خیبرپختونخوا ڈاکٹر کونسل کا وزیر صحت کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان

 

خیبرپختونخوا ڈاکٹر کونسل نے سرجیکل وارڈ میں اسسٹنٹ پروفیسر کو مبینہ طور پر زد و کوب کرنے والے صوبائی وزیر صحت اور ان کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف مقدمہ درج نہ کیے جانے پر صوبے بھر کے تمام ہسپتالوں اور نجی کلینکس میں ہڑتال کا اعلان کردیا۔

کے پی ڈی ایس کے رکن ڈاکٹر سراج نے میڈیا کو بتایا کہ ’وزیر صحت ڈاکٹر حشام انعام اللہ خان اور ان کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے تک تمام طبی مراکز میں ہڑتال جاری رہے گی،

انہوں نے بتایا کہ ’ہڑتال سے متعلق فیصلہ کے پی ڈی سی کے اجلاس میں لیا گیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے پر تمام طبی عملہ ایک صفحے پر ہے اور غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے پر ہڑتال کردی تھی۔

بعد ازاں سراپا احتجاج ڈاکٹروں نے ٹاؤن پولیس اسٹیشن سے متصل یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک بلاک کردی۔

اس دوران ڈاکٹروں پر مشتمل پانچ رکنی ٹیم صوبائی وزیر کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے گئی تو انہیں بھی مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

کے پی ڈی سی کے رکن ڈاکٹر فاروق نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹروں اور پولیس اہلکاروں کے مابین سخت جملوں کے دوران ایک دوسرے کو دھکے بھی دیئے گئے۔

صوبائی وزیر کی جانب سے ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کو تشدد کا نشانہ بنانے سے قبل بھی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی پروفیسر نوشیروان برکی ایک اجلاس کی صدارت کررہے تھے کہ اس دوران ڈاکٹر ضیا الدین آفریدی میٹنگ ہال کا دروازہ کھولتے ہوئے داخل ہوئے اور خیبر میڈیکل کالج میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر تعینات نہ کیے جانے کا شکوہ کرنے لگے۔

اسی اثنا میں ڈاکٹر ضیاالدین نے پروفیسر نوشیروان برکی پر انڈے پھینکے جس کے بعد پولیس ڈاکٹر ضیاالدین کو میٹنگ ہال سے باہر لےگئی۔

ایک گھنٹے بعد صوبائی وزیر صحت ہسپتال پہنچے اور پروفیسر نوشیروان برکی کی درخواست پر ہسپتال انتظامیہ سے ملاقات کی۔

وزیر صحت ڈاکٹر حشام انعام کی ڈاکٹرز سے ملاقات کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جو جلد ہی جسمانی تشدد کی صورت اختیار کرگیا۔

اسی دوران وزیر صحت کے گارڈز پیچھے سے آئے اور سرجن کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر ضیاالدین کے سر اور گردن پر چوٹیں آئیں۔

بعد ازاں ڈاکٹر نوشیروان برکی پر انڈے پھینکے کے الزام میں ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

واقعے کے متعلق ڈاکٹر حشام انعام نے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے صرف ’اپنا تحفظ‘ کیا۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ’ڈاکٹر ضیاالدین کے ہاتھ میں تیز دھار والا کوئی آلہ تھا جس کے بعد ان کے گارڈز نے کے ٹی ایچ کے اسسٹنٹ پروفیسر کو روکا اور زد و کوب کیا۔

دوسری جانب ڈاکٹر ضیاالدین آفریدی نے موقف اختیار کیا کہ صوبائی وزیر صحت نے ان سے بدزبانی کی اور اپنے گارڈز کو زدوکوب کرنے کا حکم دیا۔

 

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button