حکام کی غفلت، ٹھیکیدار کے لالچ نے کوئلے کی کانوں کو مزدوروں کا قبرستان بنادیا

سی جے طارق عزیز

"میرے والد اور چچا کے جنازے بیک وقت گھر پہنچے تو ہمارے گھر والوں پر قیامت ٹوٹ پڑی، لیکن یہ کہانی صرف ہمارے گھر کی نہیں، یہاں ہر دوسرے ، تیسرے گھر میں ایسا ہی ہوا ہے”

یہ بات گزشتہ 3 سالوں سے اپنے بھائی کے ہمراہ کوئٹہ میں کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرنے والے شانگلہ کے 23 سالہ اکرام نے بتائی جو اس وقت رمضان گزارنے گھر آیا ہوا ہے۔

خیبر پختونخواہ کا دور دراز ضلع شانگلہ جہاں ایک طرف پسماندگی اور غربت کے سائے ہیں تو دوسری جانب وہاں روزگار کے مواقع بھی نہ ہونے کے برابر ہیں-

شانگلہ کا اکثریتی حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے اور صرف 32 فیصد قابل کاشت زمین کی وجہ سے کاشتکاری پر بھی گزر بسر ناممکن ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کے نوجوان جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو کوئلے کی کانوں میں مزدوری ان کا انتظار کررہی ہوتی ہے جہاں سے اکثر اوقات ان کا جنازہ واپس آاتا ہے-

شانگلہ میں کوئلہ مزدوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم "کول مائنز ورکرز ویلفئیر ایسوسی ایشن” (سموا) کے مطابق گزشتہ مارچ سے اب تک کوئلہ کی کانوں میں تقریبا 123 مزدور جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 97 کا تعلق شانگلہ سے ہے-

اکرام کا کہنا تھا  کہ شانگلہ میں غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے یہاں کوئی ذریعہ معاش موجود نہیں، اسلئے مجبوری میں کان میں اتر کر اپنی زندگی داؤ پہ لگا لیتے ہیں-

والد اور چچا کی کوئلہ کان میں موت کے باوجود وہ خود، اس کا بڑا بھائی اور حادثے میں مرنے والے چچا کا بیٹا بھی وہیں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

"ہمارے علاقے میں بہت سارے لوگ ان حادثات میں مرچکے ہیں لیکن موت کے ڈر سے اپنے بچوں اور خاندان کو بھوک سےمرتا نہیں دیکھ سکتے، اور دوسرا کوئی کام یہاں نہیں ہے۔ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور اس سے ایک لمحہ اگے پیچھے نہں ہوسکتا”- اکرام اپنے علاقے کے دوسرے لوگوں کی طرح یہ سب کچھ تقدیر پر چھوڑ کر اس قاتل کان میں گھس چکا ہے-

کان میں حفاظتی اقدامات کے بارے میں اکرام نے کہا کہ کوئلہ کان میں کسی قسم کے کوئی حفاظتی انتظامات موجود نہیں اور نہ ہی مناسب معاوضہ دیا جارہا ہے-

گزشتہ کئی سالوں سے کوئلے کی مزدوری کرنے والے شانگلہ ہی کے ایک اور مزدور جانی ملک نے ٹی این این کو بتایا،

” ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ اس میں زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہیں لیکن یہاں دوسرے کاموں کی نسبت معاضہ زیادہ ملتا ہے، دوسرا ذریعہ معاش نہ ہونے کی وجہ سے ہی ہم اس سخت مزدوری کا انتخاب کرتے ہیں۔”

جانی ملک نے کوئلہ مزدور کے حالات بیان کرتے ہوئے مزید کہا سرکاری اور بڑی کمپنیوں کے ہاں علاج اور ابتدائی طبی امداد کی سہولت ہوتی ہے لیکن اکثر جگہوں پہ دور پرائیویٹ ہسپتال لے جاتے ہوئے شدید مشکل پیش آتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ مزدوروں کیلئے کسی قسم کی کوئی سہولت موجود نہیں اور ائے دن کے واقعات میں ہمارے لوگ مر جاتے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی”۔

