خود ہی اپنے راستے کی دیوار بنے بیٹھے ہیں

سی جے شمائلہ آفریدی

لوگوں کی اکثریت کا پختہ ایمان ہوتا ہے کہ خواب تو خواب ہی ہوتے ہیں، خوابوں سے باہر نکل آؤ، خواب دیکھنا بیکار ہے، خواب دیکھنا بیوقوفی، خواب ایک ناممکن خیال، جھوٹا لاحاصل تصور، سستی، بے عملی، لاچارگی اور بے بسی ہے۔

یہ تصورات بلکل غلط ہیں۔ خواب سچے بھی ہوتے ہیں، خواب اچھے بھی ہوتے ہیں، خواب نرالے بھی ہوتے ہیں، خواب رنگوں سے پُر،خواب شاندار، خواب مستقبل، خواب امید، خواب روشنی، خواب توانائی، خواب ہی چراغ ہوتے ہیں اور خوابوں کی تعبیر منزل۔

اس کو ہم خواہشات کا نام بھی دیتے ہیں مگربات صرف خواب دیکھنے سے نہیی بنتی، بات بنتی ہے اپنے خوابوں کا تعاقب کرنے سےاور ان کا نام زندہ رہ جاتا ہے جن کی آنکھیں اور قدم دونوں خوابوں کے تعاقب میں رہتے ہیں۔

خواب کون نہیں دیکھتا ہر کسی کے اپنے خواب ہوتے ہیں، ہر کسی کی آنکھیں خوابوں کا طواف کرتی رہتی ہیں۔ کامیابی، خوشی، دوستی، گھر، جیتا جاگتا جاندار جسم، صحت، تندرستی، اچھی جاب، کامیاب کاروبار، معاشی آزادی، نیک اولاد اور روحانی طمانیت، ان سب کا خواب کون نہیں دیکھتا؟ ہر کوئی آسودگی، کامیابی، سکون اور صحت کے خواب دیکھتا ہے۔

تاہم اکثر اوقات زندگی وہ نہیں ہوتی جس کے ہم نے خواب دیکھ رکھے ہوتے ہیں۔ کبھی ہمارے پاس وسائل نہیں ہوتے کبھی ہمارے رشتے داؤ پر لگے تو کبھی ہمارے سروں پر ناکامیوں کی تلوار لٹکی نظر آتی ہے۔ کبھی ہماری نوکری خطروں میں گھری ہوتی ہے تو کبھی ہم جذباتی دیوالیہ پن کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ آخر وہ کونسی چیز ہے ہمیں جو یہ سب کچھ پالینے سے روکتی ہے جس کے ہم خواہش مند ہوتے ہیں؟

ہر کسی کی اپنی کہانی ہوتی ہے، کچھ وجوہات ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے خوابوں کو پورا نہیں کرپاتے اور اس زندگی کے مستحق نہیں ہو پاتے جس کے لائق ہوتے ہیں۔ ہرکسی کی ایک لمبی کہانی ہوتی ہے، بے بسی، مظلومی اور بے چارگی کی کہانیاں وغیرہ۔

ماضی کی پریشانیاں، ناکامیاں، بےبسی کی داستانیں، کمزوری کے لمحات، بےاعتمادی کے صدمے اور بے اعتباری کے لمحے ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتے، ہمیں ماضی میں روکے رکھتے ہیں۔

لیکن میرا دل یہ کہتا ہے کہ سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے خوابوں کے ادھورے رہ جانے کی ہمارا اپنا ڈروخوف ہے۔ خوف ہماری کامیابی کا قاتل ہے، یہی ہمیں قدم اٹھانے سے روکے رکھتا ہے ہمارے حوصلوں کو پست کرتا ہے ہمارے مقاصد کے سامنے ایسے تصوراتی پہاڑ کھڑے کردیتا ہے جنہیں عبور کرنا ہمیں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

