شادی میری ہے تمہیں اس سے کیا؟

 

خالدہ نیاز

لوگ آپ کو کسی بھی حال میں جینے نہیں دیتے خصوصاً جب کا تعلق صنف نازک سے ہو، آپ نے تعلیم بھی مکمل کرلی ہو اور کہیں پر ملازمت بھی کررہی ہوں تو پھر تو سمجھیں یہ سوال پوچھے بنا کوئی بھی آپ کو بخشنے کیلئے تیار نہیں ہوتا، ذرا سوچیں کونسا؟ بس یہی ایک سوال وہ بھی ‘بوڑھی ہوگئی ہو’ کی اپنی اس غیرضروری ججمنٹ کی دم کے ساتھ کہ شادی کب کروگی؟

یہ مسئلہ ہمارے معاشرے میں ہر اس لڑکی کے ساتھ ہے جس کی شادی کسی نہ کسی وجہ سے دیر سے ہوتی ہے یا پھر ہو ہی نہیں پاتی، کسی تقریب میں جاؤ تو سب سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہیں، ڈھیٹ قسم کے جو ہوتے ہیں وہ پوچھ بھی لیتے ہیں کہ آپ کی شادی کے چاول کب کھائیں گے؟ کچھ تو یہ بھی کہنے سے نہیں کتراتے کہ بیچاری کی عمر گزر گئی لیکن کنواری کی کنوری ہی ہے، شاید رشتے نہیں آتے ہوں گے۔ جلتی پہ تیل کا کام تو وہ آنٹیاں کرتی ہیں جو طنزیہ انداز مگر بڑے فخرسے کہتی ہیں کہ میری بیٹی کے تو اتنے رشتے آتے ہیں کہ کیا بتاؤں لیکن ان کے ابا کہتے ہیں کہ ابھی بہت چھوٹی ہے تعلیم حاصل کرلے پھر رشتہ بھی ہوجائے گا۔

میری ایک جاننے والی کہتی ہیں، فنکشنز کے دوران اسے اکثر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بس بہت پیسے کمالیے اب کوئی گھر والا ڈھونڈ لو تو میں کہتی ہوں اچھا صبر کرو یہاں سے فارغ ہوکر بازار جاتی ہوں اور اپنے لیے وہاں سے خریدتی ہوتی ہوں کیونکہ میرے پاس ویسے بھی پیسے بہت ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ شادی ضروری ہے لیکن نکاح تب ہی نصیب ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر ہوتا ہے کیونکہ شادی کا تعلق قسمت سے ہے، جب اور جس بندے سے نصیب میں لکھا ہوتا ہے اسی سے آپکی شادی مقررہ وقت پر ہوجاتی ہے، ایسے میں لوگوں کا کیا کام جو ہر وقت آپ سے شادی کے حوالے سے پوچھتے رہتے ہیں، شادی کب کروگی؟

ویسے اس کی ایک بات سیدھی جا کے دل پے لگی کہ شادی تو ہرکوئی کرسکتا ہے اور کربھی لیتا ہے لیکن بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو زندگی میں اپنے مقصد کو پالیتے ہیں کچھ ایسا کرجاتے ہیں کہ دوسروں کے لیے مشعل راہ بن جاتے ہیں۔ جب ایک انسان کی زندگی کا کوئی مقصد ہو اور وہ اپنے لیے اور اپنے گھروالوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہو تو پھر وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی شادی کی عمر گزررہی ہے بلکہ اس کا مقصد اس کے لیے زیادہ اہم ہوتا ہے۔

ایک دوسری لڑکی تو اسی باعث گاؤں جانا ہی چھوڑ چکی ہے کہ وہاں جب بھی کسی تقریب میں جاتی ہے تو خواتین یہی سوال کرتی ہیں کہ تمہاری ابھی شادی نہیں ہوئی؟

کہتی ہے کہ بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ خواتین اپنی بیٹیوں کو لاکر کھڑا کردیتیں کہ یہ دیکھو تمہاری ہم عمرہے لیکن اس کی بیٹی 15 سال کی ہے، کل پرسوں وہ بھی رخصت ہوجائے گی اور تم نے ابھی تک شادی نہیں کی؟

بعض اوقات لوگ آٌپکی زندگی میں اس قدر دخل انداز ہوتے ہیں جس سے آپ ذہنی طورپر ڈسٹرب ہوجاتے ہیں اور آپ مایوس ہوکر سوچنے لگتے ہیں کہ کیا واقعی میری زندگی میں کچھ بھی نہیں رہا، شادی ہی نہیں ہوئی تو بس ختم ہوچکی ہے؟