رحمان زیب عرف خٹک کی جوانی بھی اس ظلم کا شکار بنی اور مستقل معذوری کا شکار ہوچکا ہے کوئلہ کان میں ٹرالی لگنے سے اس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے، انہوں نے اپنی بے بسی کا اظہار کچھ یوں کیا ” تیرہ سالوں سے بستر پر پڑا ہوں، کمپنی نے ابتدائی طبی امداد اور کرایہ دےکر اپنی جان چھڑالی اور اب بے یارو مددگار لوگوں کی امداد کا منتظر ہوں اور اسی پر گزر بسر ہورہی ہے”

اپنے معذور بھائی کی لاچاری اور بے بسی دیکھنے کے باوجود رحمان زیب کے بھائی اپنی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال کر کوئلہ کی کانوں میں مزدوری کررہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کوئی اور مواقع نہ ہونے کی وجہ سے میرے بھائی کو مجبورا کوئلے کا کام  کرنا پڑتا ہے، گھر آکر بیٹھ جائے تو کھایئں گے کیسے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئلہ کان میں کسی قسم کی سہولت یا گیس کی لیکیج کی اطلاع وغیرہ کا کوئی انتظام موجود نہیں-

شانگلہ کے مقامی صحافی موسی یوسفزئی نے اس حوالے سے ٹی این این کو بتایا کہ کان کے مزدوروں کو کسی قسم کی سہولت نہیں،  پینے کے گندہ پانی اور مزدوروں کےلئے نان ہایجینیک ماحول کی وجہ سے بیماریاں بھی پھیل جاتی ہیں لیکن  نان پروفیشنل اور عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار کی وجہ سے علاج کی بجائے ان کی زندگی مزید خطرے میں پڑجاتی ہے”

موسی یوسفزئی کا کہنا تھا کہ مین منیجر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ گیس لیکیج کو چیک کرے اور خطرے کی صورت میں کام بند کرے لیکن منیجر کی لاپرواہی کی وجہ سے ایسا کچھ نہیں کیا جاتا اور مزدوروں کو موت کے کنویں میں دھکیلا جاتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ منیجر کی کم تنخواہ ان کے کام میں عدم دلچسپی کا باعث بنتی ہے اور نتیجتا غریب مزدور کا جنازہ گھر پہنچ جاتا ہے-

ڈاکٹر لطیف الرحمن 25 سال تک حیدرآباد میں ان مزدوروں کے علاج معالجے سے وابستہ رہے جن کا کہنا تھا کہ یہ کام بہت سخت ہے اور مزدوروں کو مختلف بیماریاں ہوتی ہیں، کام کے ذیادہ سخت ہونے کی وجہ سے کام کو چھوڑنے کے بعد بھی ان کے کمر کی تکلیف رہتی ہے جبکہ ہزاروں مزدور ہیپاٹائٹس سی اور پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں-

ذرائع کے مطابق ان لاشوں کے پیچھے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ یونین کے جتنے عہدیدار ہیں یا متعلقہ محکمے کے لوگ، یہ ٹھیکے بالواسطہ یا بلاواسطہ ان لوگوں نے لئے ہوئے ہیں اور یہی ان مزدوروں کےلئے کسی ریلیف، حفاظتی اقدامات یا پورا معاوضہ ملنے میں رکاوٹ ہیں-

مزدوروں کے حقوق اور ریلیف کے ذمہ دار محکمہ اور لیبر یونین کے عہددیدار سارے ٹھیکیدار بھی ہیں اور دودھ کی رکھوالی بلی سے کروانے کا نتیجہ واضح ہے کہ وہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ مزدور کو کوئی فائدہ ملے-

