ہندی ڈراموں سے ہندی زبان تک

 

رانی عندلیب

میں اپنی ڈائری ہندی میں لکھتی ہوں کیونکہ مجھے مزہ آتا ہے جب کوئی کہے کہ ذرا پڑھ  کر بتائیں کیا لکھا ہے۔

ہمارے ہاں بعض لوگوں کا بلکہ تقریباً تمام لوگوں کا رجحان انگریزی سیکھنے کی طرف ہوتا ہے لیکن میری خواہش ان تمام لوگوں سے الگ اور مختلف تھی، مجھے ہندی زبان اور اس کا رسم الخط سیکھنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔

کہتے ہیں چاہت کا کوئی مول نہیں ہوتا اور اگر آپ کی چاہت جنون کی حدوں کو پار کرنے لگے تو پھر آپ اسے پانے یا حاصل کرنے کیلئے تن من دھن لگانے کو تیار ہوجاتے ہیں۔

جب میں چھوٹی تھی تو انڈین ڈرامے کم کم ، کسوٹی زندگی کی، کہیں تو ہوگا وغیرہ وغیرہ بڑے شوق سے دیکھتی تھی تبھی میری ہندی زبان اور اس کا رسم الخط سیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی، ہندی تو میں نے ڈراموں سے بھی بہت سیکھی لیکن رسم الخط کا سیکھنا میرے لیے انتھائی کٹھن کام تھا کیونکہ پاکستان میں کسی سکول اور کالج میں ہندی رسم الخط سکھایا ہی نہیں جاتا۔

لیکن وہ بات تو آپ لوگوں نے سنی ہوگی کہ ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے، اور اگر دل میں کسی چیز کی سچی لگن اور چاہت ہو تو وہ کام ہوکر ہی رہتاہے، ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا۔

شروع میں، میں نے ہندی ڈراموں کے نام ہندی میں سیکھے جو ہندی رسم الخط سیکھنے کا میرا پہلا تجربہ تھا۔ پھر رفتہ رفتہ انڈین نیوز چینل دیکھنے لگی۔ ان میں آج تک اور این ڈی ٹی وی چینل میرے لیے بڑے کارآمد ثابت ہوئے۔ اس کے علاوہ اس سلسلے میں میری بہن سلمیٰ نے بھی میری بہت مدد کی، تمام حروف تہجی میں نے انہی کی مدد سے سیکھے۔ سلمیٰ نے یہ حروف تہجی دادا سے سیکھے ہیں۔

میرے لیے خوش قسمتی کی بات یہ تھی کہ میں ریموٹ کنٹرول سے چینل کو سٹاپ کرتی اور سکرین پر جو ہیڈ لائن ہوتی اسے پڑھتی تھی۔ رفتہ رفتہ میں نے حروف تہجی سیکھنا شروع کیے اور اس سے پہچان کرنا سیکھی۔ سب سے پہلے میں نے "آج تک” کا لفظ یا الفاظ سیکھے۔

اس میں میں نے سیکھا کہ الف کو شروع میں لکھتے ہیں اور درمیان میں کیسے ث، س، ح، ص کے لیے ایک ہی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح ز، ذ، ظ اور الف اور ع، ت، ط کے لیے بھی ایک ہی لفظ استعمال کرتے ہیں۔

ایک دن میری ہم جماعت کے پاس اخبار کا ایک ٹکڑا تھا جب میں نے دیکھا تو وہ ہندی اخبار کا تھا میں نے ایک ایک حرف کو ملا کر الفاظ ادا کئے ، اس پر اردو میں ہی الفاظ لکھے، اور اس طرح میں نے وہ اخبار کا پورا ٹکڑا پڑھ لیا۔

اسطرح میں روزانہ وہ ٹکڑا پڑھتی اور اس میں درج الفاظ پر غور کرتی، لیکن اب بھی مجھے اطمینان نہیں تھا کہ واقعی مجھے ہندی پڑھنا اور لکھنا صحیح طرح سے آتی بھی ہے یا نہیں۔ اسی میں دوسال گرزگئے۔ جب میں نے یہ زبان سیکھنا شروع کی تھی تو ہفتم میں تھی، دو سال گزرنے کے بعد ظاہر ہے کہ میں نہم جماعت کی طالبہ تھی۔

ایک دن ماموں کے گھر گئے، ان کا گھر اندرون شہر میں ہے، ہندی کے بارے میں بات چلی تو میں نے ماموں کو بتایا تو کہنے لگے کہ ان کے محلے میں ایک برادری رہتی ہے، سکھ لوگوں کا گھر ہے اور انہیں ہندی آتی ہے۔ میں نے کاغذ پر ہندی کے کچھ الفاظ لکھے جو ماموں نے ان سے چیک کروائے اور اس طرح ہندی زبان کا رسم الخط سیکھنے میں کافی آسانی پیدا ہوگئی۔

یوں میں کچھ نہ کچھ کاغذ پر لکھتی رہتی اور ماموں اپنے سکھ دوست کو دکھاتے اور اسطرح میری اصلاح ہوتی رہی اور دوسالوں میں، میں نے مکمل ہندی سیکھ لی۔ اب میرے موبائل میں ہندی کی بورڈ بھی ہے، جب میرا دل کرے میں ہندی میں مسیج لکھ لیتی ہوں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button