پشاور میں لڑکیوں کے لئے سائیکل ریلی کا مقصد کیا تھا؟

خالدہ نیاز

"پشاور میں لڑکیوں کے لئے سائیکل ریلی کے انعقاد کا مقصد انہیں بااختیار بنانا اور ایک ایسی لڑکی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا جو روزانہ سائیکل پرسکول جاتی تھی پر اسکو مختلف طرح سے تنگ کیا جاتا تھا۔”

ان خیالات کا اظہار قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والی زرتاشیہ جمال نے ٹی این این کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔

زرتاشیہ جمال 2012 سے پاک ڈیویلپمنٹ مشن کے نام سے ایک غیرسرکاری ادارہ چلا رہی ہیں جو خواتین، بچوں، نوجواں اور خواجہ سراؤ کے حقوق کیلئے کام کرتا ہے۔

زرتاشیہ جمال نے ٹی این این کو بتایا ” ایک بچی روزانہ سائیکل پر حیات آباد سے سکول جاتی تھی جسکو راستے میں تنگ کیا جاتا تھا تو اس کے بعد ہم نے دو اور اداروں کے ساتھ ملکر فیصلہ کیا کہ اگر اس لڑکی کی حمایت میں باقی لڑکیاں بھی سائیکل چلائیں تو اس سے کمیونٹی کو بہت فائدہ ہوگا اور اس لڑکی کو حوصلہ ملے گا، اس مقصد کے لئے ہم نے ایک سائیکل ریلی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جس کے لئے ہمارے پاس 100 سے اوپر لڑکیوں نے رجسٹریشن کرائی،،

زرتاشیہ جمال نے کہا کہ ہمارے ساتھ اس ریلی کو منعقد کرنے والے ایک ادارے نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا اور میڈیا میں خبریں آنے کے بعد چند مقامی سیاستدانوں اور مولویوں نے اس کی مزاحمت کی جس کے بعد حکومت نے ہم سے کہا کہ حالات خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو ہم نے یہ ریلی منسوخ کی۔

زرتاشیہ جمال نے کہا کہ انہوں نے سائیکل ریلی تو معطل کردی تاہم اس کیس کو عدالت لے کرگئے جہاں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کو چاہیئے تھا کہ انکا ساتھ دیتی لیکن حکومت نے اُن چند افراد کی بات مانی اور انکو سائیکل ریلی سے روک دیا،عدالت میں کیس کی سماعت جاری ہے اور چند دن میں اس کا فیصلہ ہوجائے گا۔

زرتاشیہ جمال نے ٹی این این کو بتایا کہ ان کا ادارہ قبائلی اضلاع میں بھی خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنا چاہتا ہے جس کے لئے انہوں نے کئی ایک منصوبے تیار کئے ہیں۔

انہوں نے کہا "قبائلی اضلاع میں خواتین کے لئے لیڈی ڈاکٹرز موجود نہیں جبکہ گھر والے خواتین کو مرد ڈاکٹروں کے پاس نہیں لے جاتے تو اس وجہ سے قبائلی خواتین کو صحت کے بہت سے مسائل کا سامنا ہے”

زرتاشیہ جمال نے بتایا کہ انکا ادارہ قبائلی اضلاع میں صحت اور تعلیم پرکام کرنا چاہتا ہے۔

زرتاشیہ کے بقول اپنے ادارے سے پہلے دوسرے ادارے کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہیں پتہ چلا کہ قبائلی خواتین کو صحت کے بہت سارے مسائل کا سامنا ہے جس کے بعد سے وہ کوشش کررہی ہیں کہ حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کریں جس کے تحت خواتین ڈاکٹرز کو قبائلی اضلاع میں تعینات کیا جائے تاکہ وہاں کی خواتین کو صحت کی بہترین سہولیات دی جاسکیں۔

"قبائلی اضلاع بہت خوبصورت ہیں تاہم ابھی تک کسی نے وہ علاقے صحیح طریقے سے نہیں دیکھے تو ہم چاہ رہے ہیں کہ ملک کے دوسرے علاقوں کے طالبعلموں کو وہاں لیکر جائیں اور انکو دکھائیں کہ قبائلی اضلاع کس قدر خوبصورت ہیں اور مشکل دور گزرنے کے باوجود قبائل کتنے باہمت لوگ ہیں۔”

قبائلی اضلاع میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے زرتاشیہ کا کہنا تھا کہ وہاں پر لڑکیوں کے لئے تعلیم کا حصول کافی مشکل ہے کیونکہ اول تو انکو گھر سے پڑھنے کی اجازت نہیں ملتی اور پھر اگر اجازت مل بھی جائے تو سکول نہیں ہوتے جسکی وجہ سے اکثر بچیاں تعلیم کے حصول سے رہ جاتی ہیں۔ "،

