زلیخہ 70 سالہ بابے سے کیوں بیاہی گئیں؟

تارا اورکزئی

زلیخہ نے ماں سے اجازت لی اور دوپٹہ اوڑھ کر تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے گھر سے باہر نکلی، اسے ایک سہیلی کے ہاں پہنچنا تھا جہاں باس نے فائلز چیک کرنے کیلئےاسے بلایا تھا۔

کچھ ہی عرصہ قبل مگر کوششِ بسیار کے بعد اسے یہ ملازمت ملی تھی، یہ اس کی پہلی جاب تھی جو بہ امر مجبوری اسے کرنا ہی تھی پیچھے گھر میں اس کی ماں اور اکلوتے بھائی کا وہی اکلوتا سہارا جو تھی۔

زلیخہ کا تعلق ضلع کرم کے ایک معزز گھرانے سے ہے علاقے میں شعیہ سنی فسادات کے دوران جس کے والد، ایک بھائی اور دو چچا اپنی زندگی کی بازی ہارگئے تھے۔

ایک ہی ساتھ اتنے سہاروں کے چھوٹنے کے بعد غربت و افلاس نے ان کے گھر میں ڈیرے ڈال دیے تھے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ مالی حالت دگرگوں ہوتی رہی لیکن  زلیخہ نے ہمت نہیں ہاری، آخر وہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی تھی، ملازمت کرکے اپنا اور اپنے عزیزوں کا پیٹ پال سکتی تھی، نوکری کی تلاش  شروع کی اور کافی جدوجہد کے بعد اسے ایک این جی او میں نوکری مل گئی، آج اسی این جی او کے مالک نے اسے بلایا تھا۔

اس کے دل و دماغ میں طرح طرح کے وسوسے آرہے تھے، اسے ڈر بھی لگ رہا تھا تاہم وہ خود کو دلاسہ دیتی رہی کہ سہیلی کے گھر ہی تو بلایا ہے، اس کی سہیلی بھی اسی این جی او میں جاب کررہی تھی۔

این جی او کا سربراہ اس کے کام سے خوش بھی تو بہت تھا کیونکہ زلیخہ خوب محنت و لگن سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھی لیکن یہ سب اس کی بھول تھی۔

زلیخہ حسین بہت تھی اور اس کی یہی خوبی اسے ذلت و رسوائی کے ایک ایسی کھائی میں دکھیلنے والی تھی جہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا، کیوں؟ کیونکہ ادارے کا سربراہ اس کی توقعات کے برعکس ایک شیطان تھا پہلے ہی دن سے جس کی نظر اس کی عزت پر تھی۔

زلیخہ جب اپنی سہیلی کے گھر پہنچی تو وہ اسے ایک کمرے میں لے گئی جہاں اس نے باس کو پہلے سے منتظر پایا، سہیلی چائے پانی کا بندوبست کرنے کے بہانے باہر نکل گئی۔

وہ شاید اس کیلئے تیار نہیں تھی لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ سوچتی، باس اس کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا تھا، اسے اپنے قریب لاتے ہوئے وہ کچھ سرگوشیاں کررہا تھا اور اس کے ہاتھ پاؤں لرز رہے تھے، اس کی آنکھوں میں کبھی ماں تو کبھی بھائی کی صورت پھرنے لگی، وہ ہاں کہہ سکی نہ ناں۔

اس دن اس کمرے میں شیطان جیت گیا تھا جبکہ انسانیت ہار گئی تھی۔

لیکن اپنا سب سے قیمتی سرمایہ حیات لٹانے کے باوجود اسی ملی تو صرف اپنی تنخواہ، وہ سارے وعدے، عہد و پیمان جھوٹ کے سوا کچھ نہ تھے، بھلا شکاری کو بھی کبھی اپنے شکار سے ہمدردی رہی ہے، لوٹنے والوں نے بھی بھلا کبھی لٹنے والوں کو کچھ لوٹایا ہے، کبھی نہیں!

