محمد شہزاد فام میں نہ سہی افغان کرکٹ کے وفادار ضرور ہیں

 

افتخار خان

افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر اور بلے باز محمد شہزاد نے خود اپنے پاوں پر کلہاڑی ماری ہے، ٹیم سے بے دخلی کا معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کی بجائے میڈیا پر آنا اور ٹیم کپتان اور بورڈ حکام پر تنقید انہیں بہت مہنگا پڑے گا بلکہ امکان قوی یہی ہے کہ ان پر ٹیم میں واپسی کے دروازے مستقل بند ہوجائیں گے۔

ٹیم انتظامیہ نے محمد شہزاد کو گھٹنے کی انجری کے باعث ورلڈ کپ ٹیم سے باہر اور وطن واپس بھیج دیا ہے اور آئی سی سی کی باقاعدہ منظوری سے اکرام علی خیل کو ان کی جگہ سکواڈ میں شامل کیا ہے تاہم محمد شہزاد اپنے ساتھ ایک نئی کہانی لائے ہین اور نہ صرف افغانستاان بلکہ دنیا بھر کے شائقین کرکٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

میڈیا کے ساتھ گفتگو میں نامور بلے باز نے الزام عائد کیا کہ ورلڈ کپ میچز کیلئے وہ بالکل فٹ تھے لیکن کپتان اور ٹیم منیجر نے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے انہیں اس لیے نکال باہر کیا کہ ان سے ان کی چاپلوسی نہیں ہو رہی تھی۔

بقول شہزاد اپنی اَن فٹنس کے حوالے خبر انہیں نیٹ پریکٹس کے بعد ٹیم منیجمنٹ کی بجائے آئی سی سی سے ملی جس پر وہ حیران رہ گئے اور جب اپنے فزیو سے معلوم کرنا چاہا کہ انجری رپورٹ تو کہیں نہیں دی تو انہوںنے بھی ضواب نہیں دیا۔

دوسری جانب افغان کرکٹ بورڈ نے محمد شہزاد کے تمام الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے مفاد کیلئے ایسے بیانات دے رہے ہیں کیونکہ آئی سی سی نے انہیں کھلاڑی بدلنے کی اجازت تبھی دی جب انہوں نے ایم آر آئی و دیگر میڈیکل رپورٹس پیش کیں۔

محمد شہزاد اور افغان کرکٹ بورڈ کے درمیان تنازعہ کیا ہے؟

یہ ایک اہم سوال ہے جو سلجھنے کی بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ الجھتا اور پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

شہزاد کے مطابق ان کی بےدخلی کی وجہ ان کی ٹیم کپتان گلبدین نائب، منیجر و دیگر اعلیٰ حکام کی چاپلوسی نہ کرنا ہے تاہم اس حوالے سے دیگر حقائق و قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ محمد شہزاد ٹیم کی اندرونی سیاست کا شکار ہوگئے ہیں کیونکہ سابق کپتان اصغر افغان کے ساتھ ان کی ہمدردیاں تھیں اور ان کی یہی چیز موجودہ کپتان کو کھٹکتی تھی اور وہ اسے اپنے لیے خطرہ قرار دیتے تھے۔

تاہم بعض لوگ خصوصاَ پاکستان کے شائقین کرکٹ کا خیال ہے کہ محمد شہزاد کا تعلق چونکہ پاکستان سے ہے لہٰذا افغان کرکٹ بورڈ نے بغضِ پاکستان میں آکر انہیں "ٹیم نکالا” دیا ہے لیکن میرے خیال میں یہ مفروضہ نہایت ہی کمزور ہے کیونکہ اگر افغان کرکٹ بورڈ کا اگر واقعی میں اس طرح کا کوئی ارادہ ہوتا تو وہ کب کا اسطرح کا اقدام کرچکا ہوتا اور عالمی کپ کے عین دوران اس طرح کی حرکت کرنے کی جرات کبھی نہ کرتا۔

تیسرا مفروضہ یہ ہے کہ بار بار مواقع دینے کے باوجود محمد شہزاد آؤٹ آف فارم ہی ہیں اور گزشتہ چند ماہ کے دوران دو تین میچز کے علاوہ نہ صرف بیٹنگ میں ان کی کارکردگی خراب رہی بلکہ وکٹ کیپنگ بھی ان کی قابل داد نہیں رہی اور کئی اہم موقعوں پر انہوں نے کیچز ڈراپ اور سٹمپس مِس کیے۔

جتنے منہ اتنی باتیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ افغان کرکٹ ٹیم سیاست بڑھ گئی ہے اور امکان غالب یہی ہے کہ شہزاد اسی سیاست کی نذر ہوگئے، زمینی حقائق بھی اسی دعوے کی تائید یا توثیق کرتے ہیں۔ مثلاَ

محمد شہزاد ورلڈ کپ سے قبل پاکستان کیخلاف وارم اپ میچ کے دوران انجری کا شکار ہوئے بھلا اس کے بعد ورلڈ کپ میں سری لنکا اور آسٹریلیا کیخلاف وہ کیونکر کھیلے؟

نہ صرف شہزاد کی اپنی گفتگو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی زیادہ وفاداریاں آج بھی سابق کپتان کے ساتھ ہیں اور نئے کپتان سے یہ ہزگز برداشت نہیں ہو رہا تھابلکہ خود افغانستان کے کئی سپورٹس جرنلسٹس بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

محمد شہزاد کی ٹیم سے نکالے جانے کی وجہ ٹیم سیاست، انجری یا خراب کارکردگی جو بھی ہو کم ازکم اس طرح کا ردعمل دینا ان کیلئے ہی نہیں پوری افغانستان ٹیم کیلئے نقصان دہ ہے، یوں نہ صرف اپنے کرئیر کو انہوں نے داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ دیگر کھلاڑیوں کو بھی انہوں نے متوشش کردیا ہے جس کا اثر اس اہم ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

محمد شہزاد کو اس سلسلے میں ضبط و صبر کا مظاہرہ کرناا چاہیے تھا اور میڈیا پر بحث چھیڑنے کی بجائے یہ معاملہ بورڈ کے اعلیٰ حکام کے سامنے رکھنا چاہیے تھا۔

باقی ٹوئٹر اور فیس بک پر بعض افغان شائقین کو یہ طعنے بھی دیتے ہوئے دیکھا کہ محمد شہزاد پاکستانی ہے جو کبھی بھی افغانستان کا مخلص نہیں ہوسکتا۔

محمد شہزاد نے اپنی 32 سالہ زندگی میں دس سال افغان کرکٹ کو دیے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج اگر افغان ٹیم اس پوزیشن میں آئی ہے کہ دنیا کی ہر ٹیم اس سے خطرہ محسوس کرتے ہے تو اس میں محمد شہزاد کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔

اس نے اپنے والد کے جنازے پر افغانستان ٹیم کے میچ کو ترجیح دی اور بچوں کی تربیت سے زیادہ اپنی ٹیم کو وقت دیا اب اگر وہ آزمائش کے شکار ہیں تو دلاسے یا تسلی تشفی کی بجائے ان کی قفادری پر سوال مجھے تو ظلم ہی لگتا ہے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button