جھیل سیف الملوک کی سیر کرانے والی 75 تا 86 ماڈل جیپ

طارق اللہ

پاکستانی فوج کے نیلام کی ہوئی 75 سے لے کر 1986 ماڈل کی جیپ آپ کو کاغان اور ناران پہنچ کر سڑکوں پر نظر آئیں گے۔ جی ہاں! ان جیپوں کے بغیر ناران میں واقع جھیل سیف الملوک کی سیر کرنا ناممکن ہے۔
ان جیپوں کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ یہ کہاں سے آئے، یہ تیار کیسے کیے جاتے ہیں اور ان کی قیمت کیا ہے۔ ان تمام سوالات کے جوابات جاننے کےلئے یہ مضمون پیش خدمت ہے۔

جھیل سیف الملوک زمین کی سطح سے 10,577فٹ بلندی پرواقع ہے جہاں تک چھوٹی گاڑیوں کے ذریعے پہنچنا ناممکن ہے۔ اس کے لئے وہاں فور بائی فور جیپ استعمال ہوتی ہے جن میں 75 ماڈل سے لے کر 86 ماڈل تک کی جیپ پائی جاتی ہے جو ناران بازار سے جھیل سیف لملوک تک 2500 روپے کرایہ لیتی ہے جو کہ سرکاری نرخ ہے۔

جھیل کی جانب سفر کرتے ہوئے گپ شپ کے دوران جیپ ڈرائیور نے بتایا کہ جیپ دو سے تین لاکھ روپے میں آتی ہے جس پر مزید خرچہ کرکے، گاڑیوں کو لمبا کیا جاتا ہے، مختلف سامان لگاتے ہیں، انہیں اس خطرناک روڈ پر چلنے کے قابل بنایا جاتا ہے، سات سے آٹھ لاکھ روپے خرچ آتا ہے جس کے بعد یہ تیار ہوجاتی ہے تاہم ساتھ ہی گاڑی کی قیمت دس سے لےکر پندرہ لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔

ناران میں ان جیپوں کی تعداد 6 ہزار سے زائد ہے، مظفر آباد، کشمیر، بالاکوٹ، گڑھی حبیب اللہ اور سب سے زیادہ چیلاس سے آتی ہیں تاہم سب کی آخری منزل ناران ہی ہوتی ہے۔ یہ گاڑیاں چھوٹی عید سے قبل ناران کا رخ کرتی ہیں اور پھر محرم کو واپس اپنی جگہوں پر چلی جاتی ہے ہیں۔ جھیل سیف الملوک کے علاوہ بھی آس پاس کے علاقوں میں اسی جیپ کا استعمال زیادہ ہے۔

ضلع مانسہرہ سے 119 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک پرکشش علاقہ ناران کاغان جہاں پر سردیوں میں 10فٹ کے قریب برف پڑتی ہے۔ گرمیوں میں سیاح اس طرف رخ کرنا شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ یہاں جون جولائی میں بھی یہاں کا درجہ حرارت بیس ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر نہیں جاتا، صبح وشام ہلکی سی بارش سے ناران کی سٹرکیں اور گلیاں ہمیشہ نم رہتی ہیں جس طرف بھی نظر دوڑائی اونچے اونچے پہاڑ اور سبزہ زار نظر آئے، کشادہ سڑکیں اور دونوں اطراف سبزہ زار کو دیکھ کر سفر کی تھکان کا پتہ ہی نہیں چلتا  ناران میں داخل ہوتے ہی ناران بازار شروع ہوجاتا ہے جو کہ تقریبا ایک کلومیٹر پرمحیط ہے جسمیں ہر قسم کی چیز آسانی سے مل جاتی ہے۔ بازار میں جاکر مختلف ہوٹلوں سے لذیذ کھانوں کی خوشبو بندے کو کچھ نہ کچھ کھانے پر مجبور کردیتی ہے۔

ناران میں جہاں بھی جاؤ آپ کو بیل، گائے اور بکری وغیرہ بالکل نظر نہیں آئیں گے کیونکہ زیادہ برفباری اور سردی کی وجہ سے لوگ مویشی نہیں پالتے، الٹا خود موسم سرما کی آمد پر ایبٹ آباد اور دیگر علاقوں میں جاکر بستے ہیں، سردیوں میں یہاں کی تمام دکانیں وغیرہ برف سے ڈھکی ہوتی ہیں اور جب گرمیوں میں دوکاندار واپس آتے ہیں تبھی ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کی دوکانوں کو برف باری کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔

