بندوں سے رابطہ منقطع اللہ سے رابطہ شروع!

 

گل حماد فاروقی

وادی بروغل جو چترال کے نہایت  شمال مغرب میں واقع ہے یہ وادی  ڈیڑھ سو گھرانوں پر مشتمل ہے مگر یہاں کے مکین اس جدید دور میں بھی بنیادی انسانی حقوق اور سہولیات سے محروم ہیں۔ یہاں کے لوگ آج بھی پتھر کے زمانے کی زندگی گزاررہے ہیں اگر دیکھا جائے تو بروغل میں دو سو سال پرانا ثقافت چھپا ہوا ہے۔

بروغل میں نہ تو سڑک ہے نہ بجلی، نہ سکول نہ ہسپتال، لوگ موبائل اور ٹیلیفون کی جھنجٹ سے بھی بے غم ہیں اور بروغل جانے والے سیاح جب بانگ نامی گاؤں سے گزرتے ہیں تو کسی نے شرارتا لکھا ہے کہ بندوں سے رابطہ منقطع اللہ سے رابطہ شروع۔ یعنی آپ کا  باقی لوگوں سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوجاتا ہے۔

یہاں جھونپڑی نما مکانات ہوتے ہیں جو بمشکل سولہ ضرب بارہ فٹ پر محیط ہوتے ہیں جس میں تندور، باورچی خانہ، ڈرائینگ روم، مہمان حانہ، چولہا، اور سب کچھ ایک ہی جگہ موجود ہوتے ہیں۔

وادی بروغل سطح سمندر سے تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کوئی درخت نہیں اگتا اور آکسیجن بھی کم ہوتا ہے۔ یہاں اکثر اکتوبر میں بھی برف باری ہوتی ہے۔

ہمارے نمائندے نے وادی بروغل کے مختلف دیہات کا پیدل سفرکرکے وہاں دورہ کیا  لوگوں کے گھر گھر جاکر ان کے مشکلات جانے اور بات چیت کی۔

یہاں اب بھی گندم کی فصل نہیں پکی اور گند م کے علاوہ اس سے ملتا جلتا ایک اور فصل جسے جو کہتے ہیں اسے لوگ اپنے مال مویشیوں کیلئے جمع کرکے بطور سٹاک رکھتے ہیں اور جب یہاں چار فٹ سے زیادہ برف باری ہوتی ہے تو ان کے مال مویشی گھروں کے اندر ہی رہتے ہیں اس وقت یہ خشک گھاس اور خوراک اپنے جانوروں کو کھلاتے ہیں۔

بروغل کے لوگ مال برداری اور سفر کیلئے زیادہ تر گھوڑا، یاک (جنگلی بیل) اور گدھا استعمال کرتے ہیں۔ ضعیف العمر لوگ بالخصوص خواتین میں بعض ایسے خواتین بھی ہیں جنہوں نے ابھی تک تارکولی سڑک، گاڑی، موبائل فون، ٹیلیفون اور چترال کا بازار بھی نہیں دیکھا ہے۔

یہ لوگ مال مویشی پالتے ہیں اس کی دودھ سے بنے ہوئے پنیر، پینک، کھرت، دیسی گھی اور دیگر چیزیں فروخت کرکے گزر بسر کررہے ہیں۔ یہ لوگ واخی زبان بول لیتے ہیں اور اکثر لوگ چترالی یعنی کھوار زبان بھی نہیں سمجھتے۔

یہاں اکثر اکتوبر میں برف باری شروع ہوتی ہے جو مارچ اپریل تک جاری رہتی ہے۔ ان کی غربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ زیادہ تر لوگ لکڑی بھی نہیں جلاسکتے ہیں کیونکہ چترال بازار سے لکڑی لانا بہت مہنگا پڑتا ہے مگر قدرت نے ان لوگوں کیلئے متبادل ایندھن کا بندوبست کیا ہوا ہے۔ یہاں ایک خاص گھاس ہوتا ہے جسے جڑ اور مٹی سمیت بلچے کے ذریعے زمین سے اکھاڑ کر خشک کرتے ہیں اور اسے سردیوں میں جلاتے ہیں مگر اس سے بہت سخت بدبو بھی نکلتی ہے۔

یہاں کے لوگ غربت کے باوجود نہایت مہمان نواز ہیں اور آنے والے سیاحوں، مہمانوں اور مسافروں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ وادی بروغل  کے لوگ وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی پاکستانی ہیں اور کم از کم  ان کیلئے سڑک کا بندوبست کیا جائے اور ساتھ ہی ان کے بچوں کیلئے سکول اور کالج، ہسپتال بھی کھولے تاکہ یہاں کے لوگ بھی دیگر شہریوں کی طرح زندگی گزارے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button