میدانِ عرفات کی مٹی پاکستانی ہے!

رانی عندلیب

مقامات مقدسہ کی زیارت

مدینہ منورہ میں ہم نے مختلف مقامات مقدسہ کی زیارت کی،احد کی پہاڑی پر گئے، اور مسجد قبا و مسجد قبلتین سمیت دیگر مقدس مقامات کی زیارت کی۔

مسجد قبا تاریخ اسلام کی پہلی مسجد ہے جو حضورﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کرتے ہوئے یہاں قیام کے دوران تعمیر کی تھی، کہتے ہیں کہ مسجد قباا میں دورکعت نفل پڑھنے کا ادائیگی عمرہ جتنا ثواب ملتا ہے۔

مسجد قبلتین گئے تو ہمیں بتایا گیا کہ خانہ کعبہ سے قبل مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے لیکن حضور پاکؐ کی خواہش تھی کہ وہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں، اللہ نے اپنے محبوب کی خواہش پوری کردی، ہجرت کے دوسرے سال نبی اکرمؐ اک روز یہاں ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے جب دوران نماز ہی اللہ تبارک و تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپؐ کو اپنا رخِ انور قبلہ اول سے مسجد حرام کی طرف موڑنے کا حکم دیا اور آپؐ نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور صحابہ کرام نے آپکی تقلید کی، اسی باعث ہمارے پیارے نبی نے اس کا نام مسجد قبلتین رکھا یعنی دو قبلوں والی مسجد۔

مدینہ کے بازار میں

مدینہ کے بازار میں سناروں کی دوکانیں ہیں جہاں پر بہت ہی خوبصورت اور نئے ڈیزائن کے زیورات ملتے ہیں اور بہت ہی کم خواتین ہونگی جو ان زیورات کی طرف مائل نہیں ہونگی، اسکے علاوہ ارد گرد کجھور، تسبیح اور جائے نماز کی دوکانیں بھی ہیں۔

مدینہ سے مکہ واپسی

یکم مئی کی شام  ہم مدینہ سے واپس مکہ کی جانب روانہ ہوئے، راستے میں ہم نے میقات پہنچ کر عمرہ کی نیت باندھی، دو رکعت نفل ادا کیے، رات کے پونے گیارہ بجے مکہ پہنچے، ہوٹل میں سامان رکھا اور حرم شریف عمرہ کے لیے گئے۔رات کے تقریبا دوہ بجے ہم نے دوسرہ عمرہ ادا کیا۔

حرم شریف کے ساتھ ابوجہل کا گھر انتہائی وسیع رقبے پر بنا ہوا ہےجاس میں ہزاروں کی تعداد میں باتھ رومز بنائی گئی ہیں۔

حرم شریف سے تھوڑے ہی فاصلے پر وہ گھر ہے جہاں حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی لیکن اب یہ ایک لائیبریری میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

مکہ کی گرمی ایسی ہے جیسے کوئی پل آپ کو پگھلا کر رکھ دے گی۔

ہم روزحرم شریف تہجد پڑھنے جاتے اور فجر کی نماز ادا کرکے واپس آتے، حرم شریف کی آذان دل کو سکون دیتی ہے اور نماز کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے واقعی اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں، اور سچ میں ہمیں اللہ دیکھ رہا ہے، اس خیال سے دل کو ایک طرح کا سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

غارِ حرا اور غارِ ثور پر

تین مئی کو ہم مکہ کے مقدس مقامات کی زیارت کرنے کے لئے صبح سویرے تیار ہوئے، سارے عازمین مختلف بسوں میں سوار ہوئے اور مقدس مقامات کی زیارت کرنے کے لیے روانہ ہوئے، غار حرا گئے جسے جبل رحمت بھی کہتے ہیں کیونکہ یہاں پر پہلی وحی آپﷺ پر نازل ہوئی تھی۔

غارثور گئے انتہائی اونچائی پر یہ غار ہے اسکے علاوہ اس مقام پر گئے جہاں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسمعیلؑ کو ذبح کرنا چاہا تھا۔

مسجد جن گئے اور پھر میدان عرفات گئے جہاں ہم نے دورکعت نفل پڑھے۔ میدان عرفات وہ مقام ہے جہاں قیامت کے دن جزا او سزا کا حساب ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  بیت اللہ کی زیارت، اللہ کا جتنا بھی شکر دا کروں کم ہے

میدانِ عرفات کی مٹی پاکستانی ہے

ایک اور اہم بات تو بتانا میں بھول ہی گئی اور وہ یہ کہ میدان عرفات میں نیم کے پودے ضیا الحق کے دور میں پاکستان سے لاکر لگائے گئے تھے جبکہ میدان عرفات کی زمین پر جو مٹی ڈالی گئی ہے وہ بھی پاکستانی ہے۔

میدان عرفات میں جبل رحمت ہے، حضرت بابا آدم علیہ سلام اور بی بی حوا چالیس سال بعد اسی مقام پر ملے تھے، واپسی پر مسجد عائشہ بھی دیکھی۔

پہلی مرتبہ باجماعت تراویح

چھ مئی کو پہلا روزہ تھا جس سے ایک روز قبل ہی شام کے وقت مکہ کے تمام بازاروں او دوکانوں پر قمقمے لگائے گئے۔

میں نے حرم شریف میں امام کعبہ کے پیچھے تراویح پڑھی، زندگی میں پہلی مرتبہ ایسے تراویح پڑھنے کا موقع ملا۔ اللہ یہ موقع بار بار نصیب کرے۔ لیکن سب سے عجیب اور انوکھی بات یہ لگی کہ صلوۃ وتر اب الگ پڑھیں گے یا امام کے پیچھے؟

تھوڑی دیر بعد امام نے نیت باندھی، دو رکعت الگ پڑھے اور دوبارہ ایک رکعت کی نیت باندھی جس میں دعا بھی دوسری پڑھی جوکہ ہمارے لیے نئی بات تھی۔

مکہ سے پشاور تک

پانچ مئی کی رات کو پیکنگ کی کیونکہ چھ مئ کو صبح بارہ بجے ہماری روانگی تھی لیکن اس دوران جن تکالیف کا ہمیں سامنا کرنا پڑا وہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی، ہمیں دو بجے کا کہا گیا تھا اور ہم چار بجے روانہ ہوئے۔ تقریبا ساڑھے چھ ہم ائیر پورٹ میں تھے اور وہیں پہلا روزہ بھی افطار کیا، ہماری فلائٹ رات گیارہ بجے تھی جو ایک گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوئی، پونے دو بجے ہم ریاض پہنچے جہاں چھ گھنٹے گزار کر ہم صبح آٹھ بجے جہاز میں بیٹھے، تقریباً نو گھنٹے کی فلائٹ کے بعد شام کے وقت ہم پشاور ائیرپورٹ میں تھے۔

Show More
Back to top button