جہاں شعور ہو، تعلیم و روزگار ہو وہاں دہشت گردی کا تصور ممکن نہیں

سی جے رضیہ محسود

جنوبی وزیرستان میں جب طالبان راج کیخلاف حکومت پاکستان نے آپریشن راہ نجات شروع کیا تو وزیرستان کے لوگوں کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں کو اپنے گھر بار سازوسامان چھوڑ کر بے سروسامانی کی حالت میں گھروں سے نکلنا پڑا، ایسے واقعات بھی سامنے آئے کہ کسی کے جھولے میں بچے تو کسی کے گھر میں رسّی سے بندھے مویشی رہ گئے، اکثر عورتیں یہ بھول گئیں کہ میرے کتنے بچے ساتھ ہیں اور کتنے رہ گئے ہیں۔ جوان لڑکیاں دوپٹے میں ہی گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئیں، انہیں اتنا بھی وقت نہیں ملا کہ وہ برقعہ  وغیرہ اوڑھ کر نکلتیں۔ ایک عجیب سی کشمکش کی حالت تھی لوگوں کے اوسان خطا ہوگئے تھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرنا ہے اور کہاں جانا ہے اور کس کے پاس جانا ہے بس گھروں سے نکل کر بے سروسامانی کی حالت میں نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہوگئے تھے، بعض حاملہ خواتین کے راستے میں ہی بچے پیدا ہوگئے اور جو بیمار تھیں ان کو کندھوں پر اٹھایا گیا تھا لوگوں کے پاس پیسے نہیں تھے قرض وغیرہ لئے تھے اور گاڑیاں وغیرہ نہیں تھیں بس پیدل ہی لوگ روانہ تھے۔

جن کے گھر دور دراز پہاڑوں پر تھے ان کو اور بھی مشکلات سے گزرنا پڑا میلوں پیدل پہاڑی راستوں میں سفر کرنا پڑا اور جب پختہ سڑک پر آئے تو جیسے پاؤں میں طاقت ختم ہوگئی تھی۔ پیدل سفر کرنے سے اکثر لوگوں کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے تھے جنہیں جوتے اتارکر برہنہ پا سفر کرنا پڑا ۔

تحصیل لدھا سے تعلق رکھنے والی شازیہ نامی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ اپنے ایک سالہ بیٹے کو گود میں لے کر  پیدل سفر کررہی تھیں، وہ کافی تھک چکی تھیں اوپر سے سردی کا یہ عالم تھا کہ جب میں دواتوئئ (جنوبی وزیرستان میں واقع ایک علاقے کا نام ہے) پہنچی تو میرا بیٹا سردی سے مکمل نیلے رنگ کا ہو گیا تھا اور سانس نہیں لے رہا تھا۔

شازیہ کے مطابق اپنے اکلوتے بیٹے کی یہ حالت دیکھی تو انہیں مکمل یقین ہو گیا کہ ان کا بیٹا مر گیا ہے، وہاں ایک گھر میں رات گزاری، بیٹے کو یہ سمجھ کر آگ کے نزدیک رکھا کہ مر تو ویسے بھی گیا ہے تھوڑا گرم تو ہوجائے، اللہ کی قدرت دیکھیے کہ آگ کی وجہ سے جب میرا بیٹا تھوڑا گرم ہوا تو اس کے جسم نے حرکت کرنا شروع کیا، وہ ایک عجیب سی خوشی کا عالم تھا  اور جب وہ گرم ہوا تو اس کا نیلا پن ایسا آہستہ ختم ہوتا گیا اور اپنے سخ وسفید رنگ  میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا اور تقریبا دو گھنٹے کے بعد بیٹے نے ہلنا شروع کر دیا رونا شروع کر دیا۔

شاذیہ اس واقعے کو اللہ کی طرف سے ایک معجزہ قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور فورا اٹھ کے اللہ کے حضور شکرانے کے نوافل ادا کیے، یہ میری ممتا تھی کہ جس نے اپنے بیٹے کو دفن نہیں ہونے دیا اور آگ سے گرم کرنے کا جو ارادہ کیا تھا وہ درست ثابت ہوا اور میرا بیٹا ٹھیک ہوگیا۔

وہ ایک قیامت ہی تھی، جانے صغری تھی یا کبری لیکن لوگوں پر عجیب خوف طاری تھا، طالبان اور پاک آرمی کے درمیان لڑائی جاری تھی، ایسے حالات میں بھی خود غرضی کا یہ عالم تھا کہ اکثر ڈرائیور حضرات  لوگوں کی مجبوری و بے بسی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ان سے ڈبل پیسے لیتے تھے اور ان تمام مشکلات سے گزر کر جب یہ لوگ محفوظ مقامات پہنچے تو وہاں کوئی کرائے پر مکان دینے کو تیار نہیں تھا صرف اس لیے کہ یہ دہشت گرد ہیں، لوگوں نے مکانات کے کرائے بڑھا دیے لیکن مرتے کیا نہ کرتے لوگوں کو چھت چاہیے تھی کسی بھی قیمت پر راضی ہو جاتے تھے اور اکثر ایک گھر میں چھ، سات خاندان آباد ہو جاتے تھے۔

