شبقدر ہسپتال میں سہولیات کا فقدان، 6 سالہ لبنیٰ راستے میں دم توڑ گئی

گل محمد مومند

ضلع مومند اور شبقدر کے ہسپتالوں میں سہولیات اور ڈاکٹرز کی عدم موجودگی کے نتیجے میں 6 سالہ بچی پشاور لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئی۔

نمائندہ ٹی این این کے مطابق ضلع مومند کے تحصیل یکہ غنڈ میں گزشتہ شب قاری خوشحال کی 6 سالہ بیٹی کو سانپ نے ڈس لیا جس کو علاج کے لیے یکہ غنڈ سے شبقدر لے جایا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مومند کے ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے۔

قاری خوشحال نے ٹی این این کو بتایا کہ انکی بیٹی کو گھرمیں سانپ نے ڈس لیا جس کو علاج کے لیے رات کے 3 بجے شبقدر تحصیل ہسپتال لے جایا گیا، انہوں نے کہا، جب ہم لبنیٰ کو لے کرہسپتال پہنچ گئے تو وہاں ایک نرس اور ایک آدمی موجود تھا جوکہ ڈاکٹر معلوم نہیں ہورہا تھا جنہوں نے ہمیں بتایا کہ انکے ساتھ ہسپتال میں زہریلی جانور کے کاٹنے کے بعد جان بچانے والی ادویات اور انجکشنز نہیں ہیں،

قاری خوشحال نے یہ بھی بتایا کہ شبقدر ہسپتال کے حکام نے انہیں کہا کہ بچی کو پشاور کے ہسپتال لے جاو اور انکو ایسی ایمبولینس میں بٹھایا جس میں مریض کے لیے آکسجین کا انتظام بھی نہیں تھا۔ انہوں نے کہا جب ہم بچی کو پشاور لے کر آگئے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ لبنیٰ جاں بحق ہوچکی ہے۔

قاری خوشحال کے مطابق شبقدر کے ہسپتال میں ٹیلی فون کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے جس کے ذریعے مریض رات کے وقت کال کرکے ڈاکٹرز کو اپنے مسائل بتا سکے اور ان سے مشورے لے سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگر شبقدر کے ہسپتال میں سہولیات موجود ہوتی تو شاید انکی بچی بچ جاتی۔

دوسری جانب نمائندہ ٹی این این کی جانب سے رابطہ کرنے پرہسپتال کے ایم ایس ظاہر اللہ نے بتایا کہ انہوں نے 6 ماہ پہلے درخواست کررکھی ہے کہ زہریلے جانوروں کے کاٹنے کے بعد انسانی جان بچانے والی ادویات اور انجکشنز انہیں فراہم کئے جائیں تاہم انہیں ابھی تک نہیں دی جاسکی۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے ویکسین ہسپتالوں کو ایک طریقہ کار کے تحت دیئے جاتے ہیں جس میں تھوڑا وقت لگتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کو بھی تک نہ دی جاسکی۔

Show More
Back to top button