کیا صرف دن منانے سے مزدوروں کو حقوق مل جائیں گے؟

 

خالدہ نیاز

نوشہرہ سے پشاور دفتر آتے ہوئے روز مختلف مناظر دیکھتی ہوں، لمبی لمبی گاڑیوں میں بیٹھے ایسے لوگ بھی دیکھتی ہوں جنہیں باہر کی خشک اور گرم ہوا تک نہیں لگتی لیکن اس دوران میری آنکھوں کے سامنے سے چند ایسے مناظر گزرتے ہیں جنکو دیکھ دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔

انتہائی ضعیف بوڑھے محنت کش جو رزق کمانے کے لئے سڑکوں پرریڑھیاں لگائے ہوتے ہیں جن کے لاچار اور بوڑھا وجود اس قابل تک نہیں ہوتے کہ وہ خود چل بھی سکیں لیکن پھر بھی وہ اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالنے کے لئے صبح سے لیکر شام تک یونہی سڑک پر کھڑے ہوتے ہیں چاہے دھوپ ہو یا بارش۔

راستے میں آتے ہوئے دلہ زاک روڈ پر میں روز ایک ایسا منظر دیکھتی ہوں جو میں بھلائے نہیں بھلا سکتی۔ سڑک کنارے نہر بہتی ہے جس کے دونوں اطراف محنت کشوں نے اپنی ریڑھیاں لگائی ہوتی ہیں لیکن سڑک کے دونوں کنارے ایسے لوگوں کی بھی ایک قطار ہوتی ہے جو اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ شاید آج انکو مزدوری مل جائے گی۔

کسی کے ہاتھ میں پینٹنگ کا سامان ہوتا ہے تو کوئی بیلچہ اس امید پہ اٹھائے ہوتا ہے کہ اب کوئی گاڑی سے اترکر آئے گا اور انہیں ساتھ لے جائے گا اور یوں آج انکو خالی ہاتھ گھر جانا نہیں پڑے گا لیکن ہرایک کو روزانہ مزدوری مل نہیں پاتی اور یوں تھک ہار کر وہ واپس چلا جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں ایسا منظر صرف دلہ زاک روڈ پر نہیں بلکہ ہر گاؤں اور ہر شہر میں آپکو دیکھنے کو ملے گا۔

آج یکم مئی ہے یعنی مزدوروں کا عالمی دن جو 1886ء سے ہرسال پوری دنیا میں منایاجاتا ہے، یوم مزدور منانے کا مقصد پوری دنیا کی مزدور برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہوتا ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف دن منانے سے مزدوروں کے مسائل حل ہوجائیں گے؟ کیا انہیں اپنے سارے حقوق مل جائیں گے ؟ شاید ہی کیا جواب یقیناَ نفی میں ہے۔

یوم مزدور کے موقع پر سیاستدان بھی اپنی سیاست چمکاتے ہوئے سٹیج پر بڑے بڑے دعوے تو کرلیتے ہیں لیکن گھر یا ایوان جاکر وہ اپنے سب وعدے بھول جاتے ہیں۔

دن منانے سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے تو ایسے مواقعے مہیا کئے جائیں جن سے مزدور کے بچے فاقوں سے بچ جائیں اور پھر ایسے قوانین بنائے جائیں جو مزدوروں کو حقوق کی فراہمی یقینی بنا سکیں۔

اگر بات قوانین کی کی جائے تو ہمارے ہاں قوانین بھی موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے ان قوانین پر عمل درآمد کون کرتا ہے؟ مزدور کے لئے کم سے کم اجرت 15 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے لیکن بہت ساری جگہوں پر مزدور کو یہ اجرت مل نہیں پاتی۔

اول تو مزدور کو مزدوری نہیں ملتی اور اب رہی سہی کسر مہنگائی نے پوری کردی ہے، آجکل ہمارے ملک میں جس قدر مہنگائی بڑھ گئی ہے اس میں امیر آدمی مشکل سے گزارا کررہاہے، محنت کش اور مزدور کیسے کرے گا؟ مزدور کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔

مزدور اگر جائے تو کہاں جائے؟ وہ اپنے بچوں کو تین وقت کی روٹی کھلا نہیں سکتا کتابیں اور یونیفارم کہاں سے دلوائے، بوڑھے ماں باپ کے لئے دوائیں کیسے خریدے کیونکہ اب تو دوائیوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

مزدور چاہے وہ کوئی ریڑھی والا ہو یا دفترمیں کام کرنے والا ہو وہ مزدور ہی ہوتا ہے کیونکہ دفتر میں کام کرنے والا بھی رزق کمانے کے لئے پورا دن دفتر میں گزارتا ہے اور اپنے باس کی جلی کٹی سنتا ہے۔ پھر اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسکے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور وہ نوکری چلے جانے کے ڈر سے کچھ بول بھی نہیں پاتا۔

کیا مزدورکا بیٹا بھی مزدور ہی بنے گا کیا اسے ڈاکٹر یا کچھ اور بننے کا حق حاصل نہیں ہے؟ مزدور تب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کو اس کے حقوق نہیں مل جاتے لیکن حقوق حاصل کرنے کے لئے مزدور کو آواز اٹھانا پڑے گی، مزدور کو حکومت اور متعلقہ اداروں کو مجبور کرنا پڑے گا کہ اس کے حقوق پامال ہورہے ہیں لہذا اس کو اپنے حقوق دیئے جائیں۔

Show More
Back to top button