میٹرک پاس طلباء کو اساتذہ بھرتی کرنے سے قبائلی اضلاع کی تعلیم پرکیا اثرپڑے گا؟

 

خالدہ نیاز

،کچھ عرصہ پہلے ہم نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا تھا کہ تمام کیڈر کے لیے بی اے بی ایس سی شرط رکھی گئی ہے لیکن ہم متاثرین ہیں ہمارے تعلیمی ادارے بند پڑے تھے جسکی وجہ سے زیادہ ترطلباء کا وقت ضائع ہوگیا اور وہ تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہے لہذا قبائلی اضلاع کے لیے یہ شرط ختم کردی جائیں اور انہوں نے اب ہمارا مطالبہ پورا کرلیا،

ان خیالات کا اظہار قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اساتذہ تنظیم کے صدرنصیر شاہ آفریدی نے ٹی این این کے پروگرام بدلون کے پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔

پینل ڈسکشن میں اورکزئی سے تعلق رکھنے والا سرکاری سکول کا استاد ریحان اورکزئی اور سماجی کارکن وفا وزیربھی شامل تھی۔

نصیرشاہ آفریدی نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع میں بی اے بی ایس سی، ایم اے ایم ایس سی والے بہت سارے لوگ موجود ہیں تاہم خواتین ایسی بہت کم ہیں تو اس کا زیادہ فائدہ ہماری بچیوں کو ہوگا کیونکہ جب مقامی خواتین سکولوں میں تعینات ہوجائیں گی یو ایک تو یہ ہوگا کہ خواتین اساتذہ وقت پرسکول پہنچیں گی دوسرا یہ ہوگا کہ ان کے رہنے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کے اس فیصلے سے خوش ہے کہ اس سے قبائلی اضلاع میں خواتین کی تعلیم کو فروغ ملے گا۔

دوسری جانب وفاوزیر کا اس فیصلے کے حوالے سے کہنا تھا کہ اگرچہ اس سے قبائلی اضلاع میں لوگوں کو نوکریاں مل جائیں گی تاہم اس سے تعلیمی معیار پر اثر پڑے گا کیونکہ میٹرک پاس کرنے والا ایک استاد طلباء کو صحیح طریقے سے پڑھا نہیں سکے گا۔

وفا وزیر نے کہا، آج کل سب نے میٹرک پاس کیا ہے چاہے پرائیویٹ کیا ہو یا ریگولر کیا ہو، اب اگر میٹرک پاس بندہ طلباء کو پڑھائے گا تو اس سے ان کے مستقبل پرفرق پڑے گا، کلاس ون سے لیکر پنجم تک تو چلو  کچھ نہ کچھ پڑھا لیں گے میٹرک پاس اساتذہ لیکن اس کے بعد جو انگلش، حساب اور سائنس کے مضامین ہیں وہ میٹرک پاس اساتذہ کبھی بھی نہیں پڑھا سکتے،

وفا وزیر نے کہا کہ نوکریاں تو مل جائیں گی تاہم بچے اس طرح سے پڑھ نہیں پائیں گے جس طرح انکو پڑھنا چاہیئے تو وہ اس فیصلے سے خوش نہیں ہے۔

اس حوالے سے نصیرشاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ اساتذہ صرف پرائمری لیول تک کے بچوں کو پڑھائیں گے جبکہ یہ لوگ کوشش کریں گے کہ جماعت پنجم کے طلباء کو بھی مڈل اور ہائی سکول کے ساتھ پڑھایا جائے۔

وفا وزیر نے کہا کہ اگر پرائمری لیول تک کی بات ہے پھر تو ٹھیک ہے تاہم پھر بھی حکومت اور باقی جو ادارے ہیں انکو چاہیئے کہ وہ ان اساتذہ کو باقاعدہ تربیت دیں کہ وہ طلباء کو صحیح پڑھا سکیں۔

