صوبائی الیکشن اور 26ویں آئینی ترمیم، دال ساری کالی ہے

سی جے رضیہ محسود

پاکستان چودہ اگست انیس سو سینتالیس کو وجود میں آیا جس کے لئے علماء فضلاء اور طلبہ کے علاوہ دیگر ہزاروں لوگوں نے قربانیاں دیں۔

عام طور پر پاکستان حاصل کرنے کا لفظ جب سامنے آتا ہے  تو سب سے پہلے پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور پھر قائداعظم نے ان علماء طلبہ اور دوسرے لوگوں کی مدد سے پاکستان حاصل کیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کار میں نے سرسید احمد خان اور اس طرح کے دوسرے لیڈروں کو مینشن کیوں نہیں کیا؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ جب سے میں نے دنیا کو سمجھا ہے بچپن ہی سے پاکستان حاصل کرنے کا لفظ آتا ہے تو علامہ اقبال سرسید احمد خان اور دوسرے ایسے بڑے ناموں کا ذکر سامنے آتا تھا مگر جب صحیح معنوں پر غور کیا جائے تو ہزاروں علماء طلباء اور دوسرے عام لوگوں نے پاکستان حاصل کرنے کے لئے جو قربانیاں دیں وہ قابل ذکر ہیں بجائے سرسید احمد خان اور دوسرے لیڈروں کے، علماء ہند اور طلباء اور دوسرے لوگوں کی قربانیوں کو پس پشت ڈال دیا ہے جب کہ اگر بصیرت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں ان لوگوں کا کلیدی کردار ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ کوئی لیڈر بھی آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ اپنے کام کو صحیح طریقے سے سرانجام دے سکتا ہے جب تک  اس کے ساتھ عوام نہ ہوں۔

یہ ساری باتیں اپنی جگہ  ہم آتے ہیں آج کل کے موجودہ نظام کی طرف اگر غور کیا جائے تو ہر دور میں عوام کو ہی ان قربانی کی بھینٹ چڑھایا گیا اور عوام کا استعمال کر کے اپنے سیاست کی کرسی چمکائی گئی اور بدلے میں عوام کو نام تک نہ مل سکا نہ تاریخ میں اور نہ ہی کسی اور کامیابی میں۔ عوام کو استعمال کرکے ہمارے سیاستدانوں نے بہت ظلم کئے ہیں ، الیکشن کا وقت  آتا ہے تو ہمارے نام نہاد سیاستدان جگہ جگہ جلسے جلوس کرواتے ہیں اور ان کے نام اور تصویروں کے بڑے بڑے بینرز ہر جگہ پر لگے نظر آتے ہیں اور اکثر سیاستدان ووٹ کے لالچ میں غریب لوگوں کے گھروں پے حاضریاں دیتے نہیں تھکتے۔

ان سیاستدانوں کا لب و لہجہ اتنا میٹھا اور انداز اتنا نرالا ہوتا ہے کہ غریب سارہ لوح عوام تو کیا بڑے بڑے عقلمندوں کی عقل پر بھی پردے پڑ جاتے ہیں سیاستدان بڑے بڑے سبز باغ دکھا کر ان کو بیوقوف بنا لیتے ہیں مگر جب الیکشن میں یہ لوگ عوام سے مانگی ہوئی بھیک "ووٹ” کی مدد سے کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو پھر اسی دن سےعوام کو بائے بائے کہہ کر سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔

جس عوام کی مدد سے طاقت اور اختیارت حاصل ہوتا ہے ان کا پوچھتے تک نہیں  بلکہ اپنے اختیارات ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں جو سبز باغ عوام کو دکھائے ہوتے ہیں اس پر خزاں آ جاتی ہے اور جب یہی عوام جس نے ان سیاستدانوں کو کرسی پر بٹھایا ہوتا ہے اپنے عام سے معمولی کام کی غرض سے ان سیاستدانوں سے ملنے کی کوشش  کرتے ہیں تو ان کو رولزریگولیشن نام پر مایوس  لوٹا دیا جاتا ہے اور کافی لمبا چوڑا طریقہ کار بتا دیا جاتا ہے آخر کار تھک ہار کر وہ دوبارہ ان لوگوں سے ملنے کا  خواب چھوڑ دیتا ہے اور پھر وہی دربدر کی ٹھوکریں ان کی نصیب ہوتی ہیں۔

ان سیاستدانوں سے  ملنے کے لیے ان کے پرسنل سیکرٹری اور پھر اس کے سیکرٹری اور پھراسکے سیکرٹری وغیرہ اور کسی بڑے شخص کی سفارش پر ہی مشکل سے دو آدھ بات ہو جاتی ہے مگر وہ بھی براہ راست نہیں بس ان کے چمچے سے بات ہو جاتی ہے جو پتہ نہیں وہ ان کے علم میں لاتےبھی ہیں کہ نہیں۔

افسوس صد افسوس ہمارے قیمتی ووٹ ایسے لوگوں پر ضائع ہو جاتے ہیں حضرت عمر کا ارشاد ہے کہ خلیفہ چننے کا اختیار آپکے پاس ایک امانت ہے  اور آپکو  اس امانت کا صحیح استعمال کرنا چاہیے اس میں خیانت نہ کرو۔

