"پولیس میں انضمام، لیویز چلو ٹھیک مگر خاصہ دار کیوں؟”

افتخار خان

خیبرپختونخوا میں ضم شدہ سات قبائلی اضلاع اور چھ نیم قبائلی تحصیلوں میں 28 ہزار کے قریب خاصہ دار اور لیویز اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں جنہیں اب باقاعدہ طور پر پولیس میں شامل کر دیا گیا ہے۔

مذکورہ فورسز میں لیویز کی نسبت خاصہ دار غیرتربیت یافتہ اور بیشتر ان پڑھ ہیں اور اسی باعث بعض لوگ پولیس میں ان کے انضمام کے مخالف بھی ہیں۔

خاصہ دار سو سالہ تاریخ کی حامل فورس ہے البتہ آغاز میں یہ فورس نہیں تھی بلکہ انگریزوں نے قبائلی مشران کو یہ عہدے مراعات کے طور پر دیے تھے تب جن کا کام متعلقہ لوگوں تک حکومتی پیغام کی رسائی اور اس طرح کے دیگر امور تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاص طور پر قبائلی علاقوں میں حالات خراب ہونے پر مقامی انتظامیہ نے لیویز کے ساتھ ساتھ خاصہ داروں کو بھی سیکیورٹی امور سونپے اور ذرائع کے مطابق بدامنی کیخلاف جنگ میں اب تک دو ہزار لیویز اور خاصہ دار اہلکار کام آئے ہیں تاہم اس کے باوجود حکومت کی جانب سے خاصہ داروں کو باقاعدہ ایک فورس کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔

قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے بعد خاصہ دار اور لیویز اہلکار اپنے مستقبل کے حوالے سے غیریقینی صورتحال سے دوچار تھے اور اس سلسلے میں انہوں نے جمرود میں ایک 20 روزہ دھرنا بھی دیا۔

رواں مہینے کی آٹھ تاریخ کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے خاصہ دار اور لیویز کو پولیس میں باقاعدہ طور پر ضم کرنے اور صوبے کی پولیس کو حاصل تمام مراعات دینے کا اعلان کیا۔

ضلع اورکزئی سے تعلق رکھنے والے لیویز اہلکار کاشف اورکزئی کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے اعلان پر خاصہ دار اور لیویز بہت خوش ہیں کہ انہیں باقاعدہ سروس سٹرکچر مل جائے گا اور تنخواہ بھی بڑھ جائے گی۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں کاشف اورکزئی کا کہنا تھا کہ "ہم لیویز اور خاصہ داروں نے قبائلی علاقوں میں بہت قربانیاں دیں جسکا مگر ہمیں کوئی صلہ نہیں ملا تھا، اب پولیس میں انضمام کے ساتھ ہماری نوکری مستقل ہوگئی ہے جس پر دونوں فورسز بہت خوش اور اسے اپنی قربانیوں کا بدلہ سمجھتی ہیں۔”

دوسری جانب ٹی این این کے ساتھ بات چیت کے دوران شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قانون دان حبیب خان نے کہا کہ خاصہ دار اور لیویز کے پولیس میں انضمام سے متعلق نوٹیفیکیشن واضح نہیں جس میں بعض قانونی پیچیدگیاں سامنے آسکتی ہیں۔

حبیب خان نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں کی گئی ترمیم کے مطابق حولدار سے اوپر تمام افسران کیلئے مخصوص کیڈرز ہیں تاہم خاصہ داروں اور لیویز فورس کے صوبیداروں و دیگر افسران کے حوالے سے اعلامیے میں یہ واضح نہیں کہ وہ ان کیڈرز پر کیسے پورا اتریں گے۔

