بیت اللہ کی زیارت، اللہ کا جتنا بھی شکر دا کروں کم ہے

رانی عندلیب

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

یہ خواہش بھی عجیب شے ہے، انسان اپنی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے کتنے جتن کرتا ہے، ایسے ہی ہزار خواہشات میری بھی ہیں جو رفتہ رفتہ پوری بھی ہورہی ہیں جس پر میں اللہ کا جتنا بھی شکر دا کروں کم ہے۔

میری ہزار خواہشوں میں سے ایک اللہ کے گھر کی زیارت اور عمرے پہ جانے کی خواہش بھی تھی جو میری لاکھ دعاؤں کے بعد آخر کار پوری ہوئی۔

سولہ اپریل دوہزار انیس کو دن کے ٹائم چاربج کر دس منٹ پر میرا، میرے بھائی اور میری چھوٹی بہن کا ٹکٹ اوکے ہو گیا، پندرہ اپریل کی رات مجھے خوشی سے نیند نہیں آرہی تھی اور آخر کار صبح ہو ہی گئی اور دن کے گیارہ بجے ہم گھر سے پشاور ائیرپورٹ کے لیئے روانہ ہوئے۔ بے چینی اور خوشی کی انتہا تھی۔ وہاں عمرے کی نیت باندھی، نفل پڑھے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ہم ریاض روانہ ہوگئے۔

ہر چیز نئی نئی سی

میں پہلی دفعہ جہاز کا سفر کر رہی تھی تو ہر چیز مجھے کافی نئی نئی سی لگ رہی تھی اور پھر ہر چیز کو اپنے موبائل کے کیمرے میں بند کرنے لگی۔ ریاض پہنچ کر عجیب لگ رہا تھا وہاں کا ائیرپورٹ کافی وسیع رقبے پر پھیلا اور بہت خوبصورت ہے۔

جہاز سے اترے، اپنا سامان لیا اور شٹل میں بیٹھ کر آدھ گھنٹہ سفر طے کرنے کے بعد ہم انتظار گاہ پہنچے جہاں ہم نے مختلف جہگوں پر تصویریں بنائیں، تقریبا ساڑھے پانچ گھنٹے کے بعد ہماری دوسری فلائٹ کا وقت آیا۔

ریاض سے جدہ پہنچے، اپنا سامان لیا اور امیگریشن کرانے کے بعد گاڑی میں بیٹھے جو ہوٹل انتظامیہ نے بیجھی تھی۔ گاڑی میں تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر کرنے کے بعد ہم ہوٹل کے سامنے اترے۔ یہ سترا اپریل کی صبح کے چار بجے تھے۔

یااللہ تیرا شکر!

اس وقت بیت اللہ شریف سے صبح کی اذان کی خوبصورت آواز آرہی تھی، سامان ہوٹل کے کمرے میں رکھا اور حرم شریف کی طرف روانہ ہوئے تاکہ فجر کی نماز کے بعد عمرے کے فرائض سرانجام دیں سکیں۔

اس وقت مختلف کیفیات میرے اوپر طاری تھیں، اللہ کے گھر کو دیکھتے ہی میری آنکھوں سے آنسو روانہ ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا جس نے مجھ جیسی گناہ گار کمزور بندی کو اپنے گھر کا دیدار کرایا۔

دنیا میں اللہ کا گھر یعنی خانہ کعبہ ایسی جگہ ہے جہاں جتنا مرضی رو لو کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ کیوں رو رہی ہو، کسی کو اتنی فرصت کہاں ہوتی ہے، ہر کوئی عبادت میں مگن ہوتا ہے۔

خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے بعد سعی کی، یعنی صفا مروۃ کے چکر لگائے۔ صفا مروۃ کے مقام پر بھی عجیب سی کیفیت طاری ہوتی ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا، مقام ابراہیمی کو دیکھو لگتا ہے شاید میں دوسری دنیا میں آگئی ہوں۔

گنبد خضراء اور آنکھوں کی ٹھنڈک

اسی طرح سے دن گزرتے گئے اور بائیس اپریل دوہ ہزار انیس کو ہم دوپہر کے وقت مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور رات کے تقریبا دس بجے وہاں پہنچے، اگلے دن صبح سویرے مسجد نبوی گئے جہاں ہم گیٹ نمبر تین سے داخل ہوئے، خواتین عموماَ گیٹ نمبر تیرہ سے داخل ہوتی اور نماز پڑھتی ہیں لیکن وہ دروازہ ہم سے کافی دور تھا۔

مسجد نبوی میں داخل ہوئی تو پھر سے ایک عجیب سی کیفیت، ذہن چودہ سو ہجری پیچھے چلا گیا، وہی سبز گنبد جسے میں بچپن میں صرف ٹی وی سکرین پر دیکھتی تھی آج اللہ کے فضل وکرم سے گنبد خضراء اپنی نظروں کے بالکل سامنے تھا۔

یا اللہ! اس سبز گنبد میں اتنا اثر کہ دیکھنے سے آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے تو جس نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت مبارکہ خود اپنی آنکھوں سے کی ہوگی اس کی کیا حالت ہوتی ہوگی۔

ریاض الجنۃ میں دو رکعت نفل

ریاض الجنۃ وہ جگہ ہے جہاں حضور پاک ﷺ کے روضہ مبارک کا صرف جنگلہ ہے وہ آپ چھو سکتے ہیں اور سبز رنگ کی قالین ہے۔ ریاض الجنۃ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جس نے اس پر نفل پڑھی تو ایسا ہے جس نے جنت میں نفل پڑھی ہو کیونکہ یہ جنت کا ٹکڑا ہے۔

وہاں صرف رات کے دس سے لے کر دو بجے اور دن کو آٹھ سے بارہ بجے تک خواتین جاکر زیارت کرسکتی ہیں لیکن مرد حضرات ہر نماز کے بعد جاسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ان مخصوص اوقات میں روضہ مبارک کا دروازہ کھلتا ہے۔

دوسرے دن تہجد کے بعد گیٹ نمبر پچیس پر گئے اور انتظار کرنے لگے، دن کے تقریبا نو بجے کے قریب ہماری باری آئی۔ ہم مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے ریاض الجنہ میں داخل ہوئے۔

دروازہ کھلتے ہی خواتین کا سیلاب اندر داخل ہوا اور پھر زاروقطار رونے کی آوازوں میں ہم سب خواتین نے حضور پاک ﷺ کے روضہ مبارک کو سلام کیا اور درود پاک پڑھنے لگیں۔

سبز رنگ کی قالین پر نوافل پڑھنا بہت ہی مشکل کام ہے جیسے زندگی اور موت کی جنگ لڑرہے ہیں۔ زیادہ رش کی وجہ سے اکثر خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں کیونکہ اگر کوئی خاتون خداںخواستہ گرتی تو پھر مشکل سے زندہ اٹھتی ہے۔                                                                                                                                       (جاری ہے)

آخری حصہ 

میدانِ عرفات کی مٹی پاکستانی ہے!

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button