کسی انسان کو دوسروں کی خوشیاں چھیننے کا کوئی حق حاصل نہیں

 

سی جے شمائلہ آفریدی

انسان اس دنیا میں آتا ہے زندگی بسر کرتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ کوئی اپنے اچھے اعمال کے ساتھ تو  بعض گناہ کا ارتکاب کرکے لیکن کوئی ایسا بھی بدنصیب جو انسانوں سے ہی بد دعائیں لے کر اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔

بدقسمتی سے انسانوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں اس زندگی کے مقصد کا بھی نہیں پتہ اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کس مقصد کے تحت انہیں اس دنیا میں اتنا عظیم رتبہ دے کے اللہ نے بھیجا ہے۔

بے مقصد زندگی کا کیا فائدہ جس میں صرف منافقت ہو، اپنی غرض ہو، اپنا مقصد ہو، انسان کو تکلیف دینا ہو، اس سے اس کی خوشی چھیننا، اسے تکلیف میں مبتلا کرنا اور اپنی ذات سے آگے کچھ نہ سوچنا، نہ انسان ہونے کا شرف نہ ہی زندگی کا کوئی حاصل وصول۔

اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا مگر انسان نے نیکی دیکھی نہ اپنا رتبہ اور نہ ہی رشتہ بس تکلیف دی اور رلایا۔ خود ہم نے زندگی میں کبھی کوئی نیکی کا کام کیا نہ اللہ کی عبادت اور نہ ہی اس کا اس طرح شکر ادا کیا جس طرح ہمیں کرنا چاہیے۔

بقول شاعر

زندگی آمد برائے زندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

میں نے یہ بھی دیکھا کہ دنیا میں جتنے بھی منافق کھلاڈی ہیں وہ انسانوں کی زندگی اور ان کے جذبات اور احساسات کے ساتھ فٹ بال یا کرکٹ کی طرح کھیل رہے ہوتے ہیں ایک کھیل سمجھ کے۔

زندگی قدرت کی طرف سے ایک خوبصورت تحفے کا نام ہے، چند لمحوں کی داستان ہے، خوشبو ہے، کسی عیش وعشرت کا نام نہیں نہ ہی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کا نام ہے لیکن بد قسمتی سے لوگوں کو ہم نے ہی بھکاری بنایا۔ دوسروں کی خوشیوں کو چھینا، انہیں کرب میں مبتلا کرکے رکھا۔ انسان نے ہی تو انسان کو بے بس بنایا۔

خیر ہم اس سے باخبر ہیں کہ اسی انسان کے اندر جو روح ہے وہ کسی بھی وقت ایک طوفان کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو اپنی لپیٹ میں اس طرح لے کے جاتا ہے کہ ہمیں بھی خبر نہیں ہوتی۔

اس زندگی کے تجربے نے یہ بھی سکھایا کہ زندگی عبادت ہے، رہنمائی ہے، آزمائش ہے، خدا کی طرف سے ایک انمول تحفہ ہے اورہر انسان کے دل میں رب ہے۔ اس لیے ہمارا حق نہیں کہ ہم کسی سے اس کی خوشیاں چھیننے کی کوشش کریں اور اسے تکلیف میں مبتلا کریں ورنہ خدا سب کی سنتا ہے اور وہ بہترین جاننے والا ہے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button