کئی لوگ ایسے تھے جن کے رشتہ دار وغیرہ کراچی، ڈی آئی خان یا ٹانک میں آباد تھے تو وہ ان کے ہاں چلے گئے لیکن کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے کھلے آسمان تلے رات گزاری کیونکہ ان کے پاس کرائے کے پیسے تھے نہ ہی ان کے رشتہ دار وغیرہ کہیں آباد تھے، حکومت نے ٹینٹ وغیرہ فراہم کئے تو اس میں بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پینے کا پانی وغیرہ نہیں ہوتا تھا۔

یہ سب حالات برداشت کرنے کے بعد جب یہ لوگ تھوڑے سنبھلے تو اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کروانے کا شوق پیدا ہو گیا مگر وہی دہشت گردی کا لیبل آڑے آجاتا تھا اور بچوں کو سکولوں میں داخلے نہیں ملتے تھے، پشاور، کراچی، اسلام آباد یا دوسرے شہر  روزگار کی خاطرجانا پڑتا تو راستے میں ان کے شناختی کارڈ چیک کیے جاتے، انہیں مشتبہ سجمھا جاتا، قصور  ان کا صرف اتنا تھا کہ ان کا تعلق وزیرستان سے تھا۔

یہی نہیں، حکومت کی طرف سے جو راشن کا انتظام کیا گیا تھا اس کے لئے ایک جگہ مخصوص تھی جہاں لوگوں کو کھلے میدان میں کئی کئی راتیں گزارنا پڑتی تھیں، لوگوں نے محنت مزدوری کرکے چینگچی وغیرہ خرید لئے اور گھر کا خرچہ اٹھانے لگے۔

یہ کٹھن سفر تقریبا دس سال جاری رہا پھر جب حالات سنبھل گئے لوگوں کو واپس وزیرستان بھیجنے کا وقت آیا تو لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑنے لگی مگر جب وہ خرگئی رجسٹریشن اور وطن کارڈ کے حصول کے لیے جانے لگے تو کافی مشکلات ہوتی تھیں۔

وطن کارڈ کے ساتھ لوگوں نے ایک بے چینی یہ بھی محسوس کی کہ جو دوبئی یا دوسرے ممالک میں روزگار کی غرض سے مقیم تھے تو وہ اس رجسٹریشن اور وطن کارڈ سے رہ گئے جس کی وجہ سے وہ وزیرستان نہیں جاسکتے تھے، لوگوں میں بے چینی پھیلنے لگی مگر بھلا ہو حکومت کا جس نے جلد ہی وطن کارڈ معطل کر دیا۔

اسی طرح جگہ جگہ پر چیک پوسٹ وغیرہ بنائے گئے تھے جہاں لوگوں کو گاڑی سے اتر کر پیدل لائن کی صورت میں جانا پڑتا تھا اور کافی لمبا چوڑا انتظار کرنا پڑتا تھا اور یہ تقریبا ہر دوسرے کلومیٹر پر چیک پوسٹ ہوتا تھا اور یہی طریقہ دہرایا جاتا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑی آفت جوان لوگوں کے گلے پڑی وہ لینڈ مائنز کی تھی، لینڈ مائنز سے بعض عورتیں، بچے، مرد اور مویشی معذور ہوئے تو کئی مر بھی گئے اور تقریبا آج تک لینڈ مائنز کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

ڈویلپمنٹ کے بھی بہت سے کام ہوئے، وزیرستان میں راہ نجات کے بعد بہتر کام ہوئے ہیں مگر لوگوں کو صرف بلڈنگ ہی ملی، سکولوں اور ہسپتالوں میں اسٹاف کا نہ ہونا اور لوگوں کو تعلیم اور صحت کے حوالے سے بے حد مشکلات، غربت الگ، اجڑے ویران گھر الگ، لوگوں نے محنت مزدوری کرکے جو پیسے کمائے تھے وہ اپنے گھروں کی تعمیر و مرمت میں لگوا دیئے، مختلف بیماریاں جو بارود کی وجہ سے پیھلتی ہیں لوگ ان کا شکار ہوئے جن میں خارش اور سکین کے امراض قابل ذکر ہیں، آنکھوں کی بیماریاں بھی پھیلنے لگیں۔

لیکن ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی غیر موجودگی کے باعث مریضوں کو ٹانک، ڈی آئی خان، رزمک، بنوں، پشاور، اسلام آباد یا دوسرے شہروں کی طرف لے جانا پڑتا ہے، سکولوں میں بھی سٹاف موجود نہیں۔

اب جبکہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں مرج کر دیا گیا ہے لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو مرجرکے فوائد سے آگاہ نہیں بلکہ وزیرستان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کو مرجر کے نام کا بھی پتہ نہیں مگر لوگ آواز اٹھا رہے ہیں وہ تعلیم اور صحت اور سیروسیاحت کی سہولیات چاہتے ہیں، لوگ اپنے بچوں کے لئے تعلیم مانگ رہے ہیں، اساتذہ مانگ رہے ہیں، ہسپتالوں میں علاج معالجے کے لیے ڈاکٹر مانگ رہے ہیں، فیمیل ایجوکیشن کے لیے فیمیل سٹاف مانگ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو گھوسٹ اساتذہ ہیں اب وہ اپنی حاضری یقینی بنائیں تاکہ ہماری بچیاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ جہاں پر لوگوں میں شعور ہو ،تعلیم ہو اور روزگار ہو وہاں پر دہشت گردی کا تصور بھی ممکن نہیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button