میری ایک دوست ہے وہ کہتی ہے شادی کب کروگی کا سوال اس سے پڑوس میں رہنے والی ہمسائی سے لے کردفتر میں کام کرنے والے کولیگ تک پوچھتے ہیں۔ وہ کہتی ہے ،شادی کرنا یا نہ کرنا میرے اختیار میں کہاں ہے، کسی کو زبردستی پکڑ کر شادی تو نہیں کرسکتی، اوپر سے رکشے میں بھی بیٹھوں تو ڈرائیور صاحب کا بھی پہلا سوال یہی ہوتا ہے، بی بی شادی شدہ ہو، ابھی تک شادی کیوں نہیں ہوئی، کیوں خود کو خوار کررہی ہو؟ بس کر لوشادی، خبردار! بہن بھائی کوئی کام نہیں آئے گا۔

وہ کہتی ہے بعض اوقات انسان ایسے سوالات کو نظر انداز کردیتا ہے لیکن آخر کب تک کیوںکہ ایک نہ ایک دن انسان کو ضرور اس بات کا احساس ہوجاتا ہے کہ میری شادی کیوں نہیں ہورہی اور ایسے میں وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔

اس نے ہمارے معاشرے کے اس تاریک پہلو کا بھی ذکر کیا کہ جب لوگ گھر سے باہر کام کرنے والی لڑکیوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی آنکھوں سے تو حیا چلی گئی ہے مردوں میں بیٹھ کرکام کرتی ہے اس کے پیچھے کون آئے گا۔ خاص طور سے مجھے یہاں یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے جو لڑکی میڈیا میں کام کرتی ہے اس کی شادی نہیں ہوتی، ایسے حضرات کیلئے عرض ہے کہ ہم نے کئی لڑکیاں ایسی بھی دیکھی ہیں جو گھر سے بھی باہر قدم نہیں رکھتیں لیکن ان کی شادیاں بھی کسی وجہ سے رکی ہوتی ہیں تو جناب میڈیا کی لڑکیوں کی شادی نہیں ہوتی والا آپ کا خیال بالکل غلط ہے۔ ہیں جی!

یاد رکھیے اور کبھی سوچیے بھی کہ ہمارے ہاں جو اکثر لڑکیاں گھر سے باہرکام کرتی ہیں وہ مجبور ہوتی ہیں کیونکہ انکے گھرمیں کوئی مرد نہیں ہوتا، وہ بیچاری اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ پال رہی ہوتی ہے، کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جو لڑکیاں مجبوری میں کام کرتی ہیں شادی کب کروگی کا سوال ان کو کس قدر تکلیف دے گا؟ نہیں ہم نے کبھی نہ سوچا ہوگا کیونکہ اگر ہم سوچنا شروع کردیں گے تو شاید کسی سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت ہی نہ کریں۔

دراصل ہمارے معاشرے کا المیہ ہی یہی ہے کہ آپ کی زندگی میں دوسروں کا بھی بہت کام ہوتا ہے، قدم قدم پرآپ کی زندگی میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کرتے ہیں، ہم دوسروں کو جینے کیوں نہیں دیتے؟

شادی ضروری ہے لیکن آجکل کے دور کو دیکھتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کہ بیٹے کے ساتھ بیٹی کو بھی اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہیے کہ وہ مشکل وقت میں اپنا پیٹ پال سکے، جب اس پہ برا وقت آئے تو وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے بلکہ اپنی محنت سے خود کما اور عزت کی زندگی گزار سکے۔

شادی کرنا سب کا بنیادی حق اور ضرورت زندگی ہے لیکن کیا زندگی کا مقصد صرف شادی ہے؟ شادی ضرویات زندگی میں سے ایک ضرورہے لیکن کسی کو شادی کے نام پر بلاوجہ تنگ کرنا، ہر وقت بس یہی ایک سوال کرنا کچھ مناسب نہیں لگتا۔

مجھے خود بھی بالکل اچھا نہیں لگتا جب ہرکوئی منہ اٹھا کے مجھ سے بس یہی سوال کرے کہ شادی کب کروگی؟ بھئی میری شادی ہے جب ہوگی ہوجائے گی تمہیں اس سے کیا؟

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button