”میں نے بیٹے کو ڈاکٹر یا انجنیئر نہیں، اچھا انسان بنانا ہے”

رفیع اللہ خان

میں ایک ایسے خاندان میں پلا بڑا ہو جہاں انسانیت ، اخلاق ، آداب ، عزت ، محبت ، عاجزی ، حیاء ، ایمانداری ، وفاداری ، اقدار اور روایات کو ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔ ہمارے خاندان کو ایک مجموعی بیماری لاحق ہے اوروہ یہ ہے کہ ہم نہ کسی کی مال دولت، جائیداد بنگلوں سے اور نہ ہی گاڑی عہدوں سے متاثر ہوتے ہیں ہم اگر کسی چیز سے متاثر ہوتے ہیں تو صرف انسانیت سے، اخلاق اقدار اور وفاداری سے، عاجزی اور ایمانداری سے اور عزت و احترام سے۔

میں نے نرسری سے آٹھویں تک تعلیم اپنے ماموں انتہائی قابل احترام میاں عمر حیات ( خان لالا ) کے نجی تعلیمی ادارے سیف وے پبلک سکول سے حاصل کی۔ میں شروع سے آخر تک سکول کا کمانڈر اور چیف پراکٹر تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ میرے ماموں کو مجھ پر بڑا اعتماد تھا کیونکہ سکول میں اس وقت ان کے دو بچے بھی پڑھ رہے تھے جو میرے ہم عمر تھے لیکن پھر بھی پراکٹرمیں ہی تھا۔

مجھے اپنے مرحوم والد صاحب کی ایک بات ہمیشہ یاد رہتی ہے وہ اکثر کہتے تھے کہ بیٹا جب والد وفات پا جاتا ہے تو ماموں والد کی جگہ ہوتے ہیں ہمیشہ اپنے تمام مامووں کو والد جیسا عزت و احترام دینا اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہم اپنے تمام مامووں کو والد جیسی عزت دیتے ہیں۔

سیف وے پبلک سکول میں سفر ختم ہوا تو 1998-99 میں میرے والد محترم الحاج احسان اللہ خان  (پاچالالا ) مجھے نویں جماعت میں داخل کرانےانٹرنیشنل ایجوکیشن سکول لے گئے، وہاں میرا ایڈمیشن ٹیسٹ لیا گیا، پرنسپل خورشید صاحب والد صاحب کے پرانے جاننے والے تھے انہوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ بیٹا تم کمزور ہوں لیکن تمہارے والد صاحب آئے ہیں اور وہ ہمارے لئے قابل احترام ہیں ہم آپ کو ایڈمیشن دے دینگے لیکن تم نے کام شروع کرنا ہے میں کہا ٹھیک ہے جناب۔ والد صاحب اور پرنسپل صاحب محو گفتگو تھے میرے مرحوم والد نے پرنسپل صاحب کو جو الفاظ کہے وہ آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے۔ والد صاحب کہتے ہیں ” میں نے رفیع اللہ خان کو نہ انجینئر بنوانا ہے اور نہ ہی ڈاکٹر مجھے اسے ایک اچھا انسان بنانا ہے”

میں اکثر سوچتا ہوں کہ میرے والد صاحب کتنے سادا تھے لوگ ڈاکٹر اور انجینئر کے بغیر بات نہیں کرتے اور انہیں انسانیت کی پڑی تھی۔

آج کل ہم لوگوں کو روپے پیسوں ، گاڑیوں بنگلوں اور عہدوں میں ناپتے ہیں، یہاں نا تو انسانیت نام کی کوئی چیز ہے نا ایمانداری، نہ وفاداری کا تصور ، نا ایک دوسرے کا عزت و احترام اور نا ہی آداب ، اقدار اور روایات۔ ہاں البتہ جو چیزیں پروان چڑی ہے وہ ہے ہماری اور آپکی خود غرضی، ذاتی عناد و مفادات ، بے حسی ، بے وفائی ، بے ایمانی ، لالچ ، جھوٹ ، دھوکا اور فریب۔

یہاں مجنھے دونوں جہانوں کے سردار حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بات یاد آتی ہے۔ واقعہ ذکر عرض ہے، ایک دفعہ مجلس لگی تھی صحابہ کرامؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا حضور آپ کا امتی بزدل ہو سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہاں اس طرح صحابہ کرام نے متعدد سوال پوچھے اور دونوں جہانوں کے سردار نے جواب دیئے ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا میرا امتی سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن دو چیزیں ان میں نہیں ہو سکتی ایک وہ جھوٹ نہیں بول سکتا اور دوسرا وہ دھوکا نہیں دے سکتا "۔

تو میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم مسلمان کتنے فخر سے یہ کہتے ہیں کہ ہم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہے اور یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ قیامت کے روز ہمارے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ سے سفارش کریں گے اور یہ نہیں سوچتے کہ یہاں تو ہم نے جھوٹ اور دھوکا دہی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔

ہمیں اپنی عادات اور رویئے تبدیل کرنا ہونگے ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنا ہوگی، جھوٹ بولنے اور دھوکا دینے سے مزید توبہ کرنا ہوگی کیونکہ ہم جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button