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں صوبائی محتسب رخشندہ ناز کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان میں گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کے لئے مختلف قوانین موجود ہیں، فیکٹری میں کام کرنے والی خواتین کے لئے فیکٹری ایکٹ موجود ہے اسی طرح سرکاری اور غیرسرکاری اداروں میں کام کرنے والی خواتین کے تحفظ کے لئے بھی قوانین موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عورتوں کو کام کی جگہوں پرہراساں کیے جانے کے حوالے سے قانون 2010ء میں آیا، 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے بھی اس قانون کو اپنی اپنی جگہوں پہ اس قانون کو اپنایا، پنجاب میں 2012 میں، بلوچستان میں 2016ء میں اور خیبرپختونخوا میں 2018ء میں یہ قانون نافذ کیا گیا۔

کچھ ماہ اور گزر گئے، کیسے گزرے وہ وہی اور اس کا خدا جانتا ہے، پھر وہ ہوا جو اس نے کبھی سوچا نہیں تھا، اس کی ملازمت ختم ہو گئی لیکن اپنی پاکدامنی اور ملازمت کھونے کے بعد بھی اس کی آزمائش ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ مزید کٹھن امتحانات ابھی اس کے منتظر تھے۔

نوکری چلی گئی تھی اس کا اور گھر والوں کا پیٹ تو ساتھ ہی تھا اس لیے رزق حلال کمانے کے لیے زلیخہ گھر میں دستکاری کا کام کرنے لگی۔

پھر یوں ہوا کہ ایک بہت ہی اچھے گھرانے سے اس کا رشتہ آگیا، اس کی والدہ خوش کہ بیٹی کے بھاگ جاگ ہی اٹھے لیکن بدقسمت ماں کو کیا معلوم کہ جلد ہی بدنامی ان کے گھر کی دہلیز پار کرے گی اور وہ خاندان اور معاشرے میں کسی کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گی۔

شادی سے قبل منگیتر کا رویہ اسے بہت بھاتا جو اس سے میٹھی اور پیار بھری باتیں کرتا اور اس کا بہت خیال رکھتا تھا لیکن پھر بھی ایک جانا انجانا سا خوف اسے گھیرے رکھتا، وہ بے چین ہوجاتی تھی، اس کے سینے میں ایک ایسا راز تھا جسے وہ بتانا بھی چاہتی تو کیسے بتاتی، چھپانا چاہتی تو کیسے چھپاتی، اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا بس اس نے معاملہ اپنے خدا کے سپرد کردیا۔

صوبائی محتسب رخشندہ ناز کے مطابق قانون کے تحت ہر وہ جگہ جہاں مرد اور خواتین اکٹھے کام کرتے ہوں وہاں پر جنسی ہراسانی کے خلاف ایک انکوائری کمیٹی ضرور ہونی چاہیے جس میں ایک عورت کا ہونا لازمی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ کمیٹیاں فعال رہیں کہ اس طرح خواتین کام کی جگہوں پر خود کو محفوظ سمجھیں۔

ایک سوال کے جواب میں رخشندہ ناز نے کہا کہ اگر کسی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہو تو سب سے پہلے اسے کمیٹی کو اطلاع کرنی چاہیے لیکن اگر اسے لگے کہ کمیٹی کے فیصلے سے وہ مطمئن نہیں یا وہ انکوائری پر اثرانداز ہوسکتی ہے تو وہ صوبائی محتسب کے پاس آسکتی ہے۔

انہوں نے کہا متاثرہ خاتون ہمیں خط بھیج سکتی ہے، فیس بک اور ٹیلی فون پر یا پھر کسی وکیل کے ذریعے بھی رابطہ کرسکتی ہے۔

رخشندہ ناز نے بتایا کہ ان کے دفتر کو کھلے ہوئے چارمہینے کا عرصہ کا ہوچکا ہے اور اب تک ان کے پاس 31 کیسز آچکے ہیں جن میں سے کچھ اس وجہ سے ختم ہوئے کہ وہ کورٹ میں تھے جبکہ 3 یا 4 کیسز ایسے ہیں جن میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں اور وہ بھی اختتام کو پہنچنے والے ہیں۔

دن گزرتے گئے اسے احساس ہی نہیں ہوا اور وہ دن اور رات آئی جس کے سپنے ہر لڑکی دیکھتی اور اپنی آنکھوں میں لیے پھرتی ہے۔