"ابھی میں نے قبائلی ضلع خیبر کا دورہ کیا تو مجھے پتہ چلا کہ وہاں پر پرائمری لیول تک تو سکول موجود ہیں تاہم مڈل سکولوں کی بہت کمی ہے۔”

زرتاشیہ جمال کہتی ہیں کہ لڑکیوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک لڑکی کی تعلیم ایک پورے خاندان کی تعلیم ہے۔

اپنی تعلیم کے حوالے سے زرتاشیہ نے ٹی این این کو بتایا کہ انکے والد فوج میں ملازمت کرتے تھے تو اس وجہ سے انہوں نے ملک کے دوسرے حصوں میں زیادہ وقت گزارا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ انکے والد نے تعلیم حاصل کرنے میں انکی بہت مدد کی، خاندان والوں نے یہ کہہ کر رکاوٹ ڈالنےکی کوشش ضرور کی کہ یہ تو لڑکی ہے، بیچلرز کافی ہے آگے تعلیم حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہے لیکن انہوں نے اپنے حق کے لئے آواز اٹھائی جس میں انکے والد نے مدد کی اور اعلیٰ تعلیم دلوائی اور 18 سال نوکری کرنے بعد وہ آج اپنا ادارہ بھی چلا رہی ہیں۔

زرتاشیہ جمال کہتی ہیں کہ "قبائلی علاقوں میں خواتین کو اپنے بنیادی حقوق سے بہت دور رکھا گیا ہے کیونکہ بدقسمتی سے لڑکیوں کو تعلیم نہیں دلوائی جاتی اور جب لڑکیاں تعلیم یافتہ نہیں ہونگی تو انکو اپنے بنیادی حقوق کا کیسے پتہ چلے گا۔”

زرتاشیہ نے بتایا کہ خواتین کو نہ صرف تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے بلکہ رشتہ کرتے وقت ان سے پوچھا تک نہیں جاتا بس گھر کے مرد باہر رشتہ طے کردیتے ہیں اور گھر آکر لڑکی کو بتادیا جاتا ہے فلاں بندے کے ساتھ تمہاری شادی طے کردی ہے اور ساتھ میں بتادیا جاتا ہے اب اس گھر سے تمہارا جنازہ ہی نکلے۔

گھر، بچوں اور کام کو مناسب وقت دینے کے حوالے سے زرتاشیہ کہتی ہیں ان کے لئے سب سے پہلے انکے بچے اور گھر ہیں جنکو وہ مکمل وقت دیتی ہیں، بچوں اور باقی گھر والوں کے حقوق کا خیال رکھتی ہیں اور اس کے بعد وہ اپنے کام کو بھی مناسب وقت دیتی ہیں، انکے بقول تعلیم حاصل کرنے بعد ایک عورت اس قابل ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے گھر کو اور باہر کے کام کو مناسب وقت دے پائے۔

زرتاشیہ جمال نے بتایا کہ نوکریاں اب بہت کم ہوگئی ہیں اورخواتین کو اکثر باہر کام کرنے کی بھی اجازت نہیں ملتی تو ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ ایسے منصوبے شروع کرنے پہ کام کررہی ہیں جن کی بدولت خواتین کو بااختیار بنایا جاسکے اور وہ گھر بیٹھے اپنا کاروبار کرسکیں۔

زرتاشیہ جمال کہتی ہیں کہ اگرچہ پہلے انکے والد اور اب انکے شوہر انہیں سپورٹ کررہے ہیں تاہم خاندان کی جانب سے انکے لئے مشکلات اب بھی ہیں۔

"ہمارے خاندان کی عورتیں جب سوشل میڈیا پر ہماری کوئی سرگرمی دیکھتی ہیں تو کہتی ہیں کہ یہ ہمارے خاندان کی نہیں ہے، اس کے علاوہ بھائیوں کو بھی یہ بات زیادہ پسند نہیں ہے کہ ہماری بہن کیوں باہر نکل کر کام کررہی ہے لیکن میں اپنے والد اور شوہر کی مدد کی وجہ سے کام کررہی ہوں کیونکہ اگر ایک عورت واقعی کام کرنا چاہتی ہے تو کوئی اسے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔”

انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ سب سے پہلے تعلیم پر توجہ دیں کیونکہ تعلیم ہی کی بدولت وہ اپنے بنیادی حقوق سے آگاہ اور اپنے مسائل کا حل بھی تلاش کرسکتی ہیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button