ناران میں کونسی چیزیں خاص ہیں؟
ناران میں خالص دودھ سے بنی چائے ملنا غنیمت ہے کیونکہ خالص دودھ دوسری جہگوں سے لانا مشکل ہوتا ہے، دوسری خاص بات ناران کی یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اپنی زمینیں کسی بھی قیمت پر بیچنے کو تیار نہیں ہوتے، یہاں کے لوگوں نے ایک تنظیم بنائی ہے اور اس میں فیصلے وغیرہ کئے جاتے ہیں، ایک فیصلہ یہ بھی ہے کہ کوئی اپنی جائیداد نہیں بیچے گا جس پر سب متفق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی باہر کا بندہ ناران کاغان میں جائیداد نہیں لے سکتا لیکن لیز پر لے سکتا ہے اور اپنا کاروبار شروع کرسکتا ہے۔ یہاں کے لوگوں میں اتفاق بہت ہے اور ایک دوسرے کے علاوہ سیاحوں کے ساتھ بھی پیار و محبت سے پیش آتے ہیں۔

سیاحوں کو کس چیز سے زیادہ شکایت ہے؟
ناران میں خوراک بہت مہنگا ہے ایک کپ چائے چالیس اور دودھ پتی چائے کی قیمت ساٹھ روپے ہے۔ اسی طرح ایک روٹی کی قیمت تیس روپے ہے جو کہ دو تین نوالوں میں ختم ہوجاتی ہے جبکہ مختلف کھانوں کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ اگر کسی ہوٹل میں کھانا کھانا ہے تو پانچ سو روپے سروس ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے۔ اک بڑا مسئلہ پارکینگ کا بھی ہے، مقامی لوگوں نے یہاں پر پارکینگ کا بندوبست تو کیا ہے لیکن وہ سیاحوں سے منہ مانگی قیمت وصول کرتے ہیں۔ ناران کاغان میں چیک اینڈ بیلینس نہیں ہے، حکومت کو چاہیے کہ یہاں پر نرخوں اور دیگر چیزوں کا خیال رکھے اور لوگوں کو ان پر سختی سے عمل کرنے کا پابند بنائے۔

ناران کے بازار سے نکل کر قدرتی نظاروں کو دیکھنے کے لئے جھیل سیف الملوک اور آنسو جھیل جانا ہر کسی کی خواہش ہوتی ہےجہاں پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں ساری تھکان ختم کر دیتی ہیں، چاروں اطراف لمبے چوڑے چٹانوں کے بیچ ایک پرکشش نظارہ ہوتا ہے، بالکل سامنے جھیل اور جھیل سے آگے برف پوش پہاڑ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں، جھیل کنارے گھوڑے اور شاہین پالنے والے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں ان کے ساتھ ایک تصویر سو روپے کا پڑتا ہے۔ جھیل کی دائیں طرف ایک خوبصورت گراونڈ بھی ہے جس کے بیچ میں ایک باریش آدمی چائے اور چیپس بیچتا ہے۔ ایک کپ چائے سو روپے کی ہوتی ہے لیکن بابا کے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے اور اس مقام سے جھیل سیف الملکوک کا نظارہ چائے کا مزہ دوبالا کر دیتی ہے،  چائے والے بابا کے علاوہ مقامی لوگ جگہ جگہ پر سیاحوں کو جھیل سیف الملوک اور آنسو جھیل کے قصے سناتے ہیں، سو سے دو سو روپے ان کے بھی بنتے ہیں۔

ہم پاکستانیوں پر اللہ کا رحم ہے کہ اتنی حسین سرزمین ہمیں نصیب کی ہے اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس کی خوبصورتی کو مزید نکھاریں نہ کہ گندگی وغیرہ پھیلائیں۔

جھیل سیف الملکوک سے آنسو جھیل گھوڑوں کے ذریعے یا پیدل جانا پڑتا ہے، انسو جھیل زمین کی سطح سے 13,927 فٹ اوپر واقع ہے جہاں تک آنے جانے کا راستہ چھ سے آٹھ گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے۔ یہ سفر گھوڑوں کے ذریعے طے کرنے کے بعد بیس منٹ کا راستہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس جگہ سے آگے گھوڑے بھی نہیں جاسکتے یہ ایک ایڈوینچر جگہ ہے جہاں پر اگر کسی نے جانا ہو تو صبح سویرے جھیل سیف الملوک جاکر وہاں سے سفر شروع کرنا پڑتا ہے کیونکہ اندھیرے میں وہاں جانے میں مشکل پڑ سکتی ہے۔

ناران سے بابو سر ٹاپ او ر پھر بابوسر ٹاپ سے نیچے جا کہ یہ راستہ کوہستان، سوات، گلگت اور چترال کی طرف جاتا ہے۔ یہ تمام شاہراہیں ایک دوسرے سے منسلک ہیں جس پر چاہے جتنا بھی سفر کر لو اس کی خوبصورتی کم نہیں ہوتی کیونکہ راستے میں جگہ جگہ آبشار، سبزہ زار اور پہاڑوں کے بیچ میں سڑک، ایک دلکش منظر ہے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button