مودی سرکار کے احمقانہ اقدام سے کشمیر اک بار پھر فلیش پوائنٹ بن گیا

ساجد محمود خان

بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کو دیگر انڈین ریاستوں کے مقابلے میں قدرے زیادہ خودمختاری دیتا تھا اور یہ وہی شق تھی جس کی بنیاد پر جموں و کشمیر کے مہاراجہ نے ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ کیا تھا۔ حال ہی میں جب بھارت حکومت نے آئین میں صدارتی حکم نامے کے تحت جموں و کشمیر کی خودمختاری سلب کرنے کی کوشش کی تو بہت سے حلقوں میں اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ بہت سے ماہرین نے اسے مسئلہ کشمیر جو بہت عرصے سے اقوام متحدہ کے سرد خانےمیں پڑا ہوا تھا کے حل کے لیے شدید دھچکا قرار دیا مگر میری ناقص رائے اور فہم کے مطابق یہ قدم بھارت میں برسرِ اقتدار پارٹی کی طرف سے ایک نہایت احمقانہ قدم تھا جس سےجموں و کشمیر پر بھارت کی گرفت کمزور اور مسئلہ کشمیر دوبارہ سے عالمی سطح پر اجاگر ہو کر عالمی سطح پر خبروں کی زنیت بن گیا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو اس بھارتی اقدام سے بہلے بھارت اس  مسئلے کو عالمی سطح پر پس پشت ڈالنے میں کامیاب ہو گیا تھا، بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے مگر جب عالمی برادری کشمیر میں بھارتی اقدامات کو جب دیکھتی یا سنتی ہے تو وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتی ہے۔

بہت سی عالمی تنظیموں اور خبر رساں اداروں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی بھارتی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے بھارتی صدارتی حکم نامے  اور اس کے نتجے میں کیے گئے ظالمانہ اقدامات نے اس مسئلے کو دوبارہ فلیش پوائنٹ بنا دیا اور جیسا کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ 50 سالوں میں یہ پہلی بار ہے کہ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سب سے اعلیٰ سفارتی فورم پر زیر بحث لایا گیا ہے۔

یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ بھارت کے حالیہ احمقانہ اقدامات ہی کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کئی دہائیوں کے بعد دوبارہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث لایا گیا۔ دنیا بھر کے مختلف خبر رساں اداروں نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے حوالے سے کوریج کی اور جنوبی ایشیاء کے اس حل طلب مسئلہ کا ذکر بار بار کیا گیا۔

اس موقع پر سلامتی کونسل کے 15 اراکین نے بند کمرے کے اجلاس میں کشمیر کے مسئلے پر بحث کی اور مسئلے کے پُرامن حل پر زور دیتے ہوئے دونوں فریقین پاکستان اور انڈیا کو اپنے مسائل باہمی طور ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

اگر ہم پچھلی چند دہائیوں کا مطالعہ کریں تو اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو نہ صرف مغربی ممالک بلکہ مسلم امہ کی جانب سے بھی مسلسل نظر انداز کیا گیا جس کی محتلف وجوہات ہیں جن میں سے اقتصادی وجوہات سرفہرست ہیں۔

بعض ماہرین کی نظر میں بھارت کے ساتھ بیشتر ممالک کے اقتصادی روابط ہیں جس کی وجہ سے وہ دبے الفاظ میں مسئلہ کشمیر کے حل کی بات تو کرتے جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے مگر اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پر کم ازکم کشمیر کو ایک مسئلہ تو قرار دیا گیا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو بظاہر مسئلہ کشمیر پر سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں نکلیں گے مگر اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس اجلاس پر دنیا بھر کی نظر لگی ہوئی تھیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس تناؤ سے دنیا کو یہ پیغام بھی واضح ہو رہا ہے کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرات آج بھی مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ساری دنیا کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔

Show More
Back to top button