قبائلی عوام ایک مدت سے موبائل اور تھری جی سہولیات کی راہ تک رہے تھے

 

افتخار خان

حکومت قبائلی اضلاع میں موبائل اور تھری جی سہولیات کی فراہمی کا  آغاز کرچکی ہے قبائلی عوام ایک مدت سے جن کی راہ تک رہی تھی۔

اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر قبائلی ضلع باجوڑ میں انٹرنیٹ، ضلع خیبر کے علاقے تیراہ، اورکزئی اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں موبائل سروس کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ سنٹرل کرم میں کمپنی کو سروے کی تاکید کی گئی ہے۔

بدامنی سے قبل بعض قبائلی علاقوں میں موبائل سروس موجود تھی تاہم بیشتر علاقے اکیسویں صدی میں بھی رابطے کی ان بنیادی سہولیات سے محروم تھے۔

ان علاقوں میں بدامنی اور اس کے بعد فوجی آپریشنوں کی لہر کے باعث پی ٹی سی ایل کی بیشتر لائنیں بھی خراب ہوگئی تھیں جو رابطے کا واحد ذریعہ تھا جس کی وجہ سے قبائل عوام شدید مشکلات کا شکار تھے کہ ان کی اکثریت محنت مزدوری کیلئے بیرون ملک مقیم ہے اور یہی پی ٹی سی آل و عیال کے ساتھ رابطے کا واحد ذریعہ۔

شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے تعلق رکھنے والے عمران وزیر بھی انہی لوگوں میں شامل تھے، ان کے بھائی سعودی عرب میں مقیم تھے جن کے ساتھ رابطہ بڑی دیر اور کافی مشکلوں سے ہوتا تھا کہ ادھر ٹیلی فون لائنوں کی خرابی ہمیشہ آڑے رہتی۔

"بھائی پہلے پی سی او کال کرتے اور ان سے یہ التجاء کرتے کہ کل فلاں ٹائم پر میرے گھر والوں کو بلا لیجیے گا۔”

عمران وزیر کے مطابق مصیبت تب ہوتی جب بھائی کو اپنے بچوں یا گھر کی خواتین کے ساتھ بات کرنا ہوتی کیونکہ اس کیلئے انہیں الگ سے گاڑی کا بندوبست کرنا پڑتا تھا۔

عمران وزیر خوش ہیں کہ موبائل سروس کے آغاز کے ساتھ اب یہ مسئلہ حل ہوگیا ہے۔

گزشتہ ماہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے دورے کے بعد ان کے اعلان کے مطابق شمالی وزیرستان کے میرانشاہ اور میرعلی بازار میں دو موبائل ٹاورز نصب کردیے گئے ہیں جن سے بہت سارے لوگ مستفید ہورہے ہیں تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ یہ سہولت جلد دیگر علاقوں میں بھی فراہم کی جائے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں میرانشاہ کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والے قبائلی مشر ملک اشرف کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ موبائل سگنلز آتو رہے ہیں تاہم کال مشکل سے ہی ملتی ہے کیونکہ سگنلز کمزور بہت ہوتے ہیں۔

بقول ان کے باقی ماندہ علاقوں میں ٹاورز کی تنصیب کے حوالے سے ان کی متعلقہ حکام کے ساتھ ملاقاتیں ہوئی ہیں جنہوں نے جلد سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

قبائلی علاقوں کو عام لوگوں کی واپسی کے بعد لوگوں کی جانب سے از خود اور حکومتی سطح پر بھی بحالی کی کوششیں زوروشور سے جاری ہیں تاہم لوگ بار بار موبائل اور انٹرنیٹ سہولت کے فقدان کا رونا روتے رہتے جن کا کہنا تھا کہ اسی باعث وہ خود کو باقی دنیا کے مقابلے میں کافی پسماندہ پاتے ہیں۔

اب جا بجا موبائل اور انٹرنیٹ سہولت کی فراہمی کے ساتھ عوام کی یہ شکایت کافی حد تک دور ہوگئی ہے جو پرامید ہیں کہ دیگر علاقوں میں بھی جلد یہ سہولیات دی جائیں گی اور انہیں ملک کے دیگر علاقوں کے عوام کے برابر لاکھڑا کیا جائے گا۔

اورکزئی سے تعلق رکھنے والے قبائلی مشر جمیل خان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی سنجیدگی کا اندازہ اس سے لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جس قبائلی ضلع بھی جاتے ہیں تو سب سے پہلے اعلان وہاں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کا کرتے ہیں۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑی بنیادی ضرورتیں ہیں اور یہ کہ انٹرنیٹ قبائلی عوام میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ملک جمیل نے کہا، "سوشل میڈیا کا دور ہے اور لوگ اسی میڈیم کے ذریعے ہر طرح کی معلومات تک رسائی رکھتے ہیں جس سے ان میں شعور پیدا ہوتا ہے۔”

قبائلی علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت کا پرزور مطالبہ دیگر لوگوں کے مقابلے میں نوجوان نسل زیادہ کرتی تھی۔

قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے قبائلی طلباء تنظیم کے مقامی صدر ودود آفریدی کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کےباعث طلبہ کو داخلوں میں کافی مشکلات درپیش ہوتی تھیں جو نوکری کے اشتہارات سے اکثر غافل رہتے تھے لیکن اگر انہیں کسی طرح پتہ چل بھی جاتا تھا تو ایپلائی کیلئے انہیں بندوبستی علاقوں کا رخ کرنا پڑتا جس کی وجہ سے ان کا وقت ہی نہیں پیسہ بھی بہت ضائع ہوتا تھا۔

Show More
Back to top button