غگ یا جبری شادی کا یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا؟

 

سی جے تارا اورکزئی

قبائلی ضلع کرم میں آج بھی ایسی رسومات اور رواج ہیں جن کی وجہ سے لڑکیوں کے بنیادی حقوق سلب کرلیے جاتے ہیں ان کی جوانیاں انہی رسومات کی بیڑیوں میں جکڑی گزرجاتی ہیں۔ انہی میں سے ایک رسم ”غگ‘‘ بھی ہے جو صدیوں سے ہمارے معاشرے میں چلی آرہی ہے اور نجانے کتنی بےبس و لاچار لڑکیوں اور عمر رسیدہ خواتین کے پیروں کی زنجیر بنی ہوئی ہے۔ یہ رسم ہے کیا، کسی نوجوان یا اس کے بڑوں میں سے کوئی ایک (اکثر لڑکی کے گھر کے باہر فائر کرکے) اعلان کرتا ہے کہ فلاں دختر فلاں ہماری امانت ہے جس کے بعد کسی کی کیا مجال جو ایسی ”غگ زدہ‘‘ لڑکی کا ہاتھ مانگے۔

یہ نہ ہو تو بیشتر خاندانوں میں بچہ بچی کی پیدائش کے ساتھ ہی انہیں نتھی کردیا جاتا ہے، ظاہر ہے خاندان کے بڑے ہی یہ فیصلہ کرتے ہیں جس کے آگے اولاد نے صرف سرتسلیمِ خم ہی کرنا ہوتا ہے خواہ بعد میں ان کی آپس میں بنتی ہو یا نہیں کیوں؟ کیونکہ بڑے نہیں چاہتے کہ لڑکیاں خاندان سے باہر شادیاں کریں۔

بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکی پیدا ہوئی اور اسے گھر ہی کے کسی لڑکے کے نام کر دیا گیا خواہ لڑکے کی عمر کتنی بھی ہو یا سرے سے پیدا ہی نہیں ہوا ہو، اک بھائی دوسرے سے کہہ دیتاا ہے کہ اب کے میرا بیٹا پیدا ہوا تو آپ کی یہ دخترِ نیک میری ہی بہو بنے گی۔ حالانکہ وہ جانتے بھی نہیں کہ بیٹا پیدا ہوگا یا بیٹی یا پھر یہ دونوں میں سے کوئی بھی نہیں۔

ایسی رسومات کی اجازت اسلام دیتا ہے نہ ہی دنیا کا کوئی بھی قانون لیکن ان کی حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا تو پھر ان کا سدباب کیوں نہیں کیا جاتا۔

ایک اندازے کے مطابق قبائلی ضلع کرم کی اکثر نوجوان لڑکیاں اسی باعث ذہنی مرض میں مبتلا ہوئی ہیں بلکہ زیادہ دور بھی نہیں سالِ رواں میں ہی ایسی چار پانچ مچالیں سامنے آئیں جہاں کسی لڑکی یا خاتون نے خودکشی ایسا انتہائی قدم اٹھایا ہو بلکہ ایک تو دو بچوں کی ماں بھی تھی۔

سوال یہ ہے کہ بھلا یہ کیسا عذاب ہوگا جس کی وجہ سے ایک ماں تک دوبارہ سوچنے پر مجبور نہیں ہوئی، اپنی اولاد کا بھی خیال نہیں کیا اور انہیں بے سہارا چھوڑ کر اپنی زندگی کا چراغ گل کردیا۔

محولہ بالا رسومات یا رواج سے متاثرہ چند خواتین کے ساتھ ٹی این این کی نشست رہی جن کی روداد قارئین کے پیش خدمت ہے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں 14 سالہ مسماۃ (ع) نے بتایا کہ وہ دسویں جماعت کی طالبہ ہیں، پانچ سال کی تھیں جب ان کے چچازاد کی پیدائش ہوئی لیکن مٹھائی صرف اسی خوشی میں نہیں بانٹی گئی کہ چچا کے ہاں لڑکا ہوا ہے بلکہ میری قسمت کا فیصلہ کرنے کی خوشی میں بھی تقسیم ہورہی تھی، ”مجھے اچھی طرح پتہ ہے کہ میرا چچازاد اس رشتے سے خوش نہیں ہے، نہ ہی میں خوش ہوں لیکن اگر انکار کیا تو گھر والے پوچھیں گے کہ کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے، کس کو دل میں لیے پھر رہی ہو، یہ انکار میرے لیے تہمت بن جائے گا، اوپر سے گھر والے مارنے کی دھمکی دیں گے اسی وجہ سے سارے رنج و غم دل میں بسائے ہیں جن سے میری تعلیم متاثر ہورہی ہے اور میں قابل ہوننے کے باوجود بھی پڑھائی نہیں کرسکتی۔‘‘ اس نے بتایا۔

