٹوں کے لئے ہی سہی لیکن شکاگو کی سیربھی کرلی اور اس کے بعد ہم واپس ائیرپورٹ روانہ ہوئے جہاں سے براستہ دوحہ ہماری اگلی منزل اسلام آباد تھی۔

ٹینشن لینے کا نہیں

امریکہ اور وہاں کے لوگوں کے بارے میں اگر کچھ کہنا چاہوں تو یہی کہ امریکہ بہت پیاری جگہ ہے، خوبصورت عمارتیں، دھول مٹی بالکل نہیں ہے، ہرجگہ صاف جس میں عوام کا بھی بڑا ہاتھ ہے کیونکہ وہاں پر کوئی بھی گند پھینکتا نہیں بلکہ گند کیلئے ڈسٹ بن ہے، اگر کوئی غلطی سے آپ کے سامنے بھی گزر جائے تو بھی آئی ایم سوری کہہ کر خوامخواہ میں شرمندہ کرتا ہے۔

ہرکام کیلئے ایک نظام ہے، سڑک پر کھڑے ہوں تو باقاعدہ آڈیو کے ساتھ آپکو بتایا جاتا ہے کہ اس وقت گاڑیوں کی باری ہے آپ انتظار کریں اور جب پیدل چلنے والوں کی باری ہوتی ہے تو وہ آرام سے سڑک پارکرسکتے ہیں، ہمارے ہاں تو بدقسمتی سے ایک طرف سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تو دوسری جانب ڈرائیور بھی قانون کی پیروی شاید اپنی توہین سمجھتے ہیں بھلے ٹریفک حادثات میں قیمتی جانیں۔ ضائع ہوں تو ہوں ٹینشن کون لیتا ہے، یہاں پر تو ٹینشن لینے کا نہیں دینے کا ہے بابا۔۔۔!

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button