صحت انصاف کارڈ کی توسیع پر خوشی سے نہال قبائلی عوام کیا کہتے ہیں؟

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں خانزیب محسود کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ہسپتال اور بنیادی صحت کے مراکز مکمل  طور پر تباہ ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ یہ سہولت دینے سے قبل ان کی بحالی پر توجہ دے تاکہ قبائلی عوام کو مفت علاج کی سہولت اپنے ہی علاقوں میں میسر آسکے۔

وفاقی حکومت نے 18 ستمبر کو صحت سہولت کارڈ کا منصوبے کو قبائلی اضلاع تک توسیع دینے کااعلان کیا تھا تاہم ابتدائی طور پر مفت علاج کی اس سہولت سے شمالی وزیرستان کے عوام کو محروم رکھا گیا ہے۔

صحت انصاف کارڈ منصوبے کے مطابق کارڈ کے حامل خاندان حکومت کی جانب سے مقرر کردہ مختلف ہسپتالوں میں 5 لاکھ 40 ہزار روپے تک کا مفت علاج کرواسکتے ہیں۔

صحت انصاف کارڈ کا یہ منصوبہ خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت نے متعارف کروایا تھا حکومتی اعدادوشمار کے مطابق جس کے تحت صوبے کے ڈھائی لاکھ خاندانوں کو علاج کی مفت سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

حکومتی اعلان کے مطابق صوبے کے دیگر حصوں کی طرح قبائلی اضلاع میں بھی نصف سے زائد آبادی کو مفت علاج کی یہ سہولت مہیا کی جائے گی جس سے وہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نجی و سرکاری ہسپتالوں میں استفادہ کرسکیں گے۔

تاہم منصوبے کے صوبائی ڈائریکٹر محمد ریاض کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ یہ سہولت شمالی وزیرستان کے عوام کو فی الحال نہیں دی جارہی جس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کارڈز بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کیلئے سروے میں شامل خاندانوں کو دیے جارہے ہیں جو بدقسمتی سے شمالی وزیرستان میں بدامنی کے باعث نہیں کیا گیا تھا۔

محمد ریاض کےمطابق جنوبی وزیرستان کے بعض علاقے بھی اس سروے سے رہ گئے تھے جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر انہیں بھی یہ سہولت نہیں دی جارہی۔

بقول ان کے حکومت کی کوشش ہے کہ اس سلسلے میں جلد از جلد دوسرا سروے کرایا جائے یا پھر مستحق گھرانوں کو مفت علاج کی سہولت دیے کیلئے کوئی دوسری راہ نکالی جائے۔

دوسری جانب علاج کی مفت سہولت ملنے پر قبائلی عوام نے خوشی و مسرت کا اظہار کیا ہے۔

لدھا (جنوبی وزیرستان) کے رہائشی خانزیب محسود کا صحت انصاف کارڈ کی سہولت کو قبائلی عوام کے زخموں پر پھاہا یا مرہم قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس کا زیادہ فائدہ تب ہوگا جب قبائلی عوام کو ان کے اپنے اضلاع میں ہی یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں خانزیب محسود کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ہسپتال اور بنیادی صحت کے مراکز مکمل  طور پر تباہ ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ یہ سہولت دینے سے قبل ان کی بحالی پر توجہ دے تاکہ قبائلی عوام کو مفت علاج کی سہولت اپنے ہی علاقوں میں میسر آسکے۔

اسی طرح قبائلی ضلع کرم سے تعلق رکھنے والی ٹرائبل یوتھ موومنٹ کی ممبر نائلہ الطاف نے بھی منصوبے کی قبائلی اضلاع تک توسیع پر خوشی کے ساتھ ساتھ اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ یہ کارڈز مستحقین کو نہیں ملیں گے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں نائلہ الطاف کا کہنا تھا کہ کارڈز کی تقسیم کیلئے معیاری سروے کی ضرورت ہے۔

بقول ان کے قبائلی علاقوں کے 80 فیصد سے زائد لوگ علاج معالجے کی استطاعت نہیں رکھتے اور یہی لوگ اس سہولت کے اصل اور زیادہ حقدار ہیں، اس سے قبل ایک سروے ضروری ہے تاکہ یہ کارڈز ان گھرانوں کو ملیں جن کا کوئی کفیل نہ ہو۔

نائلہ الطاف کے مطابق جن لوگوں کا بس چلتا ہے اور وہ اپنا علاج معالجہ خود کراسکتے ہیں تو ایسے لوگوں کو بھی چاہیے کہ ان کارڈز کے حصول سے گریز کریں تاکہ یہ مستحقین کو مل سکیں۔

قبائلی ضلع اورکزئی سے تعلق رکھنے والے قبائلی مشر امیر اورکزئی کی نظر میں حکومت کو صحت انصاف کارڈ قبائلی علاقوں میں ہر گھرانے کو دینے چاہئیں جو سارے بدامنی اور اس کیخلاف آپریشنوں سے متاثر ہیں اور جن کا حق بنتا ہے کہ یہ سہولت انہیں دی جائے۔