کوئلہ ٹھیکدار اور متحدہ لیبر فیڈریشن کے رہنما حاجی امان اللہ ساری ذمہ داری مزدور پر ڈال کر کہتے ہیں کہ فیڈریشن نے تمام ٹھیکداروں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہے اور ہر سال جون کے مہینے میں اس میں تبدیلی کی جاتی ہے، اس ایگریمنٹ میں میں مزدور کی اجرت اور زخمی یا مرنے کی صورت میں معاوضہ کا ذکر ہے اور ٹھیکدار اس بات کا پابند ہے کہ وہ کسی مزدور سے مقرر کردہ اجرت سے کم پر کام نہیں کروائے گا  لیکن ہمارے مزدور کم اجرت ہر کام کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں-

حاجی امان اللہ کہتے ہیں کہ اس کام میں خطرہ بہرحال ہر جگہ موجود رہتا ہے لیکن حیدرآباد میں مزدوروں کیلئے کافی سہولیات موجود ہیں جبکہ اس کے برعکس درہ آدم خیل، ہنگو اور پنجاب میں حالت بہت ہی ابتر ہے جہاں پر ناقص انتظامات کی وجہ سے مزدوروں کے مرنے کا سلسلہ جاری ہے-

حاجی امان اللہ متلقہ محکمے کو زیادہ قصور وار سمجھتے ہیں جس کے اہلکار دفتر سے نکل کر سائٹ دیکھنے کےلئے تیار نہیں اور نہ ٹھکیدار ایسا چاہتے ہیں دونوں آپس میں مک مکا کرلیتے ہیں اور مزدوروں کی جانیں ضائع ہوتی رہتی ہیں۔

انسپکٹوریٹ آف مائننگ کے ایک اہلکار(سیفٹی افیسر) نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ٹی این این کو بتایا ” محکمہ کی کارکردگی بالکل  صفر ہے،  کسی کمپنی کو لیز دینے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ کمپنی اپنی مکمل سیفٹی، معاوضے وغیرہ کے حوالے سے اپنی پالیسی سے اگاہ کرے لیکن  ایسا کچھ نہیں کیا جا رہا اور لوگوں کی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں”

ان کامزید کہنا تھا کہ لوگوں میں آگاہی بہت ضروری ہے، سیاسی لوگ اس میں اپنا کردار ادا کریں، محکمے پر پریشر ڈالا جائے کہ وہ غیر قانونی اور خطرناک کانوں کے خلاف کارروائی کرے۔

گفتگو کے دوران متعلقہ اہلکار نے بتایا کہ زیادہ تر کمپنیاں اور لیز ہمارے محکمے کے لوگوں کے ساتھ ہیں جس کی وجہ سے اہلکار کوئی ایکشن لینے کیلئے تیار بھی نہیں-

2018 میں کان کنوں کے حقوق کےلئے کول مائن ورکر ویلفیئر ایسوسی ایشن(سموا) کے نام سے ایک تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا، سموا کے ایگزیگٹیو باڈی کے ممبر عابد یار نے اس حوالے سے بتایا،

” ہم نے 2018 میں اس تنظیم کی بنیاد رکھی اور مزدوروں کے حقوق کےلئے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا، اور بعد میں صوبائی وزیر اطلاعات اور شانگلہ سے منتخب ایم پی اے شوکت یوسفزئی نے ان سے وعدہ کیا کہ کان کنوں کے حقوق کےلئے جلد قانون سازی کی جائے گی-

انہوں نے مزید کہا کہ ان مزدوروں کے بہت سارے مسائل ہیں لیکن ہم نے حکومتی نمائندے سے اہم نکات پر بات کی جن میں کان میں حفاظتی اقدامات، مرنے والے مزدوروں کےلئے ملکی سطح پر یکساں معاوضہ، خطرناک اور غیر قانونی کانوں کی بندش جیسے مطالبات شامل تھے لیکن تاحال لاشوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور کوئی قانون سازی نہ ہوسکی-

2000 سے 2018 تک شانگلہ کے تین ہزار سے زائد مزدور جاں بحق ہوچکے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی-

انہوں نے سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا کہ کوئلہ کان کے غریب مزدوروں کے قتل عام پر سوموٹو ایکشن لے اور مزید بچوں کو یتیم ہونے سے بچایا جائے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button