چترال میں گلیشئیرز پھٹنے کی وجوہات کیا ہیں؟

 

چترال کی وادی گولین میں گلیشئیر پھٹنے سے سیلاب کے باعث تمام سڑکیں ابھی تک تباہ حال پڑے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق 7 جولائی سے  چترال بھر میں پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ وادی گولین میں چند دن قبل گلیشیئرپھٹنے سے سیلاب آیا تھا جسکی وجہ سے کئی لوگ پانی میں پھنس گئے تھے تاہم بعد میں انکو محفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیا ہے۔ گلئشیر کے پھٹ جانے کے نتیجےمیں درجنوں درخت اکھڑ کر سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ قریبی واقع گاؤں ازغور میں  گھروں , دکانوں اور متعدد فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ چترال کے ہزاروں سالہ پرانے برف کے پہاڑ یعنی گلیشیئرز گزشتہ کچھ عرصہ سے پگھلنا شروع ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو خطرات لاحق ہیں اور اسکی وجہ سے کئی بار سیلاب آچکے ہیں۔ گلیشئرز کے پگھلنے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں گرمی کی شدت میں اضافہ، بارشوں اور برفباری کے موسم میں تغیر اور جنگلات کی کٹائی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

چترال کی 34 وادیوں میں سے 19 میں گلیشیئرز ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق ضلع بھر میں کل 543 گلیشیئرز ہیں جن میں سے کئی موسمی تغیرات کے باعث نہ صرف خود خطرے سے دوچار ہیں بلکہ ان کی وجہ سے مقامی آبادی کے سر پر بھی خطرے کی تلوار مستقل لٹک رہی ہے۔

محولہ بالا وجوہات کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار علاقوں میں سے ایک وادی بریپ گول بھی قرار دی جاتی ہے، ماحولیاتی امور کے ماہر حامد احمد میر کے بقول بریپ گول کو 2013  سے ہر سال گرمیوں میں گلیشیئرز پگھلنے کی وجہ سے سیلابی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے جس میں 2015 کا سال سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوا تھا۔

اس سے قبل 2005 کے سیلاب کی وجہ سے متاثرہ اس وادی سے 26 خاندانوں نے کاٹن لشٹ نقل مکانی کی تھی تاہم 2012 میں بھی کئی خاندان ایک بار پھرسیلاب سے متاثر ہوئے جس کے بعد وہ دوسرے علاقوں کو منتقل ہوئے تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ سیلاب کی وجہ سے پانی کی پائپ لائن بھی تباہ ہوئی اور پانچ دنوں سے چترال میں پینے کی پانی کی شدید قلت ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق وادی گولین کے لوگ نہایت مشکلات سے گزر رہے ہیں اوروادی میں ادویات اورآشیائے خورد نوش کی بھی قلت ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق حکومتی دعوے غلط ہیں کہ وادی میں سب کچھ پہنچایا لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، مقامی لوگوں نے وادی گولین کی سڑکیں فوری بحال کرنے اور علاقے کے متاثرین کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: "پہاڑوں کی چوٹیوں پر سفید برف دیکھکر لطف نہیں خوف آتا ہے”

چترال میں (گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ) نامی پراجیکٹ میں ڈائریکٹر کے حیث پرکام کرنے والے حامد احمد میرکا کہنا ہے کہ گلیشیئرز پگھلنے کے بعد اوپر پہاڑوں میں جھیل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جو زیادہ بارش یا گرمی کے باعث پانی کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے سیلاب کی صورت نیچے بہنے لگتا ہے اور عوام عموماَ اس طرح کے سیلابوں کے لیے جسمانی طور پر تیار ہوتے ہیں نہ ذہنی طور پر جس کی وجہ سے زیادہ مالی اور جانی نقصان اٹھا لیتے ہیں۔

حامد خان کے مطابق چترال میں اس وقت 187 ایسے گلیشیئرز ہیں جو گلیشیئل لیک یعنی پگھلنے کے بعد پہاڑوں کے دامن میں بڑی بڑی جھیلوں یا جوہڑوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں جن میں سے 20 کو انتہائی خطرناک قرار دیا جارہا ہے جو بارشوں کی صورت یا گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ سیلاب کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول 2015 میں سیلاب کے باعث زیادہ نقصان کی وجہ بھی یہی تھی کہ گلیشیئرز کا پانی بہہ جانے کی وجہ سے اس سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا تھا۔

بقول ان کے گلیشیئرز کے پگھلنے سے نہ صرف وجودہ وقت میں جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ اس سے آنے والی نسل کیلئے بھی پینے اور دیگر استعمال کیلئے پانی کے ذخائر ختم ہوتے ہیں۔

ماہر ماحولیات اور زرعی یونیورسٹی پشاور میں درس و تدریس سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر اکمل کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک کے دیگر حصوں کی طرح چترال بھی ماحولیاتی تبدیلی سے بہت متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سالوں کے دوران چترال میں گرمی کی شدت میں نہ صرف ایک سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے بلکہ بارشوں اور برفباری کے وقت اور انداز بھی بدل گئے ہیں جس کے گلیشیئرز پر واضح اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب نومبر اور دسمبر کی بجائے جنوری اور فروری میں برفباری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور مارچ اپریل میں ایکدم گرمی آنے سے یہ برف پگھلنا شروع ہوجاتی ہے اور ماضی کی طرح جم کر گلیشیئرز کی شکل اختیار نہیں کرتی۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button