رنگ گورا کرنے والی کریم سے آپ کا چہرہ جھلس بھی سکتا ہے

مانیٹرنگ ڈیسک

ہرخاتون کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خوبصورت نظر آئے اور اس کے لئے وہ مختلف جتن بھی کرتی ہے جس میں جلد کی حفاظت، میک اپ اور خوبصورت کپڑے شامل ہیں۔ آجکل خواتین خوبصورت اور جاذب نظر آنے کے لئے مختلف بیوٹی کریمز استعمال کررہی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیوٹی کریمز خواتین کی جلد کو متاثر بھی کرسکتی ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں پیش آیا ہے جہاں ایک خاتون نے شادی سے قبل رنگ گورا کرنے والی کریم کا استعمال کیا لیکن اسکا نتیجہ بہت برا ثابت ہوا کیونکہ اس کریم کی وجہ سے انکا چہرہ جھلس گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متاثرہ خاتون نے بتایا کہ شادی سے دو ماہ قبل وہ سیلون میں گئی جہاں اسے ایک رنگ گورا کرنے والی کریم تھما دی گئی، جب اس نے اس کریم کو ایک ہفتے تک استعمال کیا تو اسکا چہرا جھلس گیا،وہ چاہتی تھی کہ اسکا رنگ سفید ہو جائے پرالٹا اسکی جلد ہی جل گئی، پہلے اسکی جلد پر سفید زخم پڑے جو بعد میں گہرے دھبوں میں تبدیل ہو گئے۔

خاتون کے مطابق رنگ گورا کرنے والی جو کریم انھیں اس سیلون سے ملی تھی وہ سری لنکا میں منظور شدہ مصنوعات میں سے نہیں تھی، اسے غیر قانونی طور پر درآمد کیا گیا تھا اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے خریدا گیا تھا۔

یہ مسئلہ صرف سری لنکا میں موجود نہیں ہے۔ پاکستان سمیت ایشیا اور افریقہ میں لاکھوں افراد بالخصوص خواتین گوری رنگت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ سنہ 2017 میں رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ کی قدر کا تخمینہ چار ارب آٹھ کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا اور اندازہ ہے کہ سنہ 2027 میں یہ دگنا ہو کر 8.9 ارب ڈالر تک جا پہنچے گا۔ رپورٹس کے مطابق ان مصنوعات کی طلب بنیادی طور پر ایشیا اور افریقہ کے متوسط طبقے کے صارفین سے آتی ہے۔

ان مصنوعات میں صابن، کریمیں، سکرب، ٹیبلٹس اور یہاں تک کہ ٹیکے بھی شامل ہیں جن کے ذریعے جلد کا رنگ پیدا کرنے والے میلانن نامی خلیے کی پیداوار سست کی جا سکتی ہے اور یہ طریقہ انتہائی مقبول ہیں۔ عالمی ادارہءِ صحت کے مطابق افریقہ کی 10 میں سے چار خواتین رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔ میلانن وہ بھورا یا سیاہ رنگ ہوتا ہے جو ہمارے جسم کے خلیے پیدا کرتے ہیں جس سے جلد کا رنگ متعین ہوتا ہے۔

نائجیریا کی 77 فیصد خواتین رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کا استعمال کر کے افریقہ میں سرِ فہرست ہیں۔ اس کے بعد ٹوگو کی 59 فیصد اور جنوبی افریقہ کی 35 فیصد خواتین ان مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔ ایشیا میں، 61 فیصد انڈین اور 40 فیصد چینی خواتین ان مصنوعات کا استعمال کرتی ہیں۔

برٹش سکن فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ’جن مصنوعات میں ہائیڈروکوینون موجود ہو اسے ایک ماہرِ جِلد کی نگرانی میں ان جگہوں پر بحفاظت اور اچھے نتائج کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں رنگت کی ناہمواری کے باعث گہرے دھبے پڑے ہوں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کچھ رنگ گورا کرنے والی مصنوعات کی میڈیکل سائنس میں حیثیت بھی ہے۔

فاؤنڈیشن کے ترجمان اینٹون ایلیگزینڈروف نے کہا کہ کچھ رنگ گورا کرنے والی کریمیں فائدہ مند بھی ہو سکتی ہیں لیکن انھیں ایک ماہر کی تجویز اور ان کی نگرانی کے بغیر نہیں استعمال کرنا چاہیے ورنہ یہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

کچھ مصنوعات جو رنگت تیزی سے تبدیل کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں ان میں نقصان دہ مادے بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ عالمی ادارہءِ صحت کے مطابق پارے کی حامل رنگ گورا کرنے والی مصنوعات صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔

چین، ڈومینیکن ریپبلک، لبنان، میکسیکو، پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ اور امریکہ میں ایسی مصنوعات بنتی ہیں جن میں پارہ موجود ہوتا ہے۔ یہ زہریلا کیمیکل ان مصنوعات میں اس لیے موجود ہوتا ہے کیونکہ پارے کے نمکیات میلانن کی پیداوار کو سست کر دیتے ہیں۔

Show More
Back to top button