ٹھیکیدار کو خسارہ، مردان کی پنک بس سروس بیٹھ گئی

عبد الستار

مردان میں حکومت جاپان کے تعاون سے خواتین کے لئے چلنے والی پنک بسیں خسارے کے باعث ٹھیکدارا نے کھڑی کردیں۔

نمائندہ ٹین این این کے مطابق پنک بس سروس رواں سال اپریل میں صرف خواتین اور طالبات کو شہر کے اندر سکول اور کالج اور دیگر مقامات تک لیجانے کے لئے شروع کی گئی تھی لیکن اب یہ بسیں ایک مقامی پٹرول پمپ میں کھڑی کردی گئی ہیں۔

ٹی این این کی جانب سے کو شش کی گئی تو معلوم ہوا کہ صوبائی حکومت سے ٹھیکے پر لی گئی سات بسیں ٹھیکدار کو گھاٹے میں پڑ رہی ہیں، بسوں کا خرچہ آمدن سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے گاڑیاں کھڑی جبکہ ڈرائیورز اور خاتون کنڈیکٹروں کو گھر بھیج دیاگیا ہے۔

ٹی این این کی جانب سے رابطے پر اس حوالے سے پنک بسں سروس کے پروگرام منیجر گوہر ایوب نے بتایا کہ ٹھیکدار کو پچھلے پانچ ماہ سے نقصان ہورہا ہے کیونکہ صوبائی حکومت کی ہدایت کے مطابق پنک بسوں میں صرف عام خواتین اور طالبات سفر کرسکتی ہیں جبکہ مردان کا کلچر مختلف ہے کیونکہ زیادہ تر خواتین بغیرمرد کے سفر نہیں کرتیں جس کی وجہ سے پنک بسوں میں سواریوں کی تعداد نہ ہونے کے برابرہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنک بس کا کرایہ بیس روپے فی سواری ہے جس سے بس کا ایندھن، ڈرائیور اور کنڈیکٹر کی تنخوا پوری ہو جاتی ہے، ایک پنک بس کا خرچہ اوسطاً پانچ ہزار روپے جبکہ یومیہ آمدن دوہزار سے پچیس سو روپے تک ہوتی ہے جس سے ماہانہ لاکھوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

گوہر ایوب کے مطابق اگر صوبائی حکومت تیل کی مد میں سبسڈی یا خواتین کے ساتھ موجود مرد سواری کو بھی بٹھانے کی اجازت دے تو شاید یہ منصوبہ چل سکے۔

پروگرام منیجر کے مطابق ایبٹ آباد میں پنک بسیں چل رہی ہیں کیونکہ وہاں کے کلچر اور مردان کی ثقافت میں کافی فرق ہے، ایبٹ آباد میں خواتین اکیلی باہر جاسکتی ہیں لیکن مردان میں ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بسوں کے ساتھ فی میل کنڈیکٹر رکھنے میں بھی کافی دشواری ہے اور اکثر لڑکیاں اس جاب کے لئے تیار نہیں ہیں۔

پنک بس میں کام کرنے والی فی میل کنڈیکٹر اقصٰی نے ٹی این این کو بتایا کہ انہوں نے مشکل سے چار ماہ گزارے اور اب پنک بس میں کوئی فی میل کنڈیکٹر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے اور دوسرے ماہ میں ایگریمنٹ کے مطابق سولہ ہزار رتنخوا ملی جبکہ تیسر ے اور چوتھے ماہ تنخواہ آدھی کرکے آٹھ ہزار کردی گئی، یہی نہیں ٹھیکدار نے خرچہ پورا نہ ہونے پر بسوں میں مردسواریوں کو بھی لے جانا شروع کردیا جس پر ہم فی میل کنڈیکٹروں کے لئے پنک بسوں میں جاب کرنا مشکل ہوگیا تھا تو میں نے اور دوسری فی میل کنڈیکٹر نے بھی کام چھوڑ دیا۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button