ہمارے خوف کی وجوہات میں پتلا ہوں، لمبا ہوں، چھوٹا ہوں، بوڑھا ہوں میں تو اتنا ذہین نہیں ہوں، میں کمزور ہوں، میں بہت بد صورت ہوں، بیمار ہوں، میرے پاس تعلیم نہیں، میں تو پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، میں تو ایک گھریلو خاتون ہوں، طلاق یافتہ ہوں اور میری زندگی تو ناکامیوں کی نہ ختم ہونے والی داستان ہے وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔

کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم کامیاب نا ہوئے تو ہم دوسروں کے سامنے شرمندہ ہو جائیں گے یہ خوف بھی ہمیں روکے رکھتی ہے۔ یقیناً ہمارے پاس ان بہانوں میں کچھ بہانے ہوں گے جس نے ہمیں روکے رکھا ہوتا ہے۔

خوف کامیابی کا ہو یہ ناکامی کا سچ تو یہ ہے کہ اس خوف کی وجہ سے ہم میں سے اکثر لوگ وہ سب کچھ کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے جس کی اہلیت رکھتے ہیں ہمیں کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روکھتا ہم خود ہی اپنے راستے کی دیوار بنے بیٹیھے ہوتے ہیں۔

اگر ہم دل کی سنیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ سب کچھ بہانے ہیں۔ ہم وہ سب کچھ پاسکتے ہیں جس کے ہم تمنائی ہوتے ہیں گر صرف سچے دل سے ہم کوشش  ہمت کریں۔ کیا ہمارا دل یہ سرگوشی نہیں کرتا کہ "تم سب کچھ پاسکتے ہو اگر تم سچے دل سے، سچی لگن سے کوشش کرو ہمت وجرات کرو؟”۔ ہاں ہم اپنے خوابوں کو پورا کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم قدم ہی نہیں اٹھائیں گے تو ہم اس منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے جہاں ہمیں جانا ہے۔  ہمارا خوف تب ہی ختم ہوگا جب ہم اپنے خوف کا سامنا کریں گے اور اگر ایک بار ہم ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں تو ہم کچھ بھی حاصل کرسکتے ہیں کچھ بھی بن سکتے ہیں ہم وہ تمام چیزیں حاصل کرسکتے ہیں جن کا ہم نے خواب دیکھا ہوتا ہے۔

اس کیلئے ہمیں ماضی سے نکلنا ہوگا اور محولہ بالا تمام منفی تصورات کو ختم کرنا ہوگا اور اپنے خوابوں میں عظیم کام کرنے کےمنصوبے بناتے رہنا، کچھ کر جانے کا جذبہ جگائے رکھنا، ایک تڑپ اور خوابوں کی تعبیر تک وہ ایک بے چینی قائم رکھنا ہوگی جو کبھی سکون سے بیٹھنے نہ دے۔

اس کے علاوہ ہمیں اپنے سامنے یہ سوال رکھنا ہوگا کہ ہماری زندگی میں کیا چیز ہمارے لیے زیادہ اہم ہے، ڈر خوف یا ہمارا مقصد؟ جب ہم یہ طے کرلیں گے کہ زندگی میں بہانوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو ہماری زندگی میں معجزے ظاہر ہونا شروع ہوجائیں گے۔ جب ہم مان لیں کہ باہر کے حالات نہیں بلکہ اندر کا خوف بیماری کا جڑ ہے تو  ہمارےسارے دکھوں سے ہمیں نجات مل جائے گی۔

کامیابی اپنے خوف کی سرحدوں سے آگے نکل جانے کا نام ہے۔ اگر ہم سامنا کرنے ڈٹ جانے کی ٹھان لیں تو ہم اپنے خوف کے چھکے چھڑاسکتے ہیں۔

ہمیں بس خود پر یقین رکھنا ہے شرط یہ ہے کہ ہماری لگن سچی ہو ہماری تڑپ خالص ہو اور ہم خدا کے اصولوں اور احکامات کی خلاف ورزی نہ کررہے ہوں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button