قبائلی خواتین کی عظمت، جرات و بہادری کو سلام!

سی جے شمائلہ افریدی

ہمارے معاشرے میں خواتین بارے وہی فرسودہ و روایتی سوچ اس دور میں بھی پائی جاتی ہے، بعض بزرگ حتٰی کہ کچھ تعلیم یافتہ لوگوں کو آج بھی یہ کہتے ہوئے سنا اور دیکھا جاسکتا ہے کہ عورت گھر کی چار دیواری میں رہے اور مرد سے خود کو کمزور سمجھے۔

لیکن دوسری طرف آج بھی بعض شوہر ایسے ہیں کہ وہ خود کام کرتے ہیں نہ ہی اپنے فرائض پورے کرتے ہیں تو ایسے  میں کوئی خاتون کرے بھی تو کیا کرے؟ ظاہر ہے ایسے گھرانوں میں خواتین ہی باہر نکل کر کام کرتی ہیں اور گھر کی کفالت کرتی ہیں۔

جہاں تک فاٹا کی خواتین کا تعلق ہے تو وہ بڑی محنت، جرات اور بہادری سے زندگی بسر کرتی ہیں حالانکہ ان خواتین کیلئے کوئی اصلاحی تنظیم موجود ہے نہ ہی ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعاون کیا جاتا ہے اس کے باوجود فاٹا کی خواتین کی اکثریت گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دیگر فرائض بھی سرانجام دیتی ہیں۔

فاٹا کی خواتین اونچے اور دشوار گزار پہاڑوں سے لکڑیاں کاٹ کر لاتی ہیں جو اپنے گھر کا چولہا جلائے رکھنے اور یا پھر بعض مالی تنگدستی کی صورت کچھ نقدی ہاتھ آنے کا ذریعہ بنتے ہیں، سچ پوچھیے تو یہ کام اتنا مشکل ہے کہ شاید اوسط درجے کا کوئی مرد بھی نہ کرسکے۔ اسی طرح پانی بھرنے کی تقریباَ ساری ذمہ داری بھی انہی خواتین کے کاندھوں پر ہوتی ہے لیکن پانی کا چشمہ ان کے گھر کے پاس تھوڑی ہوتا ہے بلکہ اس کیلئے بھی انہیں طویل مسافت اور اونچی نیچی گھاٹیوں اور ٹیلوں سے ہوکر جانا پڑتا ہے۔

فصلوں کی بوائی اور کٹائی بھی فاٹا کی خواتین کی ذمہ داری ٹھہرتی ہے جبکہ بھیڑ بکریوں اور دیگر مویشیوں کی دکھ بھال بھی فاٹا کی خواتین ہی کرتی ہیں، یہی مویشی ایک طرح سے ان کا ذریعہ معاش بھی ہے یعنی یہاں بھی خاتون خانہ ہی ہوتی ہے جو خاندان کیلئے جان جوکھوں میں ڈال کر دو چارپیسوں کا بندوبست کرتی ہے۔

اس کے علاوہ پتھر ڈھونا ہوں یا پھر دیواروں اور چھتوں کی لپائی کیلئے مٹی کھودنا اور پھر ٹوکریوں میں بھر بھر کر لانا یہ سارے کام بھی اسی صنف کے ذمے ہوتے ہیں جسے عرف عام میں صنف نازک کہا جاتا ہے۔

یہ امر تو طے ہے کہ کسی خاتون کی سب سے بڑی زمہ داری اپنی اولاد کی پرورش اور ان کی تربیت ہوتی ہے، فاٹا کی خواتین اس باب یا میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہیں بلکہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح سے کرتی کہ ان کے بچے ڈاکو چور یا دہشت گرد نہیں بنتے بلکہ وہ ذمہ دار، سنجیدہ اور فرمانبردار بیٹے بن جاتے ہیں۔

مختصر یہ کہ فاٹا کی خواتین کھبی دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتیں بلکہ محنت مشقت کرکے اپنی زندگی بسر کرتی ہیں لیکن کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لاتیں۔

قبائلی خواتین کے حوصلے ہمیشہ بلند ہوتے ہیں، ان کی ہمت، جرات و بہادری کی مثالیں دنیا میں نہیں ملتیں بس فرق یہ ہے کہ یہ خواتین دنیا کی نظروں سے پوشیدہ ہیں شہروں سے دور قبائلی علاقوں میں آباد ان خواتین کو ہمیشہ کمزور سمجھ کر نظر انداز ہی کیا جاتا رہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ فاٹا انضمام کے اس عمل میں فاٹا کی خواتین پر خصوصی توجہ دی جائے، انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے، انہیں صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے بہتر حکمت عملی وضع کی جائے اور ان کی صلاحیتوں سے کماحقہ فائدہ اٹھانے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

سب سے بڑھ کر ساری قوم کو فاٹا کی خواتین کی عظمت، ان کی ہمت اور جرات و بہادری کا احساس کرنا چاہیے اور قبائلی معاشرے میں جو عظیم کردار وہ ادا کرتی آرہی ہیں اس پر انہیں سلام پیش کرنا چاہیے۔

آخر میں اس فرسودہ و روایتی سوچ کے جواب میں یہی کہوں گی کہ یہ حقیقت بھی ہمیں تسلیم کر لینی چاہیے کہ ہم خواتین کو کبھی بھی معاشرے سے الگ یا کم تر نہیں سمجھ سکتے کیونکہ جس طرح بغیر علم کے عمل کا کوئی فائدہ نہیں اسی طرح عورت کے بغیر معاشرے کی کوئی اہمیت نہیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button