لیکن بدقسمت زلیخہ کی سہاگ رات نے وہ آگ لگائی جس نے اس کی چھوٹی سی دنیا کو جلا کر خاکستر کردیا، شوہر اس کا راز جان گیا تھا اور اب اس کا منہ تک دیکھنے کا روادار نہیں تھا، شادی کے اگلے ہی دن وہ اپنے گھر کے کمرے میں اوندھے منہ پڑی رہی جبکہ باہر اس کی ماں ایک نہ بجھنے والی آگ میں جلتی، مرتی اور سسکتی رہی۔

اس کے بعد باہر ہی کیا گھر کے اندر بھی زلیخہ ناروا سلوک کا نشانہ بنتی رہی، اسے کبھی موت آئی، زمین پھٹی نہ ہی آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوا، ہوا بلاآخر وہی جو ایسے حالات یا معاملات میں ہوتا ہے، ایک ستر سالہ بابے سے اس کی شادی کرا دی گئی۔

ٹی این این کو بھرائی ہوئی اور لرزتی آواز میں اپنی دلخراش کہانی سنانے کے بعد وہ خاموش ہوئی لیکن اس کی نمناک آنکھیں سو طرح کے سوالات اٹھا رہی تھیں، وہ چیخ چیخ کر پوچھ رہی تھیں کہ ذلت و رسوائی کیا صرف مجبوروں، بے کسوں اور بے سہاروں کا ہی مقدر بنتی ہے، کوئی خاتون ہی قصوروار کیوں ہوتی ہے، مرد کو طعنہ کیوں نہیں دیا جاتا، اس کے چمنِ عفت و عصمت کو تار تار کرنے والا آج بھی آزاد گھوم رہا ہے، اس کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی گئی نہ ہی معاشرے یا  قانون نے اس کی گرفت کی بلکہ وہ آج بھی کسی خونخوار بھیڑیے کی طرح جانے کس کس شکار کو تاڑ رہا ہے اور اس کی تاک میں ہے۔

صوبائی محتسب رخشندہ ناز کے مطابق اگر کوئی شخص کسی خاتون کو کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کیلئے کچھ سزائیں چھوٹی جبکہ کچھ بڑی ہیں جن میں اس کی تنزلی یا جرمانہ شامل ہیں، اس کے علاوہ اس بندے کو عہدے سے بھی ہٹایا جا سکتا ہے اور بعض کسیز میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر متاثرہ خاتون نے تھراپی وغیرہ کی ہو یا ہسپتال گئی ہو تو اس کی فیس بھی اس بندے کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

سینئر صحافی طیب آفریدی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بندوبستی علاقوں سے اس طرح کے واقعات کم ہی رپورٹ ہوتے ہیں اور جہاں تک قبائلی علاقوں کا تعلق ہے تو میرے خیال میں یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس کی ایک وجہ تو وہاں کی قدامت پسندانہ سوچ ہے جبکہ دوسری وجہ وہاں کی خواتین میں تعلیم اور شعور و آگہی کی کمی بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنسی ہراسانی کے حوالے سے قانون سازی اگرچہ ایک احسن اقدام ہے لیکن اس کے خاطر خواہ نتائج تب ہی سامنے آسکتے ہیں جب ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

"بہرحال عورت خواہ کسی بھی معاشرے کی ہو بات جب اس کی عزت و عصمت کی آئے تو وہ حساس ہی ہوتی ہے، اکثر و بیشتر لوگوں کے ڈر اور بدنامی کے خوف سے وہ بہت سی ایسی باتوں پر پردہ ڈال دیتی ہے جن کا اسے روز نہیں تو بسااوقات سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے جب کوئی خاتون اپنے ساتھ ہوئی زیادتی یا ہراسانی کے کسی واقعے کو سامنے لاتی ہے تو اسے سراہا ہی جانا چاہیے۔”، طیب آفریدی نے کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ ایسی خواتین بہادر ہی ہوتی ہیں اور ہراسانی یا زیادتی کا شکار خاتون جب پشتون خاص طور سے قبائلی پس منظر رکھتی ہو اور وہ اسے سامنے لانا چاہتی ہو تو ایسی خاتون کی ہر صورت اور ہر قیمت پر اسے عدم تحفظ کا شکار کرنے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

نوٹ: تحریر میں کردار اور مقام کے نام تبدیل کیے گئے ہیں کسی طرح کی مماثلت محض اتفاق ہی ہوسکتا ہے۔

Show More
Back to top button