‘ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم’

سی جے شمائلہ آفریدی

اپنی منزل کے حصول میں کوشاں رہنے کیلئے ہر شخص کو قدم قدم پر کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اسے کسی ایسے شفیق و مہرباں دوست کی یا ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی رہنمائی کرے، اس کی ہمت بڑھائے، آزمائش یا کوئی مشکل ہو تو حوصلہ یا تسلی دے، اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کرے  اور اسے یقین دلائے کہ منزل کا حصول ممکن ہے، وہ اپنی منزل تک پہنچنے کی صلاحیت و مہارت رکھتا ہے، اور اس کیلئے کسی لمبی چھوڑی نصیحت یا تقریر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک دو بول ہی بولنے ہوتے ہیں، کوئی ایسا انسان جو ایک توانا مسکراہٹ کے ساتھ ایک پریقین لہجے میں اسے بتائے کہ شاباش تم کرسکتے ہو، ہمت مت ہارنا حوصلہ رکھو!

دنیا کے اربوں لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کا ایک راز، اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں بتاؤں کہ، ایسے ہی نایاب لوگوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے جو گرے، تھکے ہارے، ناکامیوں سے چور چور اور زخم خوردہ لوگوں کو سہارا دیں، کامیابی پر ان کا بھی حق تسلیم کرتے ہوئے انہیں حوصلہ دیں، ان کی ہمت بڑھائیں۔

دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا، انہیں ان کی قابلیت صلاحیت اور توانائیوں کا احساس دلانا، انہیں پرجوش رکھنا اور اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ان کا جوش و جذبہ بڑھانا ایک ایسی خوبی و خصلت ہے جسے کم از کم میں سرمایہ حیات قرار دیتی ہوں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حوصلہ بڑھانے دوسروں کی دل جوئی کرنے کی یہ خوبی بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔

یقیناً ہماری زندگی میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ہمیں مشکلات پر صبر و استقامت کی تلقین کرتے ہیں جنہیں ہماری جرات اور لگن پر بھروسہ ہوتا ہے لیکن ایسے لوگ کہاں زیادہ ہوتے ہیں بقول شاعر ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم۔

دوسروں کا احترام، قدر اور حوصلہ افزائی کریں، دلوں کو جوڑیں، توڑیں نہیں۔

کیونکہ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو ہمارے جذبات کی قدر کرتے ہیں نہ احساسات کی چہ جائیکہ وہ ہماری ہمت بڑھائیں یا حوصلہ دلائیں بلکہ ان کا تو کام ہی ہمیں تنقید کا نشانہ بناکے رکھنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ پوری ذندگی کسی کام کو سراہنے کی زحمت نہیں کرتے۔

ایسے لوگ بہترین کارکردگی کے انتظار میں دوسروں کو مایوسیوں کے گہرے کنوئیں میں دکھیل دیتے ہیں اور جب حوصلہ افزائی سے محروم پیارے آخرکار اپنے ہدف سے ہی دستبرداد ہوجاتے ہیں تو یہ کسی ماہر تجزیہ نگار کی طرح کہتے ہیں "میں نےتو پہلے ہی دن کہہ دیا تھا کہ تم کچھ نہیں کرسکتے فضول اپنا وقت برباد کررہے ہو، یہ کام کہاں ہونا تھا؟”

ہم دوسروں کی دل جوئی کریں یا دل شکنی، ہمت بندھائیں یا آس ہی توڑیں اس کا تعلق ہمارے رویوں سے ہوتا ہے، حوصلہ افزائی کے دو بول روکے رکھنا ایک ایسا منفی رویہ ہے جو کسی کی کامیابی کو دیمک کی طرح چاٹ سکتا ہے۔

ہمیں اپنے لفظوں کے انتخاب اور استعمال میں محتاط رہنا چاہیے، اپنے اور دوسروں کے دلوں میں ایسے زہریلے لفظوں کے پھتر نہیں پھینکنے چاہیے جو ان سے ان کی آنکھوں میں جگمگاتےخوابوں کی بینائی ہی چھین لیں بلکہ آئیں ہم یہ طے کرلیں کہ ہماری زبان اور ہاتھ زہریلے پھتروں سے خالی رہیں گے کیونکہ کامیاب زندگی کیلئے مثبت رویے، احساس شکر اور صحت مند عزت نفس بےحد ضروری ہے۔

سب سے بڑھ کر ہمیں ہر وقت اللہ کا شکر ادا  کرتے رہناچاہیے، جب ہم شکرگزار رہیں گے تو ہمارے اندر منفی طرز فکر کی گنجائش باقی نہیں رہے گی یوں ہم ایک خوشگوار کیفیت میں رہیں گے اور پھر ہمیشہ من پسند نتائج ہی ہمارے ہاتھ آئیں گے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مثبت رویے، احساس تشکر اور پروقار عزت نفس کامیاب زندگی کے ناگزیر ستون ہیں، ہم میں سے ہر شخص قابل ہے اور ہر ایک میں کامیاب ہونے کی پوری صلاحیت موجود ہے۔

ہمیں اپنی شخصیت کو مثبت اور حیات بخش خیالات سے سنوارنا چاہیے اور دوسروں کیلئے احترام، قدر اور حوصلہ افزائی کے الفاظ استعمال کرنے چاہئیں اور ہر کسی کا دل جوڑنا چاہیے، توڑنا نہیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button