انہوں نے کہا، ہمارے ذہنوں میں بس یہی ایک بات ہے کہ کتاب پڑھو اور سبق یاد کرو، ہوتا یہ ہے کہ جب ہم کتاب پڑھ کررٹا لگاتے ہیں اور جب کتاب بند کرتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں کچھ بھی نہیں ہوتا، ہمیں پتہ نہیں ہوتا کہ لوگوں کے ساتھ مقابلہ کیسے کرنا ہے، آگے کیسے جانا ہے میں چاہتی ہوں کہ ان بچوں کو کتابوں کے علاوہ بھی تربیت دینی چاہیئے،

ریحان اورکزئی نے بھی نصیرشاہ آفریدی کی بات کی تائید کی اور کہا کہ اگر میٹرک پاس کرنے والی خواتین کو اساتذہ کے حیث پہ بھرتی کیا گیا تواس سے خواتین کے تعلیم پراچھا اثرپڑے گا۔ انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔

انہوں نے کہا، ایسا بھی نہیں ہوگا کہ صرف میٹرک پاس لوگ بھرتی کے لیے آئیں گے ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہونگے جنہوں نے بی اے یا ایف ایس سی کیا ہوگا کیونکہ آجکل لوگ میٹرک کے بعد بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں،

ایک سوال کے جواب میں نصیر شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے قبائلی اضلاع میں حکومت نے ایس ایس ٹی کے لیےاشتہار دیا تھا جس میں کل 70،60 آسامیاں تھی لیکن اس کے لیے اپلائی 8 ہزار کے قریب افراد نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ قبائل تعلیم سے شوق رکھنے والے لوگ ہیں اور زیادہ تر تعلیم یافتہ بھی ہیں لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں سکول تباہ حال پڑے ہیں۔

انہوں نے کہا، میں ایک ہائی سکول میں 2003 سے پڑھا رہا ہوں لیکن اب سکول میں چند اینٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، قبائلی اضلاع میں بچوں کے لیے کوئی مناسب سہولیات نہیں ہے، انکے بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے، صاف پانی نہیں ہے ، واش رومز کی سہولت نہیں ہے جب 10 بج جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ بس گرمی ہے اور نہیں پڑھ سکتے تو مسائل تو بہت ہیں 5 ہزار اساتذہ سے کم ازکم اساتذہ کی کمی کا مسئلہ تو حل ہوجائے گا نہ،

نصیر شاہ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع میں پرائمری لیول پردو اساتذہ ہوتے ہیں جبکہ اس کے برعکس باقی علاقوں میں 6 تک اساتذہ ہوتے ہیں۔

وفا وزیر کا کہنا تھا کہ صرف ایسا نہیں ہے کہ قبائلی اضلاع میں اساتذہ کی کمی ہے بلکہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہاں پرگھوسٹ اساتذہ کی تعداد بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا، میری ایک خاتون سے بات ہوئی تھی جوکہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھتی ہے تو اس نےمجھے کہا کہ وہ بی ایڈ پاس کرنے کے بعد استانی بنے گی کیونکہ اس وقت اساتذہ کے لیے بی ایڈ کی ڈگری لازمی تھی اب جب حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میٹرک پاس طلبا کو اساتذہ بھرتی کریں گے تو اس سے لوگوں میں تعلیم حاصل کرنے کی دلچسپی ختم ہوگی کہ میٹرک پاس کرکے ویسے بھی استاد لگ جانا ہے پڑھ کے کیا کرنا ہے؟،

وفا وزیر نے حکومت سے مطالبہ کہ قبائلی اضلاع میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے میٹرک تعلیم اساتذہ کو بھرتی کرنے کی بجائے وہاں کے سکولوں کا معیار اچھا بنائے، وہاں جو سکول پہلے سے ہیں ان کو مناسب سہولیات دیں، جو اساتذہ سکول نہیں آتے ان کے خلاف کاروائی کریں، جن سکول کی بلڈنگ نہیں ہے انکو دوبارہ بنائیں اور چیک اینڈ بیلنس کا ایک مکمل نظام بنائے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button