عمران خان نے صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ایمل ولی خان

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں وزیر صحت اور ان کے محافظوں کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر ضیا الدین پر بہیمانہ تشدد اور ان کے ہسپتال داخلے پر پابندی کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کر کے ملوث ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

اس حوالے سے جاری ایک بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے عمران خان کی ٹیم میں غنڈے وزراء شامل ہیں جو اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرنے والوں کو تشدد کے ذریعے مطالبات واپس لینے پر مجبور کر رہے ہیں۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ صورتحال واضح ہے کہ وزیر صحت نے ینگ ڈاکٹرز پر حملہ کیا اور اپنے غنڈوں کو تشدد کا حکم دیا۔

انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز آج صرف موجودہ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ہڑتالوں پر ہیں اور صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ایمرجنسی سروسز معطل ہیں۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ نوشیروان برکی کو نوازنے کیلئے عمران خان نے صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اب ڈاکٹروں کی تذلیل اور ان پر تشدد کے ذریعے انہیں موقف تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صوبے کی تاریخ کی ناکام اور بدترین حکومت ہے اور سول مارشل لاءکے بغل بچہ حکمران تشدد کے ذریعے لوگوں کو دبانے پر مجبور کر رہے ہیں۔

واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عہدوں سے قطع نظر تمام ملزموں کے خلاف کارروائی کی جائے اور وزیر صحت اور نوشیروان برکی کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button