اسی طرح تین بےبس بہنیں بھی ہیں جو حسین و جمیل اور ہنرمند ہونے کے باوجود چالیس کے پیٹے میں داخل ہو گئی ہیں لیکن آج بھی گھر کنواری بیٹھی ہیں، وجہ؟ وہی غگ کی رسم۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں تینوں بہنوں میں سے ایک نے بتایا کہ ان کے والد نے بچپن میں اپنے بھائی سے کہا تھا کہ یہ تینوں ان کے گھر کی زینت بنیں گی لیکن جب ان کے چچازاد بڑے ہوئے تو ان کی چال چلن ٹھیک نہیں تھی، نشے کی لت میں مبتلا اور انتہائی خودسر، اکثر والد (اپنے چچا) سے بھی بد تمیزی کرتے جس پر والد نے رشتے سے انکار کیا تو چچا نے پستول نکال کر فائرنگ کی اور اعلان کیا کہ اس گھر جو بھی رشتہ لے کر جائے گا وہ ان کا شمن ہوگا۔ یہ 1990 کی بات ہے، چچا نے اپنے سارے بیٹوں کی شادیاں کرادیں آج ان کی اولاد شادیاں کررہی ہے لیکن ہم تینوں بہنیں آج بھی گھر بیٹھی ہیں۔

اک اور بہن نے ٹی این این کو بتایا کہ اسی غگ کی وجہ سے ہمارے خاندانوں میں سالوں سے دشمنی چلی آرہی ہے، اور بہت سی لڑکیوں کی زندگی یوں برباد ہورہی ہے جو خاندان میں شادی کرسکتی ہیں نہ خاندان سے باہر۔ مسماۃ (ش) نے بتایا کہ ایک دفعہ ان کی بہن کیلئے رشتہ آیا تھا تاہم اگلے ہی دن ان کے ایک چچازاد نے جاکر اسے چاقو سے زخمی کردیا اور ساتھ دھمکی دی کہ باز نہ آئے تو مارے جاؤگے۔ آج ان کی بہن کی عمر 45 سال کی ہوگئی ہیں، شادی کا لفظ ان کی قسمت میں ہی نہیں، امی ابو زندہ تھے تو زندگی تھوڑی گزر رہی تھی لیکن ان کے گزرنے کے بعد بس اک بوجھ سی بن گئی ہے، بھائیوں نے گھر بسا لیے ہیں اور بھابھیاں ہیں کہ ہر وقت طعنے دیتی رہتی ہیں کہ تم منحوسوں کی وجہ سے تمھارے بھائی دشمنی میں مبتلا ہیں۔

اسی طرح ایک اور خاتون نے بتایا کہ ان کی شادی کو 20 سال کا عرصہ ہو گیا ہے، بچپن میں ہی ان کا  رشتہ اپنے چچازاد سے طے کرلیا گیا تھا، شادی کے پہلے دس سال بڑی مشکل سے گزرے جس کے بعد وہ میکے آکر بیٹھ گئیں جبکہ چچازاد نے نیا گھر بسا لیا اور آج چار بچوں کا باپ اور اپنی زندگی میں خوش ہے لیکن میں خوار ہورہی ہوں یہاں تک کہ شوگر کے مرض میں مبتلا ہوگئی ہوں۔

یہ تو چند ایک خواتین تھیں جن کی روداد قارئیں کو پیش کی نجانے ایسی کتنی اور بےبس خواتین ہوں گی جو معاشرے کی ان فرسودہ روایات یا رسومات کی بھینٹ چڑھی ہوں گی، غگ ہو یا جبری شادی یہ سلسلہ آخر کب تک چلے گا؟

لہٰذا ہمارے نومنتخب ایم پی اے اور ایم این اے کے علاوہ قبائلی مشران کو بھی چاہیے کہ وہ مل بیٹھ کر اس کا  کوئی حل نکالیں تاکہ مزید زندگیاں خجل و خوار ہونے سے اور خاندان دشمنی و عداوت سے بچائے جا سکیں۔

Show More
Back to top button