اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے !

سی جے رضیہ محسود

عمران خان اقوام متحدہ میں مسلمان عورتوں کے پردہ کی بات کرتا ہے کہ عورتوں کے لئے پردہ مشکل بنا دیا گیا ہے۔ میں پاکستان بلکہ خیبر پختونخواہ کی بات کرتی ہوں کہ یہاں بھی عورتوں کے لئے پردہ مشکل بنا دیا گیا ہے۔ جو خود نقاب نہیں کرتیں وہ الگ بات ہے مگر جو اپنی مرضی سے نقاب کرتی ہیں ان کیلئے نقاب مشکل بنادیا گیا ہے۔ وہ مختلف فیلڈز میں نقاب کی وجہ سے آگے جانے سے یا تو رہ جاتی ہیں یا پھر نقاب ہٹا دیتی ہیں کیونکہ انکی مجبوری ہوتی ہے اور یہاں انکی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ میں میڈیا کے حوالے سے بات کروں گی کہ ہمارے میڈیا میں نقاب کو ایک رکاوٹ سمجھتا جاتا ہے کہ نقاب کے ساتھ آپ سکرین پر نہیں آسکتیں۔ بڑے چینلز تو صرف آپ سے انٹرویو لینے کے لئے بھی یہ ڈیمانڈ رکھتے ہیں کہ نقاب ہٹاؤگی تو انٹرویو لیں گے بصورت دیگر نہیں لے سکتے اور نقاب کے ساتھ آپ کام نہیں کریں گی۔ اکثر ایسی لڑکیاں جنکی مجبوری ہوتی ہے نقاب ہٹا دیتی ہیں اور ساری عمر کا ان کا پردہ ختم ہو جاتاہے۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ ہم خود کو اسلامی ملک میں شمار کرتے ہیں اور اسلامی ملک کا نام لیتے ہیں۔ یہ کیسا اسلامی ملک ہے جہاں پر پردہ میں کام کرنا آپکے لئے ناممکن بنا دیا جاتا ہے؟ افسوس کی بات ہے، چاہیے یہ کہ آپ کے ٹیلنٹ کو دیکھا جائے مگر یہاں تو ٹیلنٹ سے زیادہ آپکی صورت کو دیکھا جاتا ہے۔

کے پی کے کی حکومت نے جب طالبات کیلئے عبایہ پہننے کی شرط لازمی قرار دی تو بہت شور ہوا مختلف حیلوں بہانوں سے اسی میڈیا والوں نے تنقید کا نشانہ بنایا کہ اسی دن شام کو وہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔ ہم ایسے اسلامی ملک میں رہتے ہیں جہاں پر اسلامی تعلیمات رائج کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ عورتوں کو عبایہ میں بھی تنگ کیا جاتا ہے۔ یہاں پر ایک سوال کہ جب اسلام نے حکم دیا ہے پردہ کرنے کا تو ہم کون ہوتے ہیں اسکو ٹارگٹ کرنے والے؟ جی عبایہ میں بھی تنگ کیا جاتا ہوگا مگر وہ لوگ یہ کرتے ہیں جن پر شیطان سوار ہو اور بغیر پردہ کے آپ ان لوگوں کو خود تنگ کرنے پر مجبور کرتے ہوں جن کی سوچ نہیں ہوتی مگر آپ کو بے پردہ دیکھ کر ان کی سوچ بدل جاتی ہے اور غیر شرعی کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیونکہ پردے میں عورت کا رعب و دبدبہ ہوتا ہے اور بغیر پردہ کے اس کا رعب تقریبا 70 فیصد پہلے سے ختم ہوا ہوتا ہے اور وہ ایک کھلونے کی مانند نظر آتی ہے۔ ہماری بہت سی بہنیں اسی ماحول کی وجہ سے سامنے آنے سے رہ جاتی ہیں کیونکہ وہ اپنے نقاب پر کمپرومائز نہیں کرسکتیں۔ یہاں پر میں ان لڑکیوں کی بات نہیں کر رہی جو اپنی مرضی سے نقاب نہیں کرتیں یہاں پر میں ان لڑکیوں کی بات کر رہی ہوں جو اپنی مرضی سے نقاب کرتی ہیں اور ان کو نقاب کی وجہ سے آگے جانے سے روک دیا جاتا ہے۔میرا سوال عمران خان سے ہے کہ کیا آپ اقوام متحدہ میں اسی اسلامی ملک کی ترجمانی کر رہے تھے جہاں پر حوا کی بیٹیوں کو بے پردہ کیا جاتا ہے؟ اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

نوٹ: بلاگر کے خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

 

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button