ماحولیاتی تبدیلی اور ہاؤسنگ سوسائٹیز نگل رہی ہیں زرعی زمینیں

قیصر خان

ملک کو بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے جہاں مزید وسائل کی ضرورت ہے وہاں خیبرپختونخوا کی زرعی زمینوں پر بغیر منصوبہ بندی کے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ ملکر زرعی زمینیں نگل رہی ہیں۔

پشاور ڈویلپمننٹ اتھارٹی کے پاس موجود ریکارڈ کے مطابق پشاور میں زیادہ تر ہاؤسنگ سوسائٹیز غیرقانونی ہیں، 74 میں سے صرف پانچ ہی پی ڈی اے کے پاس رجسٹرڈ ہیں باقی غیرقانونی طور سے ہی قائم کی گئی ہیں۔ 18 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ کو آگاہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں کل 208 غیررجسٹرڈ یا غیرقانونی ہاؤسنگ سکیمیں ہیں جن کی اکثریت زرعی زمینوں پر تعمیر کی گئی ہے۔

اگرچہ پی ڈی اے زیادہ تر غیر قانونی سوسائٹیز کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج کا دعویٰ کرتی ہے تاہم اس کے باوجود اراضی استعمال میں کسی قسم کی بہتری کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

اگرچہ پشاور خیبرپختونخوا کا مرکزی اور سب سے بڑا شہر ہے پھر بھی یہاں دیہی خصوصیات ہی غالب ہیں۔ اراضی استعمال کی سرکاری رپورٹ کے مطابق 64 فیصد زمین زرعی اور اس سے وابستہ شعبوں کے زیراستعمال ہے، 11 فیصد خالی، 9 فیصد دیہی آبادیوں، 6 فیصد شہری آبادی، 4 فیصد نہروں نالوں، 3 فیصد سڑکوں، ریلوے، اڈوں و دیگر کے زیر استعمال ہے۔

ادرہ شماریات پاکستاان کے مطابق گززشتہ دو دہائیوں کے دوران آبادی میں اضافے کے ساتھ ہاؤسنگ کے شعبے میں قرار واقعی وسعت دیکھنے میں آئی، 1998 میں 21 لاکھ مکانات کے مقابلے میں 2017 میں 38 لاکھ مکانات ریکارڈ کیے گئے۔

2005 کی سائٹ ڈویلپمنٹ سکیم کے تحت ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کیلئے اراضی، ادارہ تحفظ ماھولیات سے این او سی کا حصول، سڑک تک رسائی اور لوکیشن پلان ایسی کئی لوازمات ہیں۔ تاہم زرعی اراضی پر ہاوسنگ سکیموں پر پابندی یا تحدید کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔

"فی الحال تو زرعی اراضی پر ہاوسنگ سوسائٹیز بنانے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے”، پراونشل ہاؤسنگ اتھارٹی کے اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ٹی این این کو بتایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لوکل گورنمنٹ سطح پر لینڈ یوز پالیسی میں ایک شق کا اضافہ ضروری ہے تاکہ زرعی اراضی کے دیگر استعمال پر پابندی لگائی جاسکے۔

پی ڈی اے اہلکار کے مطابق صوبے کی زیادہ تر ہاؤسنگ سوسائٹیاں زرعی زمینوں پر تعمیر کی گئی ہیں، مردان میں تو اس مقصد کیلئے باغات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلی حکومت زرعی اراضی پر مکانات کی تعمیر پر بھی پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی تاہم بعدازاں یہ معاملہ پریوں کی کہانی بن گیا۔

انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کو ضلعی سطح پر ٹاؤن پلانرز تعینات کرنا چاہئیں تاکہ رہائشی، کمرشل، صنعتی اور زرعی مقاصد کیلئے اراضی مختص کی جاسکی اور زرعی زمینوں کے ان مقاصد کیلئے استعمال کا سدباب کیا جاسکے۔

ہاؤسنگ شعبے کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں سے ایک مختلف شہروں میں سڑکوں کا پھیلا ہوا جال ہے جس کی وجہ سے صوبے میں سینکروں نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز معرض وجود میں آئیں۔

شہر کے اندر کی سڑکیں، جیسے رنگ روڈ جو بنیادی طور پر زرعی زمینوں پر ہی بنایا گیا، اور شہر سے باہر کی سڑکیں بھی نہ صرف زرعی زمینیں کھا گئیں بلکہ چند سالوں کے اندر اندر ان کے دونوں اطراف سینکڑوں مارکیٹیں اور مکانات کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کی بنیاد بھی پڑی۔

انوائرنمینٹل اکانومسٹ اور آئی ایم سائنسز پشاور میں اکنامکس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق نے اس حواے سے ٹی این این کو بتایا کہ موجودہ صورتحال سے نبتنے کیلئے حکومت کے پاس کوئی منسوبہ سرے سے ہے ہی نہیں۔

بقول ان کے سکڑتی زرعی زمینوں، نقل مکانی، بڑھتی آبادی اور ماحولیاتی تبیلی کے باعث خیبرپختونخوا میں فوڈ سیکیورٹی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر محمد رفیق کے نزدیک موجودہ صورتحال میں حکومت کو راست اقدامات کرنے چاہئیں بصورت دیگر مستقبل میں خوراک اگانے کیلئے زمین ہی بنیادی مسئلہ ہوگا، نیز متبادل حل پر توجہ مرکوز  کرتے ہوئے اراضی استعمال کی پالیسی کو لوکل گورنمنٹ ترمیم میں کا حصہ بنانا چاہیے۔

