تعلیم کے لئے کام کرنے والی ملالہ یوسفزئی کے اپنے ضلعے میں لڑکیاں تعلیم سے محروم کیوں؟

 

سی جے طارق عزیز سے

دنیا کے دیگر حصوں میں جہاں عورتیں اپنی قابلیت کا لوہا منوارہی ہیں وہاں پاکستان کی خواتین کسی بھی میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کررہی ہے۔معاشرے میں اچھا مقام حاصل کرنے کیلئے تعلیم انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی مقام حاصل کرنا اور اپنے مقصد تک پہنچنا ممکن ہی نہیں لیکن بدقسمتی سے اکیسوں صدی میں خیبرپختونخواہ کا ایک ضلع ایسا بھی ہے جس کے اکثریتی بچیوں کیلئے بنیادی تعلیم کی سہولت بھی موجود نہیں۔

دنیا بھر میں تعلیم کیلئے کام کرنے والی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے لیکن اس کے باوجود تعلیم کے میدان میں ضلع شانگلہ کی لڑکیوں کی قسمت نہیں بدلی، ان بدقسمت علاقوں میں سے ایک ضلعی ہیڈ کوارٹر الپوری سے تقریبا 30 کلومیٹر جبکہ تحصیل ہیڈکوارٹر بشام سے تقریبا 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کیڑی نام کا ایک گاوں بھی شامل ہے جس کے زیادہ تر لوگ سعودی عرب اور دبئی میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

تقریبا 2000 آبادی پر مشتمل اس گاوں میں ایک پرائمری اور ایک مڈل سکول ہے لیکن وہ بھی لڑکوں کے لئے ہے۔ اس گاوں کی لڑکیاں پانچویں جماعت تک تو لڑکوں کے سکول میں پڑھ لیتی ہے لیکن پھر اس کے بعد سکول نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ  پاتی اور مجبورا انہیں سکول چھوڑنا پڑتا ہے۔

پرائیویٹ سکول میں پڑھنے والی جماعت پنجم کی طالبہ افشا سے اس کی تاثرات جاننے کی کوشش کی تو اس نے کہا  ‘میرا بہت شوق ہے کہ آگے پڑھو،لیکن سکول نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن دکھائی نہیں دے رہا،میری بہنیں بھی پنجم تک پڑھ کر سکول چھوڑ چکی ہے کیونکہ یہاں لڑکیوں کیلئے کوئی سکول نہیں، اس بارے میں جب ہم نے پرائیویٹ سکول انتظامیہ سے بات کی کہ وہ اگے کلاسز شروع کیوں نہیں کررہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کررہے ہیں لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے فی الحال ایسا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

اکیسویں صدی میں جہاں ملک کے باقی حصوں میں عورتیں برابری کے حقوق کا مطالبہ کررہی ہے وہاں کیڑی کی بچیاں بنیادی تعلیم سے محروم ہے۔ ہر سال 50 سے 60 لڑکیاں پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کرلیتی ہے لیکن اس کے بعد آگے پڑھنے کا ارمان اس وقت دفن ہوجاتا ہے جب وہ پانچویں کا امتحان پاس کرکے جان لیتی ہے کہ اگے پڑھنے کیلئے تو کوئی سکول ہی موجود نہیں۔

اس حوالے سے جب گاوں کے لوگوں لوگوں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہماری بچیاں بہت قابل ہے، پڑھائی کے ساتھ انکا بہت شوق بھی ہے لیکن سکول نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ٹیلنٹ ضایع ہورہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمارے بچیوں کی بہترین مستقبل کے لئے سکول کا بندوبست کیا جائے کیونکہ جب ایک ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو پورا خاندان تعلیم یافتہ ہوگا۔

ضلع شانگلہ کا علاقہ کیڑی بھی پاکستان کا حصہ ہے تو آئین پاکستان کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کیلئے مفت بنیادی تعلیم کی فراہمی کا یقینی بنائے۔

Show More
Back to top button