امیر اورکزئی کا کہنا تھا کہ جنگ سے سارے قبائلی عوام متاثر ہوئے، ان کے روزگار چھن گئے، تعلیم متاثر ہوئی، گھر ہسپتال اور سڑکیں ویراں ہوگئیں لیکن حکومت کی جانب سے تاحال کوئی لائق ستائش و تحسین امداد یا تعاون ان کے ساتھ نہیں کیا گیا اس لیے اب اگر مفت علاج کی یہ سہولت سب کو دی جاتی ہے تو ان کی مشکلات ایک حد تک کم ہوسکتی ہیں۔

موجودہ حکومت سے قبل ن لیگ کی وفاقی حکومت کی جانب سے بھی ملک کے دیگر کئی اضلاع کی طرح قبائلی اضلاع خیبر اور باجوڑ میں بھی وزیراعظم صحت کارڈ کے نام سے غریب و نادار گھرانوں کو مفت علاج کا منسوبہ شروع کیا گیا تھا۔

وزیراعظم صحت کارڈ کے حوالے سے باجوڑ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹر رشید خان کا کہنا تھا کہ منصوبے سے عوام کو کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا کیونکہ وہ مخصوص لوگوں اور مخصوص بیماریوں کیلئے جاری کیا گیا پروگرام تھا جس کے تحت پیسے بھی علاج معالجے اور اس کے ایک طویل تصدیقی عمل کے بعد ہی ملتے تھے جبکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ حکومت سرے سے پیسہ دینے سے انکار ہی کر دیتی ہے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں ڈاکٹر رشید خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم صحت کارڈ کے تحت امراض قلب، گردوں کی بیماری، کالے یرقان اور ان جیسی بعض دیگر خطرناک بیماریوں کا مفت علاج کروایا جاتا تھا تاہم مسئلہ یہ ہے کہ علاج معالجے کیلئے مریض کو تیمرگرہ یا پشاور کے ہسپتال جانا پڑتا تھا۔

قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے رہائشی سمند خان وزیراعظم صحت کارڈ حاصل کرچکے ہیں تاہم انہیں شکایت ہے کہ بیماری کے باوجود وہ اس سے استفادہ نہیں کر سکے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں 70 سالہ سمند خان کا کہنا تھا کہ 8 سال قبل ایک کھائی میں گرنے سے ان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی تھی ایل آر ایچ پشاور سے جس کا علاج کرنے کے بعد وہ تندرست ہوئے تاہم کچھ عرصے سے انہیں اسی ٹانگ میں درد کی شکایت ہونے لگی جس پر وزیراعظم صحت کارڈ لے کر وہ رحمان میڈیکل کمپیکس، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور اس کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال بھی گئے لیکن ہر جگہ مفت علاج کروانے سے انکار کے ساتھ انہیں بتایا گیا کہ پہلے پیسوں کا بندوبست کرو جو حکومت آپ کو بعد میں ادا کرے گی لیکن بعض لوگوں نے مجھے ڈرا دیا تھا کہ حکومت شاید یہ پیسے دینے سے انکار ہی کردے۔

بقول ان کے اس ساری دوڑ و دھوپ میں ان کے اپنے 40 ہزار روپے خرچ ہوئے لیکن وزیراعظم صحت کارڈ کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

دوسری جانب محمد ریاض کا صحت انصاف کارڈ منصوبے کو وزیراعظم صحت کارڈ سے بہتر قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ عوام بہ آسانی اس سے فائدہ حاصل  کرسکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ اس میں کئی بیماریوں کے علاج کی سہولت بھی شامل ہے۔

بقول ان کے صحت انصاف کارڈ کے تحت دل و گردوں کے ہر طرح کے مرض کا علاج اور سرجری، ہر طرح کے یرقان، عرق النساء، شوگر، چھوٹے اور بڑے ایکسیڈنٹ کا علاج اور یہاں تک کہ جوڑوں کی ٹرانسپلانٹیشن کی سہولت بھی شامل کی گئی ہے۔

محمد ریاض کے مطابق محولہ بالا سہولیات کے علاوہ گھروں میں زچگی کی روک  تھام کیلئے بھی صحت انصاف کارڈ میں ایک الگ سہولت رکھی گئی ہے جس کے تحت ہسپتالوں میں بچے جننے والی ماؤں کو کرائے کی مد میں ایک ہزار روپے دیے جائیں گے جبکہ اسی طرح دیگر اضلاع سے پشاور کے کسی ہسپتال آمد کی صورت بھی مریض کو دو ہزار روپے کرائے کی مد میں دیے جائیں گے۔

محمد ریاض کے مطابق ہسپتالوں میں داخل ہونے کی صورت میں مریضوں کو ڈھائی سو روپے یومیہ ادا کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی دیگر گھریلو ضروریات پوری کر سکیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button