‘جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنادیا’

سی جے رضیہ محسود

تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے لیکن یہاں ہمارے ملک میں سب سے زیادہ مسائل بھی اسی کے ہیں اور سب سے زیادہ مذاق بھی اسی کا بنایا گیا ہے۔

علاوہ ازیں ٹیچرز جو ایک ملک کے بچوں کے روحانی والدین ہوتے ہیں لیکن یہاں ہمارے ملک میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بھی یہی بنتے ہیں اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر نہ نبھانے کی وجہ سے۔ وہ اساتذہ جو دوسروں کو اخلاقیات سکھاتے ہیں لیکن یہاں ہمارے ملک میں مافیا بھی یہی اساتذہ بنے ہوئے ہیں۔

یہاں میرا مقصد صرف وہ اساتذہ ہیں جوکہ نہ خود تعلیم کی اہمیت سے واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی معاشرے میں تعلیم کے حصول کو فروغ دیتے ہیں اور جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو یہی اساتذہ آپ کو دھمکیاں بھی دیتے ہیں جس سے منع کرنے اور اخلاقی سبق سکھانے میں اساتذہ کا اہم کردار ہوتا ہے اور اخلاقیات کا سبق دینا ہوتا ہے لیکن افسوس کہ پاکستان خاص کر وزیرستان میں استاد بننا صرف تنخواہوں کا حصول ہے اور کچھ نہیں۔

اساتذہ کا کردار بہت ہی قابل قدر اور بہت ہی احترام کا حامل ہے جوکہ اپنی زندگی اپنے تجربات اور علم کی روشنی سے چراغ جلانا ہوتا ہے اور وہ چراغ وہ بچے ہیں جن کو وہ علم کی روشنی سے منور کرتے ہیں مگر افسوس ہمارے یہاں انہی بچوں کو اس روشنی سے محروم کرنے والے خود کو اساتذہ کہتے ہیں جوکہ اساتذہ کے پاک اور صاف کردار پر ایک دھبہ ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنادیا۔ تو اس قول کی روشنی میں جب اساتذہ کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن اساتذہ کی ساری زندگی سیکھنے اور سکھانے میں گرز جاتی ہے تو انکا کیا مقام ہوگا۔

میری موجودہ حکومت سے اپیل ہے کہ اپنے فرائض بطریق احسن نبھانے والے اساتذہ کو زیادہ سے زیادہ مراعات دی جائیں جبکہ وہ اساتذہ جو اساتذہ کے نام پر ایک دھبہ ہیں جو نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ لوگوں کے ساتھ بھی خیانت کرتے ہیں تو انکو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا جائے یا انکے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button