‘اکیلی عورت درندہ مرد کے لئے ایک بے جان شے کی مانند ہے’

سی جے خدیجہ رحمٰن

زندگی میں ہر انسان کسی نہ کسی موڑ پر ایک کٹھن امتحان سے ضرور گزرتا ہے، کھبی انسان ہمت اور دلیری سے لڑتا ہے تو کھبی ہار مان کراپنے مقدر کا رونا روتا ہے۔

زندگی کے کچھ اسی طرح کے ایک امتحان سے چارسدہ کے ایک گاؤں "برکندے” میں گل مینہ نامی خاتون گزر رہی ہیں جو ایک خستہ حال مکان میں اپنے تین بچوں اور معذور شوہر کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں گل مینہ نے بتایا کہ ان کے تینوں بچےتھلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ بڑا بیٹا ذہنی طور پر معذور بھی ہے، معذور اس حد تک کہ لوگ اسے پاگل سمجھتے ہیں اور جب وہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو لوگ اس کا تمسخر اڑاتے اور اس سے طرح طرح کے ہتک آمیز کام کرواتے ہیں،  کبھی کبھار تو گلی محلے کے بچے اس پر پتھراؤ بھی کرتے ہیں۔

گل مینہ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں، بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ گاؤں کے کچھ اوباش لڑکوں نے اس کے بیٹے کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا جس کی وجہ سے گل مینہ اپنی ممتا پر پتھر رکھ کر اپنے ہی ہاتھوں سےاپنے لخت جگر کو زنجیروں سے باندھتی ہیں تا کہ وہ باہر نہ نکل سکے اور ان وحشی درندوں سے محفوظ رہے۔

اس بارے میں ہیومن رائٹ ایکٹیویسٹ وگمہ فیروز سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے تو ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح سے کریں کہ وہ ان معذور بچوں کی عزت کرنا سیکھ سکیں اور انہیں کم تر نہ جانیں ۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ والدین کو اپنی ساری توجہ اپنے معذور بچے کو دینی چاہیے تاکہ کم از کم اسے اپنے اہم جسمانی عضو کا تو خیال ہو۔

گل مینہ نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے ٹی این این کو بتایا کہ ذرائع آمدنی کا کوئی بندوبست نہیں کیونکہ ان کا شوہر مکمل طور پر معذور ہے، ماں باپ نے زبردستی گل مینہ کو معذور شوہر سے بیاہا جسے وہ اپنا مقدر مان کر زندگی گزار رہی ہیں۔

شوہر کمانے کے قابل نہیں، گل مینہ پرائے گھروں میں کام کرتی ہیں اور جب کام پر جانا ہوتا ہے تو اپنے معذور بیٹےکو زنجیروں سے باندھ کر جاتی ہیں، بقول ان  کے غربت و افلاس کی وجہ سے رشتہ داروں کا ان سے قطع تعلق ہے۔

جبری شادی بارے وگمہ فیروز نے بتایا کہ جبری شادی ہمارے معاشرے کا وہ ناسور ہے جو بعد میں انتہائی خوفناک روپ دھار کر نسلوں کو تباہ کر دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی رضا بہت اہم ہے کیونکہ بعد میں صرف عورت ہی ہوتی ہے جو اپنے بنیادی حقوق کو قربان کر کے برداشت کرتی ہے، عورت کو اپنی مرضی ظاہر کرنے کا موقعہ دینا چاہیے، اسلام بھی یہی حکم دیتا ہے، یہی وہ راستہ ہے جس سے ایک معاشرے کا استحکام ممکن ہے۔

گل مینہ نے ٹی این این کو بتایا کہ اکیلی عورت درندہ مرد کے لئے ایک بے جان شے کی مانند ہے جسے وہ اپنی ملکیت سمجھتا ہے، گل مینہ کے ساتھ کچھ ایسے ہتک آمیز واقعات بھی ہوئے جنہیں بیان کرتے ان کی زبان اٹک جاتی اور آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری ہو جاتی ہے۔

ان واقعات میں الٹا ان کی عزت پر انگلی اٹھی لیکن انہوں نے ہمت اور حوصلے سے حالات کا مقابلہ کیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ایسا رویہ اکثر ہمارے ملکان یعنی امیر طبقے میں پایا جاتا ہے، جو نوکروں کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور انکار کی صورت کام سے چھٹی کرانے کے بہانے تراشے جاتے ہیں۔

گھریلو خواتین ملازماؤں کی ہراسانی بارے وگمہ فیروز نے بتایا کہ گھروں میں کام کرنے والی عورتیں بھی ہمارے معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں، ان کے بھی ایسے ہی بنیادی حقوق ہیں جو معاشرے میں ہر دوسرے انسان کے ہوتے ہیں، اگر ان کے ساتھ ایسے ہی ہتک آمیز واقعات ہوں جن سے ان کے حقوق کو جسمانی یا معاشی طور پر پامال کیا جائے تو ان کو قانونی طریقہ کار سے روشناس کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے حق کے لۓ آواز اٹھائیں۔

انھوں نے بتایا کہ ایک طرف جب ہمارے معاشرے کو ایسے واقعات کی خبر ملتی ہے تو ان کی مذمت کی جاتی ہے لیکن جب مجرم ان کے دوستوں یا رشتہ دار میں سے نکلتا ہے تو پھر ایسے واقعات کو زمین میں گاڑ دیتے ہیں اور قصور وار کام والی کو ٹھہراتے ہیں۔

کام والی عورتوں کی حفاظت اور حوصلے کے لیے معاشرے کو چاہیے کی وہ اس کمزور طبقے کی حمایت کرے اور ایسی درندگی کو ہر لحظ سے ختم کرنے میں ان کا ساتھ دے۔

گل مینہ کے مطابق جب وہ کام سے آتی ہیں تو پھر سلائی کرتی ہیں جس کی آمدنی سے وہ گھر چلا رہی ہیں لیکن گل مینہ کی اس آمدنی کے باوجود اس کے بچے علاج سے محروم ہیں۔

حکومت نے صرف ایک ماہ فری علاج کروایا اور پھر پیسوں سے علاج کروانے کا مطا لبہ کیا، جس کی گل مینہ طاقت نہیں رکھتیں۔

گل مینہ کے مطابق اگر حکومت ان کے بچوں کو فری علاج مہیا کرے تو ان کے کندھوں کا بوجھ اتر جائے گا یا پھر حکومت انہیں کچھ پیسے فراہم کرے جس سے وہ اپنے گاؤں میں سلاٸی کڑھائی کا سنٹر کھول کر گاؤں کی لڑکیوں کو سلائی کڑائی سیکھا سکیں اور اس کی آمدنی سے اپنے بچوں کا علاج کر سکیں۔

 

وگمہ فیروز کی نظر میں حکومت کو کام کرنے والی عورتوں اور معذور افراد کی حفاظت کے لیے ایک علیحدہ بل پاس کرنا چاہیے جس میں واضح طور پر ہر قسم کی ہراساںی کے لیے سزا کا تعین کیا جائے۔

حکومت کو چاہیے کی ایسے قوانین کو عملی جامہ پہنا کر اس پر باقاعدہ عمل درآمد یقینی بنائے۔

اس کے علاوہ حکومت کو ایسے مواقع فراہم کرنا چاہیے جہاں گل مینہ کی طرح ہزاروں عورتیں عزت سے کما سکیں اور اپنے گھر بار کی کفاالت کرسکیں۔

Show More
Back to top button