"خاصہ دار اور لیویز کے بیشتر افسران تو غیرتعلیم یافتہ ہیں جبکہ پولیس میں عام سپاہی کیلئے بھی کم سے کم تعلیم کی شرط میٹرک ہے، تو میں حیران ہوں کہ ان صوبیداروں و دیگر افسران کو کیسے تھانیداری یا دیگر اعلیٰ عہدے دیے جائیں گے کیونکہ یہ تو قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔” حبیب خان نے حیرت کا اظہار کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لیویز کی تو کچھ نہ کچھ تربیت ہوئی ہوتی ہے مگر ان کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ خاصہ داروں کو آخر کس بنیاد پر پولیس میں ضم کیا جا رہا ہے کیونکہ وہاں بھی بنیادی تربیت کی شرط ہے۔

اسی طرح معروف قانون دان لطیف آفریدی بھی خاصہ دار و لیویز فورس کے پولیس میں انضمام سے متعلق اعلامیے کو کمزور قرار دیتے اور کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کو چاہیے تھا کہ نوٹیفیکیشن میں ان کے انضمام کی خواہش کے اظہار کی بجائے ہدایات جاری کرتے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق قبائلی علاقوں کے تمام ملازمین خیبرپختونخوا کے ملازمین ہیں جو صرف ڈیپوٹیشن پر وفاق کے ساتھ تھے لیکن اب انضمام کے بعد واپس صوبے کے ماتحت ہوگئے۔

معروف قانون دان کے مطابق پولیس میں ضم کرنے سے قبل حکومت کو سارے خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں کو جانچنا اور ان کیلئے ایک پیمانہ بنانا چاہیے تاکہ پتہ چلے کہ کون ذہنی اور جسمانی طور پر نوکری کے لائق ہے کیونکہ جو اس پیمانے پر پورا نہ اترے تو حکومت کو اسے پنشن یا اسکے کسی عزیز کو اس کی جگہ بھرتی نہیں کرنا چاہیے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں لطیف آفریدی نے یہ تجویز دی کہ نائب صوبیدار کو اے ایس آئی، صوبیدار کو ایس آئی جبکہ اس سے اعلیٰ افسر کو انسپکٹر کی نوکری دینی چاہیے تاہم یہ شرط ضرور رکھی جائے کہ اہلیت بھی اتنی ہی ہو۔

پولیس میں انضمام کی خوشی صرف لیویز اور خاصہ دار کو ہی نہیں بلکہ عوام اور قبائلی مشران بھی حکومت کے اس فیصلے کو سراہتے ہیں۔

قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے قبائلی مشر ملک حکم خان کہتے ہیں کہ خاصہ دار اور لیویز اہلکار قبائلی روایات سے آگاہ ہیں اور لوگ بھی پہلے سے ہی ان سے مانوس ہیں جس کی وجہ سے کسی قسم کے مسائل پیدا نہیں ہوں گے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں حکم خان نے کہا کہ خاصہ داروں کو پہلے پنشن یوں ملتی تھی کہ ان کی جگہ ان کی اولاد بھرتی ہو جاتی، اب پولیس میں ضم ہونے کے بعد پنشن کی شکل بدل جائے گی اور پیسوں کی صورت ملے گی۔

قبائلی ضلع کرم کے مقامی مشر ملک اسرار بھی سمجھتے ہیں کہ خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں نے انتہائی کٹھن حالات میں اپنے فرائض سرانجام دیے اس لیے انہیں مزید کسی خاص تربیت کی ضرورت بھی نہیں۔

ملک اسرار کے نزدیک مگر حکومت کو خاصہ دار اور لیویز اہلکاروں کیلئے تعلیم بالغاں کا کوئی پروگرام ضرور شروع کرنا چاہیے تاکہ تھوڑی بہت تعلیم انہیں دی جاسکے اور اسی طرح کچھ عملی تربیت بھی۔

"انہیں زیادہ تعلیم اور تربیت کی ضرورت نہیں، کیونکہ برسوں سے ڈیوٹی کررہے ہیں اور بھلا برا سب جانتے ہیں، بس اتنی ہو کہ جس سے ان کی صلاحیت میں مزید بہتری آئے۔”

Show More
Back to top button