اسسٹنٹ پروفیسر کے مطابق ہمیں زراعت میں ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے عمودی کاشتکاری ہی بہترین آپشن ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ورٹیکل فارمنگ کے ساتھ ایک کمرے جتنی اراضی سے پانچ ایکڑ زمین جتنی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر محمد رفیق نے اہل علم پر زور دیا کہ کسانوں کی تجرباتی بنیادوں اور چھوٹے پیمانے پر اس نوع کی کاشتکاری کی جانب حوصلہ افزائی کریں۔

اننہوں نے خبردار کیا کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقتوں میں خوراک ایک سنگین مسئلہ ہوگی، اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور متعدد بےروزگار ہوجائیں گے۔

آئین پاکستان کی رو سے، پراپرٹی رائٹس کے سیکشن 23 کے تحت ریاست اراضی استعمال پر شرط عائد کر سکتی ہے جس کے مطابق زرعی زمین کے دیگر مقاصد کیلئے استعمال سے متعلق پیشگی اجازت ضروری ہوتی ہے (تاہم) ایک متعلقہ اہلکار نے ٹی این این کو بتایا کہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اس شق کو بھی اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زرعی زمینوں پر مکانات کی تعمیر ایک جرم ہے تاہم اتھارٹیز اپننے مفاد کیلئے رجسٹرڈ ہاؤسنگ سکیموں کو زرعی زمینوں کے استعمال کی اجازت بھی دے چکی ہیں۔

اہلکار کے مطابق زیادہ تر ہاؤسنگ سوسائٹیاں جی ٹی روڈ کے شمال کی جانب ہی قائم کی گئی ہیں اور یہی بنیادی طور پر زرعی زمین بھی ہے۔

ان سوسائٹیوں میں دیگر کئی سکیموں کے علاوہ شیخ یاسین ٹاؤن، ریگی للمہ، ڈی ایچ اے، پرائم اور فیصل ہاؤسنگ سکیم شامل ہیں

"پشاور اپنی 2ہزار سالہ تاریخ میں اب تک 145 مربع کلومیٹر اراضی بروئے کار لاچکا ہے تاہم اس کے مقابلے میں محض اگلے 20 سالوں میں یہ 142 مربع کلومیٹر اراضی استعمال کرلے گا۔” انہوں نے پیش گوئی کی۔

انہوں نے انشاف کیا کہ پشاور میں زرعی زمینوں کے تعمیرات یا دیگر مقاصد کیلئے استعمال پر پابندی لگانے کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے جو آئندہ چند ماہ میں کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق زرعی زمینوں کے تعمیراتی مقاصد کیلئے استعمال پر پابندی کیلئے ان کے محکمے کے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ریونیو ڈپارٹمنٹ کے ساتھ اجلاس ہوئے تاہم معاملہ ابھی تک  لٹکا ہوا ہے۔

ان کے خیال میں زرعی زمینوں پر ہاوسنگ سکیمیں ایک سنگین مسئلہ ہے تاہم دیگر متعلقہ محکموں کے تعاون کے بغیر اس پر قابو پانا ممکن نہیں۔

سینئر اہلکار نے حکومت پر زور دیا کہ عمودی طرز تعمیر کی حاصلہ افزائی کی جائے تاکہ قیمتی زرعی زمینیں مزید ابتری سے محفوظ کی جا سکیں۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں زرعی یونیوسٹی پشاور میں شعبہ ایگرانومی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اکمل نے جائز و ناجائز ہاؤسنگ سوسائٹئیز کی درجہ بندی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کی جانب سے ایسا کوئی بندوبست ہی نہیں تو جائز و ناجائز ہاؤسنگ سکیم کا فیصلہ کیونکر کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر اکمل کے مطابق قانونی حیثیت کا فیصلہ کرنے کیلئے حکومت کو زمین کی مناسب درجہ بندی کے ساتھ اراضی استعمال کی پالیسی بیان کرنا چاہیے۔

ورٹیکل یا عمودی ہاؤسنگ کے حوالے سے بھی ڈاکٹر اکمل زیادہ پرامید نہیں جن کے خیال میں ثقافتی اقدار کے باعث اکثر لوگ سہ منزلہ سے اونچی عمارت کی مخالفت کرتے ہیں (تاہم) حکومت کو ایک جامع منصوبے کے ساتھ عمودی مکانات یا تعمیرات کا آغاز کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر اکمل نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا میں غیر مشینی زراعت، کم پیداوار، کھادوں کی کمی اور وراثت کے باعث اراضی کی تقسیم وہ عوامل ہیں جس کی وجہ سے زرعی زمینیں دیگر مقاصد کیلئے استعمال کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کم پیداوار کے باعث زرعی زمین کو دکانوں، مکانات یا دیگر سکیموں کیلئے بروئے کار لانا مالکان کیلئے زیادہ منفعت بخش ثابت ہوتا ہے۔

مستقبل میں فوڈ سیکیورٹی کو درپیش ممکنہ خطرے کے پیش نظر انہوں نے کئی طرح کے اصلاحات کی تجویوز دی جن میں زرعی پیداوار بڑھانے کیلئے ایک جامع منصوبہ، وراثت کے نظام اور اراضی استعمال کی پالیسی میں اصلاحات شامل ہیں۔

Show More
Back to top button