تعلیمی ایمرجنسی ڈھیر، باجوڑ کے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

محمد بلال یاسر

گذشتہ روز مجھے ماموند برخلوزو کالج کے آئی ایس ایف ونگ کے صدر طارق جمیل کی کال موصول ہوئی جن کا کہنا تھا کہ کالج میں سینکڑوں طلبہ داخلوں سے محروم ہیں جس کے خلاف ہم نے برخلوزو تا عمرے چوک ریلی نکالی ہے آپ مہربانی فرماکر ہماری کوریج کیلئے تشریف لائیں۔ میں نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنا مختصر سا سامان پیک کیا اور کوریج کیلئے جا پہنچا۔

انتہائی سخت گرمی میں طلبہ نے لعل زمان پختونیار اور طارق جمیل کی قیادت میں عمرے چوک میں دو گھنٹے تک احتجاجی مظاہرہ کیا جس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ کالج انتظامیہ نے کوٹہ صرف 50 لڑکوں کیلئے مقرر کر رکھا ہے جبکہ اس سال میٹرک سے تحصیل ماموند کے سینکڑوں طلبہ فارغ ہوئے ہیں جنہیں اب داخلہ نہیں مل رہا ایک تو میرٹ بہت زیادہ جبکہ کوٹہ بھی بہت کم رکھا گیا۔

ویسے طلبہ کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کے اولین فرائض میں سے ہے اس لئے سرکاری سطح پر سکولوں اور کالجز کا جال بچھایا جاتا ہے تاکہ قوم کے بچے زیورِ تعلیم سے آراستہ ہوکر مستقبل میں ریاست کی ترقی وخوشحالی میں فعال کردار ادا کرسکیں لیکن بدقسمتی سے ملکِ خداد میں تعلیم کے حوالے سے  آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مختلف حکومتیں تعلیم کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے تو کرتی رہیں لیکن عملی اقدامات کسی ایک نے بھی نہیں کیے، صاحبِ حیثیت لوگوں کے بچے تو بیرونِ ملک جا کر بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں لیکن غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے بچے صرف بڑے بڑے سکولوں کے شاندار ماحول کا نظارہ تو کرسکتے ہیں لیکن وہاں پڑھ کر اپنا مستقبل روشن نہیں کرسکتے، غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بچے اگر میٹرک تک تعلیم حاصل کرسکیں تو وہاں طبقاتی نظامِ تعلیم کا شکار ہوجاتے ہیں اور سرکاری کالجوں کی میرٹ لسٹوں کے آگے غربت کے مارے ان طلبہ کے حصولِ تعلیم کا جذبہ دم توڑ دیتا ہے۔

دوسر جانب سرکاری تعلیمی اداروں کی بہ نسبت نجی تعلیمی ادارے ہی معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں جس کی اہم وجہ ہماری منتخب حکومتوں کے نا تجربہ کار اور نااہل لوگوں کا محکمہ تعلیم کا سرپرست بن جانا ہے جن کے پاس نہ کوئی پلاننگ ہوتی ہے اور نہ پالیسی۔

موجودہ حکومت جسے آپ دوسرے الفاظ میں تبدیلی سرکار بھی کہہ سکتے ہیں نے جب قائم ہوئی تو تعلیمی اس نے ایمرجنسی کا اعلان کردیا اور ہنگامی بنیادوں پر محکمۂ تعلیم میں اصلاحی کام شروع کیا اور اس منصوبے پر خیبر پختونخواکے بجٹ کا بڑا حصہ لگایا گیا، پانچ سالہ دور میں ہر وقت میڈیا پر تعلیمی اصلاحات اور ترجیحات کے دعوے کئے گئے لیکن گذشتہ حکومت کے جاتے ہی تعلیمی ایمرجنسی ڈھیر ہوگئی۔ امسال سالانہ میٹرک امتحانات میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے جبکہ جماعت نہم اور دہم کے سالانہ نتائج میں سب اچھی پوزیشنیں مہنگی تعلیم بانٹنے والوں نے لیں۔  صوبائی حکومت کی تعلیمی اصلاحات اور ترجیحات مؤثر ثابت نہ ہوسکیں۔

میٹرک کے بعد کسی طالب علم کا اصل معنوں میں تعلیمی دور شروع ہوتا ہے۔ ہر طالب علم کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اچھے اور معیاری کالج کا انتحاب کرے اور اسے وہاں داخلہ مل جائے۔

باجوڑ میں اس وقت کل تین کالجز ہیں جن میں سر فہرست گورنمنٹ ڈگری کالج خار ہے جبکہ گورنمنٹ ڈگری کالج برخلوزو ماموند اور گورنمنٹ کالج زوربندر بھی تعلیم کی مد میں اپنی خدمات پیش کررہے ہیں لیکن برخلوزو کالج کا زیادہ تر حصہ سیکیورٹی فورسز کے دس سال قیام کے باعث استعمال کے قابل نہیں رہا اس لیے اس حصے کی دوبارہ تعمیر تک کالج انتظامیہ نے داخلوں کا کوٹہ کم کردیا ہے۔

اس فیصلے سے تحصیل ماموند اور دیگر علاقوں کے سیکڑوں طلبہ داخلوں سے محروم ہوجائیں گے جس سے طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑجائے گا۔ اس فیصلے کو مد نظر رکھتے ہوئے دیگر کالجز بھی اب داخلہ میرٹ بڑھائیں گے جس کی وجہ سے زیادہ تر سرکاری سکولوں کے غریب طلبہ نہ صرف متاثر ہوں گے بلکہ ان کا تعلیمی کریئر ختم ہونے کا اندیشہ پیدا ہوجائے گا۔

دوسری جانب طلبہ کے والدین انتہائی فکرمند ہیں کیونکہ طلبہ کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ والدین اپنے خون پسینے کی کمائی سے اٹھاتے ہیں۔

بچوں کے والدین اور متاثرہ طلبہ نے محکمۂ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر میٹرک سے فارغ سیکڑوں طلبہ کے لئے ان کالجوں میں مزید اساتذہ اور کسی متبال بلڈنگ کا انتظام  کیا جائے تاکہ طلبہ کا مستقبل تباہ ہو نے سے بچ سکے ورنہ اس نقصان کا ازالہ شاید پھر ممکن نہیں ہوگا۔

Show More
Back to top button