اس ارشاد کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو  ہم اپنی اس امانت میں خیانت کرتے نظر آتے ہیں اور پھر جب ہم اپنی اس امانت”ووٹ” میں خیانت کر کے غلط لوگوں کا چناؤ کرتے ہیں تو ان کے غلط کاموں کے گناہوں میں میں ہم بھی برابر کے شریک ہو جاتے ہیں۔

میں آپ سب کی توجہ 26ویں آئینی ترمیم کی طرف دلانا چاہوں گی کہ جب حکومت نے فاٹا کے لئے سو ارب روپے  فنڈ کا اعلان کیا تو سب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور یہ خوشی زیادہ دیر تک نہ رہی کہ حکومت نے ساتھ ہی ساتھ قومی و صوبائی اسمبلی میں قبائلی اضلاع کی نشستیں بڑھانے اور الیکشن میں تاخیر کر دی۔

جب یہ اعلان سامنے آیا تو ہر کوئی اس کا کریڈٹ اپنے سر لے رہا ہے ٹرائبل  یوتھ والے الگ شروع ہیں یہ ان کی وکٹری ہے پی ٹی ایم الگ کریڈٹ لے رہی ہے محسن داوڑ کو الگ سراہا جا رہا ہے وغیرہ وغیرہ دیکھا جائے تو ان سب کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے مگر بصیرت کی نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو یہ کریڈٹ فخر اور خوشی کی بات نہیں بلکہ قابل غور بات ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عین الیکشن کے موقع پر ترمیم کی کیا ضرورت پیش آئی اور اگر ترمیمی بل پاس کرنا تھا تو پہلے کیوں نہیں کیا؟

مجھے دال ساری کالی لگ رہی ہے الیکشن نہ کرنے کا بہانہ اور یہ سازش اعلی سطح پر تیار کی گئی ہے اب بات یہ ہے کہ الیکشن کب ہوں گے اور کیسے ہوں گے؟ دل سے پسماندگی ختم نہیں ہوگی کردار سے خاتمہ ممکن ہے اور اگر حکومت ترمیم کے ساتھ ساتھ الیکشن جلد کروانے کا اعلان کردے تو ہم اس ترمیمی بل کو نیک شگون قرار دے سکتے ہیں اور اس پر فخر بھی کر سکتے ہیں بصورت دیگر قبائیل کو پھر سے پسماندہ رکھنے کا ایک ڈرامہ رچایا گیا ہے اور سو ارب صرف لکھے الفاظ میں ہی یاد رہیں گے مجھے تو یہ سو ارب کا لفظ محض لولی پاپ لگتا ہے ذرا غور سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

اب آتے ہیں صوبائی اسمبلی میں ایم پی اے کی سیٹوں کے لیے نامزد امیدواروں کی  طرف میں یہاں فاٹا خاص کر ساوتھ وزیرستان کے امیدواروں پر بحث کروں گی صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے کافی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی کیلئے جمع کئے ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن میں سے ایک بھی وزیرستان میں رہائش پذیر نہیں اور نہ ہی وزیرستان کے لوگوں کے بیچ رہ کر ان کے مسائل کو صحیح طریقے سے جانا ہے اور نہ ہی ان کو حل کرنے کی کوشش کی۔

بظاہر تو ہر کوئی وزیرستان کی تباہی و بربادی کا رونا رو رہا ہے مگر وزیرستان میں لوگوں کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس سے ہر کوئی بے خبر ہے کوئی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے تو کوئی ڈیرہ اسماعیل خان میں، کوئی پشاور میں تو کوئی کراچی میں یا اس طرح کے دوسرے علاقوں میں۔

جب سابقہ الیکشن ہو رہے تھےتو اس وقت اتفاق سے وزیرستان جانا ہوا تو مختلف جلسے جلوس گانے بجانے طرح طرح کے بینرز اور لوگوں سے لدی ہوئی گاڑیاں سڑکوں پر کبھی ایک طرف تو کبھی دوسری طرف جاتی ہوئی نظر آئیں۔

خوب گرما گرم ماحول تھا میں حیران تھی کہ وزیرستان میں بھلا اتنے لوگ کہاں سے آگئے کیونکہ میں اکثر وزیرستان میں ہی رہتی ہوں  فری کھانے فری گاڑیاں فری پٹرول اور فری میں پروگرام وغیرہ کا انعقاد کیا جاتا تھا مگر صرف الیکشن تک، الیکشن کے ختم ہونے کے بعد نہ تو ان کی گاڑیاں ہوتی ہیں نہ فری کھانے نہ پٹرول وغیرہ۔

الیکشن کے بعد یہ امیدوار دوربین میں بھی نظر نہیں آتے اور نہ ہی ان کا وجود ہوتا ہے اور پھر وزیرستان کے لیے تو ان کی خدمات اگرکہاجائے تو زیرو برابر ہیں۔

نہ تو امیدواروں نے الیکشن سے پہلے وزیرستان کے لئے کچھ کیا ہے اور نہ ہی الیکشن میں منتخب ہونے کے بعد ان کاکوئی کردار نظر آتا ہے جس طرح پاکستان بننے کے لئے عوام نے قربانیاں دیں اور نظر نہیں آئیں اسی طرح الیکشن میں  بھی یہی عوام قربانیاں دیتے ہیں جس کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑتا ہے اور بھگت بھی رہے ہیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button